Inquilab Logo Happiest Places to Work

انڈین نیوز چینلز صارفین کے دماغ میں زہر: انڈین ایکسپریس ایڈ پر سوشل میڈیا صارفین میں بحث

Updated: July 11, 2026, 10:09 PM IST | Mumbai

ہندوستان کے معروف اخبار انڈین ایکسپریس کے ایک نئے اشتہار نے ملک میں ٹی وی صحافت کے کردار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اشتہار میں علامتی انداز میں دکھایا گیا ہے کہ مسلسل شور، نفرت اور اشتعال انگیز خبروں سے متاثر ہونے والے شخص کے دماغ سے صرف زہر نکلتا ہے۔ اشتہار سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین نے اس کی حمایت کرتے ہوئے اسے موجودہ ٹی وی صحافت کی تلخ حقیقت قرار دیا، جبکہ بعض صارفین نے خود انڈین ایکسپریس کی غیر جانبداری پر سوالات بھی اٹھائے۔ اخبار نے اپنے پیغام میں کہا کہ معتبر صحافت اعتماد، حقائق کی تصدیق اور مشکل سوالات پوچھنے سے جنم لیتی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ہندوستان میں ٹیلی ویژن نیوز چینلز کی صحافت پر برسوں سے جاری بحث نے اس وقت مزید شدت اختیار کرلی جب معروف اخبار انڈین ایکسپریس نے ایک ایسا اشتہار جاری کیا جسے دیکھ کر سوشل میڈیا پر زبردست ہنگامہ برپا ہوگیا۔ اشتہار کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اگر مسلسل شور شرابے، نفرت، اشتعال انگیزی اور غیر مصدقہ خبروں پر مشتمل ٹی وی نشریات دیکھی جائیں تو اس کا اثر انسان کے ذہن پر زہر کی طرح ہوتا ہے۔ ویڈیو میں اسی تصور کو علامتی انداز میں پیش کیا گیا ہے، جہاں ایک شخص کا دماغ نچوڑنے پر اس میں سے سیاہ رنگ کا زہریلا مادہ نکلتا دکھایا گیا ہے۔ اس کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ صحافت کا مقصد عوام کے ذہن کو آلودہ کرنا نہیں بلکہ انہیں درست، متوازن اور مصدقہ معلومات فراہم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ناسک ٹی سی ایس معاملہ: ۲؍ ماہ قید میں رہنے کے بعد ندا خان کو ضمانت مل گئی

اشتہار کے ساتھ انڈین ایکسپریس نے اپنے ایکس پر ایک طویل پیغام بھی جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ ’’نسلوں سے انڈین ایکسپریس کا یقین رہا ہے کہ اعتبار ایک ایک خبر اور ایک ایک حقیقت کی بنیاد پر حاصل ہوتا ہے۔ شور اور لامتناہی معلومات کے اس دور میں ہمارا عزم وہی ہے کہ مشکل سوالات پوچھیں، ہر حقیقت کی سختی سے تصدیق کریں اور آزادی، دیانت داری، غیر جانبداری اور گہرائی کے ساتھ رپورٹنگ کریں۔ یہ ویڈیو ہمارے ایک قاری انوج نے تیار کی ہے، جو اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قابلِ اعتماد صحافت صرف نیوز رومز میں نہیں بلکہ اپنے قارئین کے اعتماد سے تعمیر ہوتی ہے۔‘‘ اخبار نے اپنے قارئین سے غیر محدود صحافتی مواد تک رسائی کے لیے سبسکرائب کرنے کی بھی اپیل کی۔

سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل 
اشتہار منظر عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر اس کی بھرپور پذیرائی کی گئی۔ کئی صارفین نے اسے موجودہ ہندوستانی ٹی وی میڈیا کی تصویر قرار دیا، جبکہ بعض نے کہا کہ اس قسم کے اشتہارات صحافت کے اصل کردار کی یاد دلاتے ہیں۔
ہرش ۱۰۹؍ نامی صارف نے لکھا کہ ’’خوشی ہے کہ کم از کم ایک معتبر میڈیا ادارہ حقیقی صحافت دکھانے کی ہمت رکھتا ہے۔‘‘
فری تھنک ایچ آر وائی (ابھیناو) نے تبصرہ کیا کہ ’’میڈیا ہاؤسیز کی تلخ حقیقت کو بہترین انداز میں پیش کیا گیا ہے، جو آہستہ آہستہ عوام کو زہر دے رہے ہیں۔‘‘
نواس ۸۷؍ نے امید ظاہر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’امید ہے کہ ہندوستان میں صحافت ابھی زندہ ہے۔‘‘
اکشے کے آر ۱۲۳؍ نامی صارف نے صرف ایک لفظ میں اپنا ردعمل دیا، ’’شاندار!‘‘
گٹنیش ۷۷؍ نے لکھا کہ ’’لگتا ہے ملک اب سنبھلنے لگا ہے۔‘‘
جگدیش چندر پانڈے نے کہا کہ ’’آپ بالکل درست کہہ رہے ہیں۔‘‘
چراغ ۹۵؍ نے اسے ’’اچھی تشہیر‘‘ قرار دیا۔
انصاری کے ۷۸۷؍ نے اپنے ردعمل میں لکھا کہ ’’نفرت اور پروپیگنڈے پر مبنی میڈیا نے ہندوستانی سیاست اور عوامی رائے کو شدید متاثر کیا ہے۔‘‘
اسی طرح اسمیتا گھوش نے لکھا کہ ’’ہندوستان کے بیشتر ٹی وی چینلز غیر جانبدار صحافت سے دور ہو چکے ہیں اور اہم قومی و عالمی خبروں کے بجائے گھنٹوں صرف سیاسی شخصیات کی کوریج دکھاتے رہتے ہیں۔‘‘

اگرچہ نمایاں ردعمل میں اشتہار کی حمایت زیادہ دکھائی دی، تاہم بعض صارفین نے انڈین ایکسپریس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
کریٹک جیور نے دعویٰ کیا کہ اخبار خود بھی صرف ایک مخصوص نظریاتی سوچ کی نمائندگی کرتا ہے۔
راج چند ۲۲۱۱؍ نے اخبار کی ایک پرانی سرخی شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ’’کیا انڈین ایکسپریس ہمیشہ غیر جانبدار صحافت کرتا رہا ہے۔‘‘ 
اسی طرح اپولوجیٹک ہیومن نے بھی اخبار کی سابقہ رپورٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی اخلاقی پوزیشن پر سوالات اٹھائے۔

یہ بھی پڑھئے: مسلمانوں کو ہجومی تشدد سے بچنے کیلئے روایتی لباس تبدیل کرنا چاہئے: نیاز خان

ٹی وی صحافت پر جاری بحث کو نئی جان
ہندوستان میں گزشتہ چند برسوں سے ٹی وی نیوز چینلز کے اندازِ صحافت، چیختے چلاتے مباحثوں، سنسنی خیزی، سیاسی تقسیم اور نفرت انگیز بیانیے پر مسلسل بحث جاری ہے۔ میڈیا کے ناقدین کا کہنا ہے کہ کئی چینلز حقائق کی تحقیق کے بجائے جذباتی اور محاذ آرائی پر مبنی مواد نشر کرتے ہیں، جبکہ ٹی وی چینلز اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ صرف عوامی دلچسپی کے موضوعات پیش کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں انڈین ایکسپریس کا یہ اشتہار صرف ایک تشہیری مہم نہیں بلکہ ہندوستانی میڈیا کے کردار پر ایک نئی عوامی بحث کا سبب بن گیا ہے، جہاں ایک طرف صحافت میں اعتبار، غیر جانبداری اور حقائق کی اہمیت پر زور دیا جا رہا ہے، تو دوسری جانب خود میڈیا اداروں کی ساکھ بھی عوامی جانچ کے دائرے میں آ گئی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK