Updated: September 15, 2026, 3:12 PM IST
| Kolkata
مغربی بنگال میں مسلم آئی پی ایس افسر ڈاکٹر بشریٰ بانو کا اسلامی دعائیہ کلمات استعمال کرنے پر تنازع کے بعد تبادلہ کر دیا گیا، جس پر سیاسی و سماجی حلقوں نے شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ناقدین نے اسے مذہبی آزادی اور ملک کی ’’اتحاد میں تنوع‘‘ کی روح کے منافی قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا کسی افسر کے ذاتی مذہبی اظہار کو اس کی سرکاری ذمہ داریوں سے جوڑا جانا چاہئے؟
ڈاکٹر بشریٰ بانو نے دو مرتبہ یوپی ایس سی کا امتحان پاس کیا ہے۔ تصویر: ایکس
مغربی بنگال میں مسلم آئی پی ایس افسر ڈاکٹر بشریٰ بانو کے تبادلے نے تنقید کو جنم دیا ہے۔ یہ تبادلہ اس وقت کیا گیا جب ایک ویڈیو میں اسلامی سلام اور جملے، جن میں ’’السلام علیکم‘‘، ’’ان شاء اللہ‘‘ اور ’’جزاک اللہ‘‘ شامل تھے، استعمال کرنے پر انہیں ہندوتوا سے وابستہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ڈاکٹر بشریٰ بانو، جو اس سے قبل سعودی عرب میں ملازمت کر چکی ہیں، نے یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کا امتحان دو مرتبہ کامیابی سے پاس کیا اور اس وقت آئی پی ایس افسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ جس ویڈیو کے بعد ہندوتوا حلقوں کی جانب سے ان کے خلاف ردعمل سامنے آیا، اس میں بشریٰ بانو نے اپنی بات کا آغاز ’’السلام علیکم‘‘ سے کیا، گفتگو کے دوران ’’ان شاء اللہ‘‘ کہا اور آخر میں ’’جزاک اللہ‘‘ کے الفاظ استعمال کئے۔
یہ بھی پڑھئے: جلگاؤں کارپوریشن الیکشن کے اخراجات کا گوشوارہ پیش نہ کرنے پر۱۵؍امیدواروں پر ۳؍ سال کی پابندی
ویڈیو کے پھیلنے کے بعد ہندوتوا سے وابستہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے انہیں اس بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے مبینہ طور پر ’’وندے ماترم‘‘ یا ’’جے ہند‘‘ جیسے نعرے استعمال نہیں کئے۔ سدرشن نیوز نے بھی اس معاملے میں افسر کو نشانہ بنایا اور اسے ’’یو پی ایس سی جہاد‘‘ کے عنوان سے پیش کیا۔ ’’ہندو لیگل فنڈ‘‘ نامی ایک ویب سائٹ نے آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو کے خلاف مغربی بنگال کے ہوم سیکریٹری کے پاس شکایت درج کرائی۔ اس کے اگلے ہی روز بشریٰ بانو کا تبادلہ کر دیا گیا۔
ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے اس پیش رفت پر تنقید کرتے ہوئے اس کا موازنہ برکس سربراہ اجلاس کے دوران حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر نماز یا عبادت کیلئے ایک خصوصی کمرہ قائم کئے جانے سے کیا۔ انہوں نے کہا، ’’ایک بی جے پی حکومت برکس سربراہ اجلاس میں ’پرئیر روم‘ بنا کر اپنے سیکولر ہونے کا مظاہرہ کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب ایک مسلم خاتون آئی پی ایس افسر ڈاکٹر بشریٰ بانو کو صرف ’السلام علیکم‘ اور ’جزاک اللہ‘ کہنے پر الگ تھلگ کیا جا رہا ہے، اور اس طرح گودی میڈیا ٹی وی کی جانب سے پھیلائی جانے والی نفرت کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ‘‘مہوا موئترا نے کہا، ’’بشریٰ، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ممبئی مارچ کے دوران مجھے گولی مارنے کی سازش ہے: جرنگے
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دو ہفتے قبل مہوا موئترا نے الزام لگایا تھا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی شرکت والی سرکاری تقریبات سے مغربی بنگال کے مسلم افسران کو دور رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے آئی پی ایس اور آئی اے ایس اسوسی ایشنز سے سوال کرتے ہوئے اسے ’’فرقہ وارانہ بکواس‘‘ قرار دیا تھا۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے آئی پی ایس اسوسی ایشن سے اس معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک ’’نفرت پھیلانے والے ٹی وی چینل‘‘ نے پہلے ویڈیو کو سنسنی خیز انداز میں پیش کیا، جس کے بعد افسر کو سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا، ’’اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے ریاستی حکومت نے اگلے ہی دن ان کا تبادلہ کر دیا۔ ‘‘ انہوں نے سوال کیا، ’’نریندر مودی جی، آپ کیسا ہندوستان بنا رہے ہیں ؟‘‘انہوں نے آئی پی ایس اسوسی ایشن کو بھی ٹیگ کرتے ہوئے پوچھا، ’’کیا آپ یہ سب دیکھ رہے ہیں ؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: وزیر اعظم کے پاس بہار کیلئے وقت نہیں: تیجسوی
اس تنازعے کا موازنہ اتر پردیش پولیس کے افسر انوج چودھری کے معاملے سے بھی کیا جا رہا ہے۔ انوج چودھری، جو اس وقت سنبھل میں سرکل آفیسر کے طور پر تعینات تھے، وردی میں ایک مذہبی رتھ یاترا میں شریک ہوئے اور انہیں ہاتھ میں گدا اٹھائے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ بعد ازاں انہیں ترقی دے کر فیروزآباد میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس مقرر کر دیا گیا۔ صحافی کاوش عزیز نے کہا، ’’بشریٰ بانو کو صرف ایک سلام کرنے پر منتقل کر دیا گیا، جبکہ انوج چودھری کو وردی میں مذہبی یاترا میں شامل ہونے پر ترقی دے دی گئی۔ ‘‘سابق بیوروکریٹ آشیش جوشی نے کہا، ’’ہندوستان کی اصل طاقت اس کے اتحاد میں پوشیدہ تنوع ہے۔ ‘‘انہوں نے بشریٰ بانو کو ایک ایسی افسر قرار دیا جس نے یو پی ایس سی کا امتحان دو مرتبہ پاس کیا اور سعودی عرب میں ایک آرام دہ ملازمت چھوڑ کر ملک کی خدمت کا راستہ اختیار کیا۔ جوشی نے کہا، ’’ان کے الفاظ کا انتخاب ان کے ذاتی عقیدے کی عکاسی کرتا ہے، اس ملک سے انکار کی نہیں، جس کی حفاظت کی ذمہ داری وہ نبھا رہی ہیں۔ ‘‘انہوں نے کہا، ’’ہندوستان جیسے وسیع اور متنوع ملک میں یہ باہمی بقائے باہم کوئی کمزوری نہیں بلکہ ہمارا فخر ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’بشریٰ! آپ کی خدمات کیلئے شکریہ، جزاک اللہ خیر!‘‘