Updated: July 11, 2026, 10:11 PM IST
| Mumbai
سرکاری ٹیلی کام کمپنی بی ایس این ایل کے نئے سیٹیلائٹ فون نے گوگل ٹرینڈز اور سوشل میڈیا پر غیر معمولی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔ ایک لاکھ ۳۴؍ ہزار ۱۶۶؍ روپے قیمت والے اس فون کی خاص بات یہ ہے کہ یہ موبائل ٹاورز کے بغیر براہِ راست سیٹیلائٹس کے ذریعے کال اور پیغام رسانی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ تاہم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ یہ فون عام اسمارٹ فون کی طرح ہر شخص کو فروخت نہیں کیا جائے گا بلکہ محکمۂ ٹیلی مواصلات (DoT) کی منظوری اور سخت جانچ پڑتال کے بعد ہی اہل خریداروں کو جاری کیا جائے گا۔ مہنگی قیمت، سخت ضابطوں اور جدید سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی نے اسے عالمی سطح پر بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔
سرکاری ٹیلی کام کمپنی بی ایس این ایل (BSNL) کے نئے سیٹیلائٹ فون نے صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں بھی لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ گوگل ٹرینڈز پر اس فون سے متعلق تلاش میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی فورمز پر اس کی قیمت، خصوصیات اور خریداری کے ضوابط پر مسلسل بحث جاری ہے۔ بی ایس این ایل نے حال ہی میں ایک لاکھ ۳۴؍ ہزار ۱۶۶؍ روپے قیمت والا سیٹیلائٹ فون متعارف کرایا ہے، جو روایتی موبائل فونز کی طرح زمینی موبائل ٹاورز پر انحصار نہیں کرتا بلکہ براہِ راست زمین کے گرد گردش کرنے والے سیٹیلائٹس سے رابطہ قائم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ فون ایسے علاقوں میں بھی کام کر سکتا ہے جہاں موبائل نیٹ ورک مکمل طور پر غائب ہو، مثلاً سمندر، بلند پہاڑی علاقے، جنگلات یا قدرتی آفات سے متاثرہ مقامات۔
یہ بھی پڑھئے: بی ایس این ایل نے بنا موبائل ٹاور کے چلنے والا سیٹلائٹ فون لانچ کیا
ہر شخص نہیں خرید سکے گا فون
اگرچہ فون کی لانچنگ نے صارفین میں بے حد دلچسپی پیدا کی ہے، لیکن بی ایس این ایل نے واضح کیا ہے کہ یہ ڈیوائس عام اسمارٹ فون کی طرح بازار یا ای کامرس ویب سائٹس پر دستیاب نہیں ہوگی۔ کمپنی کے مطابق سیٹیلائٹ فون خریدنے یا استعمال کرنے سے پہلے محکمۂ ٹیلی مواصلات (DoT) سے باضابطہ منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگی۔ مطلوبہ اجازت اور سیکوریٹی جانچ مکمل ہونے کے بعد ہی بی ایس این ایل یہ فون جاری کرے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے پیش نظر ہندوستان میں سیٹیلائٹ فونز کے استعمال پر سخت ضابطے نافذ ہیں اور بغیر اجازت ایسے فون رکھنا یا استعمال کرنا قانونی کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔
مہنگی قیمت نے بھی بحث چھیڑ ی
سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ گفتگو فون کی قیمت کے متعلق ہو رہی ہے۔ ۳۴ء۱؍ لاکھ روپے قیمت کے باوجود اس فون میں نہ اینڈرائیڈ ہے، نہ آئی او ایس، نہ ٹچ اسکرین اور نہ ہی عام اسمارٹ فونز کی طرح ایپس۔ اسی وجہ سے متعدد صارفین اسے جدید فلیگ شپ اسمارٹ فونز، خصوصاً آئی فون کے ساتھ موازنہ کر رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ڈیوائسز کا مقصد بالکل مختلف ہے۔ جہاں اسمارٹ فون روزمرہ استعمال، تفریح اور انٹرنیٹ کے لیے بنائے جاتے ہیں، وہیں سیٹیلائٹ فون کا اصل مقصد انتہائی دشوار گزار علاقوں میں ہنگامی رابطہ برقرار رکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جموں کشمیر: متنازع موا د کی تلاش، اسکولوں کو تمام کتابوں کی اسکریننگ کا حکم
’’بی ایس این ایل نیٹ ورک‘‘ والے لطیفے اُلٹے پڑ گئے
بی ایس این ایل کئی برسوں تک انٹرنیٹ پر کمزور نیٹ ورک اور سست خدمات کے حوالے سے میمز کا موضوع بنتا رہا، لیکن اس بار صورتحال مختلف نظر آ رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ جس کمپنی کے موبائل نیٹ ورک پر لطیفے بنائے جاتے تھے، اب اسی نے ایسا فون متعارف کرا دیا ہے جو موبائل ٹاورز کا محتاج ہی نہیں۔ کئی صارفین نے اسے بی ایس این ایل کی ’’واپسی‘‘ قرار دیا، جبکہ ریڈٹ سمیت مختلف ٹیکنالوجی فورمز پر بھی اسی پہلو پر دلچسپ تبصرے دیکھنے میں آئے۔
اصل میں یہ فون کیا ہے؟
بی ایس این ایل کا نیا سیٹیلائٹ فون دراصل عالمی سیٹیلائٹ کمیونیکیشن کمپنی انمارسیٹ (Inmarsat) کے نیٹ ورک پر کام کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بنیادی طور پر Inmarsat IsatPhone 2 پر مبنی ڈیوائس ہے، جسے بی ایس این ایل اپنی سروس کے ساتھ ہندوستان میں پیش کر رہا ہے۔ اس فون میں سیٹیلائٹ وائس کال، ایس ایم ایس، ایمرجنسی SOS بٹن، مضبوط باڈی اور طویل بیٹری بیک اپ جیسی خصوصیات شامل ہیں، تاکہ یہ انتہائی دشوار گزار حالات میں بھی قابل اعتماد رابطہ فراہم کر سکے۔
یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ میں صرف ۳؍ سال قبل بنائے گئے فلائی اوور کا حصہ گر پڑا
دنیا میں اس جیسے اور کون سے فون موجود ہیں؟
اگرچہ بی ایس این ایل کے فون نے غیر معمولی توجہ حاصل کی ہے، لیکن دنیا میں پہلے سے کئی معروف سیٹیلائٹ فون دستیاب ہیں۔ ان میں Inmarsat IsatPhone 2، Iridium Extreme (9575) اور Thuraya XT-Lite نمایاں ہیں۔ ایریڈیم ایکسٹریم کو دنیا کے معدودے چند ایسے فونز میں شمار کیا جاتا ہے جو قطب شمالی سے قطب جنوبی تک تقریباً مکمل عالمی کوریج فراہم کرتے ہیں، جبکہ تھورایا ایکس ٹی لائٹ یورپ، ایشیا، افریقہ اور آسٹریلیا کے وسیع علاقوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بی ایس این ایل کی نئی پیشکش نے ہندوستان میں سیٹیلائٹ مواصلاتی خدمات کو عالمی سطح پر جاری مقابلے کا حصہ بنا دیا ہے۔
سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی کی دوڑ تیز
بی ایس این ایل کا یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں ڈائریکٹ ٹو ڈیوائس (D2D) اور سیٹیلائٹ کنیکٹیویٹی کی دوڑ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ایلون مسک کی اسٹارلنک، ایمیزون کے پروجیکٹ کوئیپر اور دیگر عالمی کمپنیاں بھی ایسے نظام متعارف کرانے کی کوشش کر رہی ہیں جو دور دراز علاقوں میں براہِ راست سیٹیلائٹ کے ذریعے رابطے کی سہولت فراہم کریں۔