• Tue, 15 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲؍ ہزار روپے تک یو پی آئی اور RuPay ڈیبٹ کارڈ ادائیگیاں فیس سے مستثنیٰ

Updated: September 15, 2026, 3:12 PM IST | New Delhi

مرکزی حکومت نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے حوالے سے اہم وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بینک اور سسٹم فراہم کرنے والے ۲؍ ہزار روپے تک کے یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) لین دین اور RuPay ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے کی جانے والی ادائیگیوں پر فیس عائد نہیں کر سکتے۔ وزارتِ خزانہ نے ادائیگی اور تصفیہ نظام ایکٹ، ۲۰۰۷ء کی دفعہ ۱۰؍ اے کے تحت یہ اطلاع جاری کی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یو پی آئی اور RuPay ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگیوں پر چارجز عائد کیے جانے کے خدشات پیدا ہوئے تھے۔ حکومت کی وضاحت سے صارفین اور چھوٹے کاروباری اداروں کو بڑی حد تک ریلیف ملنے کی توقع ہے، جبکہ بڑے مرچنٹ لین دین پر فیس کے امکانات بدستور برقرار ہیں۔

UPI. Photo: INN
یو پی آئی۔ تصویر: آئی این این

مرکزی حکومت نے پیر کو کہا کہ بینک اور سسٹم فراہم کرنے والے ۲؍ ہزار روپے تک کے یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) لین دین اور RuPay ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے کی جانے والی ادائیگیوں پر فیس عائد نہیں کر سکتے۔ مرکزی وزارتِ خزانہ نے ادائیگی اور تصفیہ نظام ایکٹ، ۲۰۰۷؍ کی دفعہ ۱۰؍ اے کے تحت یہ اطلاع جاری کی ہے۔ ۲۰۲۵-۲۶ء میں ۲؍ ہزار روپے سے زیادہ کے لین دین، فرد سے کاروباری ادارے کو کی جانے والی یو پی آئی ادائیگیوں کا صرف ۴؍ فیصد تھے، تاہم ان لین دین کی مالیت فرد سے کاروباری ادارے کو کی جانے والی یو پی آئی ادائیگیوں کی مجموعی مالیت کا تقریباً دو تہائی تھی، دی انڈین ایکسپریس نے رپورٹ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: پنک نے میکلمور پر تنقید کا دفاع کیا، کہا ’اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھائی‘

پارلیمنٹ نے اگست میں ٹیکسیشن اینڈ دیگر لاز ترمیمی بل، ۲۰۲۶ء منظور کیا تھا، جس کے تحت بینکوں اور دیگر سروس فراہم کرنے والوں کو یو پی آئی اور RuPay ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے کی جانے والی ادائیگیوں پر چارجز عائد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس قانون کے ذریعے ۲۰۰۷ء کے ادائیگی اور تصفیہ نظام ایکٹ میں ترمیم کی گئی، جس کے بعد یہ خدشات پیدا ہوئے تھے کہ مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ کا سامنا کرنے والے کاروباری ادارے مستقبل میں اس کی لاگت صارفین پر منتقل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: روس پر امریکی پابندیوں کے بل میں ہندوستان کا نام شامل کرنے کی تجویز، ۱۰۰؍ فیصد ٹیرف کا خطرہ

مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ ایک ایسی فیس ہے جو بینک لین دین کی پروسیسنگ کی لاگت پوری کرنے کیلئے کاروباری اداروں سے وصول کرتے ہیں۔ کریڈٹ کارڈ کی ادائیگیوں کیلئے یہ شرح عموماً لین دین کی مالیت کے ۱؍ سے ۳؍ فیصد تک ہوتی ہے، جبکہ ڈیبٹ کارڈ کی ادائیگیوں کیلئے یہ ۹ء۰؍ فیصد تک ہو سکتی ہے۔ تاہم، وزارتِ خزانہ نے بعد میں وضاحت کی تھی کہ یو پی آئی کے ذریعے ادائیگی کرنے والے صارفین سے کوئی ٹرانزیکشن چارج نہیں لیا جائے گا۔ وزارت نے کہا تھا کہ ’’فرد سے فرد کی تمام ٹرانزیکشنز بدستور مفت رہیں گی۔‘‘ وزارت نے یہ بھی کہا تھا کہ صرف محدود تعداد میں مرچنٹ ٹرانزیکشنز پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ عائد ہوگا۔ اس کے مطابق یہ چارجز ’’ایک مخصوص حد سے زیادہ اور معمولی شرح‘‘ پر لاگو ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK