ایران جنگ کے دوران امریکی صدر کے بیان دینے سے تیل کے داموں میں کمی بیشی ہوتی تھی، اس میں ان کا بھی کاروباری فائدہ تھا۔
ڈونالڈ ٹرمپ جنگ کے دوران بھی کاروبار کرتے رہے-تصویر:آئی این این
امریکی صدر ٹرمپ کی صدارت پر ’انسائیڈر ٹریڈنگ‘کے شبہات منڈلانے لگے، کسی بھی بڑے اعلان سے تھوڑی دیر قبل کروڑوں ڈالر کی مشکوک سرمایہ کاری کا انکشاف سامنے آیا۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اہم پالیسی اعلانات اور ٹویٹس ایک نئے تنازعہ کی زد میں آ گئے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ صدر ٹرمپ کے اعلانات سے عین قبل اسٹاک اور پریڈکشن مارکیٹس میں ایسی غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں جو انسائیڈ ٹریڈنگ (اندرونی معلومات کی بنیاد پر تجارت) کے شبہات کو جنم دے رہی ہیں۔رپورٹ میں کہنا تھا کہ ایران تنازع کے دوران تیل کی قیمتوں میں عجیب و غریب کھیل کھیلا گیا۔صدر ٹرمپ نے سی بی ایس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران تنازعہ مکمل اور جنگ ختم ہو چکی ہے۔ اس بیان کے بعد شام۶؍ بج کر۲۹؍بجے تیل کی قیمتیں بڑھیں، لیکن محض ایک گھنٹے بعد عالمی منڈی میں قیمتیں ۲۵؍ فیصد گر گئیں، ایک مخصوص اکاؤنٹ نے ۷؍ اپریل تک جنگ بندی ہونے پر درست شرط لگا کر ایک لاکھ ۶۳؍ہزار ڈالر کمائے، جس کا باضابطہ اعلان واشنگٹن اور تہران نے اسی روز کیا تھا۔پریڈکشن مارکیٹس پر کچھ صارفین نے حیرت انگیز طور پر درست پیش گوئیاں کیں۔دسمبر ۲۰۲۵ء میں بنے ایک اکاؤنٹ ’برڈن سم مکس‘ نے شرط لگائی کہ صدر مادورو جنوری ۲۰۲۶ءتک عہدے پر نہیں رہیں گے، جب امریکی فورسز نے مادورو کو حراست میں لیا تو اس اکاؤنٹ نے ۴؍ لاکھ ۳۶؍ہزار ڈالر کا منافع کمایا۔اسی طرح فروری میں بنے ۶؍ نئے اکاؤنٹس نے۲۸؍ فروری تک ایران پر امریکی حملے کی شرط لگائی اور مجموعی طور پر ۱۲؍ لاکھ ڈالر جیتے، جس کے بعد ان میں سے ۵؍ صارفین نے دوبارہ کبھی کوئی شرط نہیں لگائی۔
رپورٹ میں ایک اہم پہلو صدر کے بیٹے ڈونالڈ ٹرمپ جونیئر کا کردار ہے، وہ نہ صرف پولی مارکیٹ کے سرمایہ کار اور ایڈوائزری بورڈ کا حصہ ہیں بلکہ ’کالشی‘ کے اسٹریٹجک ایڈوائزر بھی ہیں۔ ماہرین کے مطابق صدر کے قریبی افراد کا ایسی مارکیٹس سے وابستہ ہونا جہاں صدارتی فیصلوں پر شرطیں لگائی جاتی ہیں، مفادات کے سنگین ٹکراؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔امریکی سینیٹرز نے ان مشکوک سرگرمیوں پر ریگولیٹرز سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے، تاہم سیکورٹی ایکسچینج کمیشن نے ان الزامات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ۱۹۳۳ء سے اندرونی تجارت غیر قانونی ہے، لیکن طاقتور افراد کے خلاف اسے ثابت کرنا انتہائی مشکل ہے اور ٹھوس ثبوت کے بغیر قانونی کارروائی کا امکان کم ہے۔اس رپورٹ نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں کھلبلی مچا دی ہے، جہاں اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا وہائٹ ہاؤس کے فیصلے عوامی مفاد کی بجائے مخصوص گروہوں کو مالی فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں؟