Inquilab Logo Happiest Places to Work

دلجیت دوسانجھ کی ’’ستلج‘‘ بیرونِ ملک بھی Zee5 سے ہٹا دی گئی

Updated: July 11, 2026, 9:09 PM IST | Mumbai

اداکار دلجیت دوسانجھ کی متنازع فلم ’’ستلج‘‘ کو ہندوستان کے بعد اب زی فائیو کے بین الاقوامی پلیٹ فارم سے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ فلم چند روز قبل او ٹی ٹی پر ریلیز ہوئی تھی، لیکن پہلے ہندوستان اور اب بیرونِ ملک ناظرین کے لیے بھی دستیاب نہیں رہی۔ فلم کے ہدایت کار ہنی ٹریہن نے بین الاقوامی کیٹلاگ سے فلم ہٹائے جانے کی تصدیق کی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

اداکار اور گلوکار دلجیت دوسانجھ کی فلم ’’ستلج‘‘ ایک مرتبہ پھر تنازع کا شکار ہو گئی ہے۔ ہندوستان میں او ٹی ٹی پلیٹ فارم زی فائیو سے ہٹائے جانے کے چند روز بعد اب فلم کو بین الاقوامی سطح پر بھی زی فائیو کے کیٹلاگ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد دنیا بھر میں موجود ناظرین بھی اس فلم کو پلیٹ فارم پر نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے فلم کے مستقبل پر نئے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ’’ستلج‘‘ کو ۳؍ جولائی کو زی فائیو پر ریلیز کیا گیا تھا، لیکن صرف دو روز بعد اسے ہندوستان میں ہٹا دیا گیا۔ اس کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ کم از کم بیرونِ ملک رہنے والے ناظرین کے لیے فلم دستیاب رہے گی، تاہم اب اسے زی فائیو کے عالمی پلیٹ فارم سے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد فلم کسی بھی خطے میں اس اسٹریمنگ سروس پر دستیاب نہیں رہی۔

فلم کے ہدایت کار ہنی ٹریہن نے بین الاقوامی کیٹلاگ سے فلم ہٹائے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے مختصر طور پر ’’ہاں‘‘ میں جواب دیا، تاہم انہوں نے اس اقدام کی کوئی وجہ بیان نہیں کی۔ دوسری جانب زی فائیو نے بھی عالمی سطح پر فلم ہٹانے کے فیصلے پر باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی، جس کے باعث مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ’’ستلج‘‘، جس کا ابتدائی نام ’’پنجاب ۹۵‘‘ تھا، انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی پر مبنی ہے۔ فلم کئی برس تک سینسر بورڈ کے اعتراضات کی وجہ سے ریلیز نہیں ہو سکی تھی۔ رپورٹس کے مطابق سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (CBFC) نے فلم میں ۱۲۰؍ سے زائد ترامیم تجویز کی تھیں، تاہم بعد ازاں اسے نئے نام کے ساتھ او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: پنجاب: ’’ستلج‘‘ کی کمیونٹی اسکریننگ شروع، لوگ اسے ’سیوا‘ کہہ رہے ہیں: سویندر وکی

ہندوستان میں فلم ہٹائے جانے کے بعد مرکزی حکومت نے معاملے کو انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز ۲۰۲۱ء کے تحت قائم بین الوزارتی کمیٹی (IDC) کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا، جو او ٹی ٹی مواد سے متعلق شکایات کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق فلم کے مستقبل کا فیصلہ اسی جائزہ عمل کے بعد کیا جائے گا۔ فلم کی او ٹی ٹی سے مسلسل غیر موجودگی کے باوجود مختلف سماجی اور سکھ تنظیموں نے عوامی نمائشوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں جموں سمیت کئی مقامات پر خصوصی اسکریننگز کا انعقاد کیا گیا، جبکہ مزید شہروں میں بھی فلم دکھانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ چونکہ فلم ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر دستیاب نہیں، اس لیے اسے عوام تک پہنچانے کے لیے متبادل راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ 
فلم کے اچانک ہٹائے جانے سے اظہارِ رائے کی آزادی، سینسرشپ اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کی ذمہ داریوں پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ اگرچہ فلم ساز اب تک اس کے دوبارہ دستیاب ہونے کے بارے میں کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دے سکے، تاہم شائقین اور مختلف سماجی حلقے اس کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK