فرح خان صرف فلم ہدایت کار ہی نہیں کوریوگرافر، ڈانسر، مصنفہ، پروڈیوسر اور اداکارہ بھی ہیںجو بنیادی طور پر ہندی فلموںمیں کام کرتی ہیں۔ان کا پورا نام فرح خان کندر ہے۔
کوریوگرافر اور ہدایت کار فرح خان۔ تصویر: آئی این این
فرح خان صرف فلم ہدایت کار ہی نہیں کوریوگرافر، ڈانسر، مصنفہ، پروڈیوسر اور اداکارہ بھی ہیںجو بنیادی طور پر ہندی فلموںمیں کام کرتی ہیں۔ان کا پورا نام فرح خان کندر ہے۔ ان کی پیدائش۹؍جنوری ۱۹۶۵ءکوہوئی۔ ان کے والد کامران خان ایک اسٹنٹ مین سے فلم ساز بنے، جبکہ ان کی والدہ مینکا ایرانی سابق چائلڈ اداکاروں ہنی ایرانی اور ڈیزی ایرانی کی بہن تھیں۔ اس طرح فرح خان فلمی شخصیات فرحان اختراور زویا اختر،جو ہنی ایرانی کے بچے ہیں،کی پہلی کزن ہیں۔ ان کا ایک بھائی ساجد خان ، جو کامیڈین، اداکار اور فلم ہدایت کار ہیں۔ فرح نے ۸۰؍سے زائد فلموں میں سو سے زیادہ گانوں کی کوریوگرافی کی ہے۔فرح خان نے تمل سنیمااور بین الاقوامی پروجیکٹ پر بھی کام کیا ہے، جن میںمانسون ویڈنگ (۲۰۰۱ء)، بامبے ڈریمز (۲۰۰۲ء)، ونینٹی فیئر(۲۰۰۴ء)،میری گولڈ: این ایڈونچر اِن انڈیا(۲۰۰۷ء)، چینی فلم پرہاپس لو (۲۰۰۵ء) اورکنگ فو یوگا (۲۰۱۷ء)شامل ہیں۔ ان کے کام کے عوض ان کی ٹونی ایوارڈز اورگولڈن ہارس ایوارڈز میں نامزدگیاں بھی ہوئیں۔ بطور فلم ہدایت کار، فرح خان نے اپنے کریئر کا آغاز تجارتی طور پر کامیاب فلم میں ہوں نا (۲۰۰۴ء)سے کیا، جس کے بعد اوم شانتی اوم(۲۰۰۷ء)آئی۔ان دونوں فلموں پر انہیں بہترین ہدایت کار کےفلم فیئر ایوارڈکے لئے نامزد کیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے تیس مار خان (۲۰۱۰ء)اور اینسمبل ہائسٹ میوزیکل فلم ہیپی نیو ایئر (۲۰۱۴ء)کی ہدایت کاری بھی کی۔بہترین کوریوگرافی کے لیے قومی فلم ایوارڈ کے ساتھ ساتھ ۷؍فلم فیئر ایوارڈز بھی حاصل کیے ہیں۔
فرح خان نے۹؍دسمبر۲۰۰۴ءکوشریش کندر سےشادی کی، جو ان کی پہلی ہدایت کاری کی فلم میں ہوں نا (۲۰۰۴ء) کے ایڈیٹر تھے۔ اس کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کی فلموں میں ساتھ کام کیا، جن میں جانِ من (۲۰۰۶ء)، اوم شانتی اوم (۲۰۰۷ء) اور تیس مار خان (۲۰۱۰ء)شامل ہیں۔
فرح خان سینٹ زیوئیر کالج، بمبئی میں سوشیالوجی کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں جب مائیکل جیکسن کا مشہور میوزک ویڈیو تھریلر ریلیزہوا۔ اس گانے نے فرح کو اتنا متاثر کہ وہ ڈانس کرنے لگیں حالانکہ اس سے پہلے وہ کبھی ڈانس نہیں کرتی تھیں، لیکن جلد ہی یہ ان کا شوق اور پیشہ بن گیا۔ انہوں نے خود سے ڈانس سیکھا اور ایک ڈانس گروپ قائم کیا۔ جب کوریوگرافر سروج خان فلم جو جیتا وہی سکندر (۱۹۹۲ء)سےباہر ہوئیں، تو فرح نے ان کی جگہ لے لی۔اس کے بعد کئی برسوںمیں متعدد یادگار ڈانس نمبرز تخلیق کیے۔فرح خان نے اداکار شاہ رخ خان سے فلم کبھی ہاں کبھی نہ (۱۹۹۴ء)کےسیٹ پر ملاقات کی، اورتب سے وہ اچھے دوست بن گئے اور باہمی تعاون کاسلسلہ شروع ہوا۔ فرح خان ۷؍مرتبہ بہترین کوریوگرافی کے لیے فلم فیئر ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔ ۲۰۱۳ءمیں، فرح نے جمپنگ جھپاک کی کوریوگرافی بھی کی، جو ۲۰۱۳ءکے انڈین پریمیئر لیگ کا آفیشل انتھم تھا۔ فرح نے متعدد بین الاقوامی پروجیکٹس پر بھی کام کیا، جن میں مانسون ویڈنگ، بومبے ڈریمز، اور ونیٹی فیئر شامل ہیں۔ بومبے ڈریمز کے لیےانہیں انتھونی وین لاسٹ کے ساتھ بہترین کوریوگرافی کے لیے ٹونی ایوارڈ کیلئے بھی نامزد کیا گیا تھا۔