Updated: October 10, 2026, 5:04 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ میں اداکاروں کی بھاری فیس اور ان کی ٹیموں کے بڑھتے اخراجات پر جاری بحث کے درمیان راج کمار راؤ نے کہا ہے کہ وہ پروڈیوسروں پر غیر ضروری اخراجات کا بوجھ نہیں ڈالتے۔ اداکار نے اے آئی کے بڑھتے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ لاکھوں افراد کے روزگار کو متاثر کرسکتا ہے۔
راج کمار راؤ۔ تصویر: آئی این این
بالی ووڈ ان دنوں مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں کئی کامیاب فلمیں پیش کرنے میں ناکامی کے ساتھ فلمی صنعت کو بڑے اداکاروں کی بھاری فیس اور ان کے ساتھ آنے والی ٹیموں کے بڑھتے اخراجات کا بھی سامنا ہے۔ ان اخراجات نے فلم پروڈیوسروں پر مالی بوجھ بڑھا دیا ہے۔ اس معاملے پر جاری بحث کے درمیان معروف اداکار راج کمار راؤ نے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی کسی پروڈیوسر پر ایسے اضافی اخراجات کا بوجھ نہیں ڈالا، کیونکہ ان کے ساتھ کام کرنے والی ٹیم ہمیشہ چھوٹی رہی ہے۔ راج کمار راؤ نے بتایا کہ طویل عرصے تک ان کی ٹیم میں صرف تین افراد شامل تھے۔ حالیہ برسوں میں انہوں نے سیکوریٹی کے لیے ایک اور شخص کو ٹیم میں شامل کیا۔ اداکار نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انہوں نے کبھی پروڈیوسروں پر غیر ضروری اخراجات مسلط نہیں کیے۔
یہ بھی پڑھئے: بگ باس ۲۰: امَن گاندھی کا ’مسلم‘ آبادی سے متعلق متنازع جملہ، قاضی توقیر کو نشانہ بنایا
پروڈیوسر ہر چیز کا خرچ کیوں اٹھائے؟
راج کمار راؤ نے ’میش ایبل انڈیا‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’’شروع سے ہی میرے ساتھ آنے والی ٹیم زیادہ بڑی نہیں تھی۔ ایک طویل عرصے تک میرے ساتھ صرف تین افراد ہوتے تھے؛ ایک ہیئر اسٹائلسٹ، ایک میک اَپ آرٹسٹ اور تیسرا میرا ذاتی معاون تھا۔ چند سال قبل میں نے سیکوریٹی کے لیے چوتھے شخص کو شامل کیا۔‘‘ واضح رہے کہ بالی ووڈ اداکاروں کی بڑی ٹیموں پر اکثر تنقید ہوتی رہی ہے۔ بعض اداکاروں کے ساتھ ۱۰؍ سے ۱۵؍ افراد تک ہوتے ہیں۔ سینئر اداکارہ رتنا پاٹھک شاہ ماضی میں کہہ چکی ہیں کہ انہوں نے لوگوں کو اداکاروں کے کافی کے کپ اٹھائے ہوئے دیکھا ہے۔ وہیں ہدایت کار اور کوریوگرافر فرح خان نے بھی نشاندہی کی تھی کہ بعض اداکار اپنی وینٹی وین میں ذاتی شیف کے ذریعے کھانا تیار کروانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
راج کمار راؤ نے کہا، ’’میرے خیال میں آپ کو پروڈیوسر کا اداکار ہونا چاہیے اور میں اپنے کریئر کے آغاز سے ہی ایسا رہا ہوں۔ اگر آپ کسی کام کو زبردستی نہیں کرنا چاہتے تو نہ کریں۔ جب کوئی پروڈیوسر آپ کو معاوضہ دے رہا ہے تو آپ اپنی کافی خود خرید سکتے ہیں۔ اس کا خرچ بھی پروڈیوسر سے کیوں اٹھوائیں؟ اگر آپ کچھ خاص کھانا چاہتے ہیں تو خود آرڈر کریں۔ ہر چیز کے لیے پروڈیوسر سے مطالبہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نانا پاٹیکر کو فنکار زہیب خان کا منفرد خراجِ عقیدت، دیوار پر کوئلے سے بلند تصویربنائی
راج کمار راؤ ان دنوں ہدایت کار اویناش ارون کی فلم ’پراہار‘ کی ریلیز کی تیاری کر رہے ہیں، جس میں وہ معروف خصوصی سرکاری وکیل اجول نکم کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ قانونی ڈراما ۱۹۹۳ء کے ممبئی بم دھماکوں اور ۲۰۰۸ء کے ممبئی حملوں سے متعلق قانونی کارروائیوں میں نکم کے کردار پر مبنی ہے۔ فلم میں وامیکا گبی، جے دیپ اہلاوت اور سکندر کھیر بھی شامل ہیں۔ یہ فلم جمعہ، ۱۶؍ اکتوبر کو سنیما گھروں میں ریلیز ہوگی۔
سورَو گنگولی کی بایوپک کے ’اے آئی پوسٹر‘ پر راج کمار راؤ کا ردعمل
راج کمار راؤ کے پاس سابق ہندوستانی کرکٹر سورَو گنگولی کی زندگی پر بننے والی فلم ’’دادا‘‘ بھی ہے۔ اسی انٹرویو میں انہوں نے فلم کے پہلے پوسٹر پر ہونے والی شدید تنقید پر ردعمل ظاہر کیا، کیونکہ کئی لوگوں نے اسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’جن لوگوں نے یہ پوسٹر بنایا، انہوں نے سبق سیکھ لیا ہے کہ انہیں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ وقت لیں، کوئی جلدی نہیں ہے۔ میرے خیال میں ٹیم نے اپنی غلطی سے سبق سیکھا۔ لیکن اس تجربے سے انہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ دادا کے مداحوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: عمران ہاشمی کی ’’آوارہ پن ۲‘‘ او ٹی ٹی پر ریلیز
اے آئی کے استعمال پر بات کرتے ہوئے راج کمار راؤ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی۔ اے آئی کو آنے سے روکا نہیں جا سکتا، لیکن اسے صرف معاون ذریعے کے طور پر استعمال کرنا چاہیے، اس پر مکمل انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو، کیونکہ اس سے لاکھوں لوگوں کا روزگار متاثر ہوسکتا ہے۔ آپ ایک کمرے میں بیٹھ کر ہر چیز دوبارہ تخلیق نہیں کرسکتے اور نہ ہی انسانی جذبات کی جگہ لے سکتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اے آئی اتنی جلدی انسانی جذبات کی نقل کرسکتا ہے یا نہیں۔ آج ہم جو اے آئی سے تیار کردہ کام دیکھتے ہیں، ہمیں اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ مصنوعی ہے۔ اس میں وہ لطف نہیں ہوتا۔ آپ ہر چیز اے آئی سے تیار نہیں کرسکتے۔‘‘