Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ڈان ۳‘‘ تنازع: رنویر سنگھ کے خلاف FWICE کی کارروائی عدالت پہنچ گئی

Updated: June 02, 2026, 9:06 PM IST | Mumbai

’’ڈان ۳‘‘ سے رنویر سنگھ کے الگ ہونے کے بعد شروع ہونے والا تنازع اب قانونی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ فلم ساز ٹی پی اگروال نے بامبے سول کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے FWICE کے عدم تعاون ہدایت نامے کو چیلنج کر دیا ہے۔ دوسری جانب FWICE اپنے موقف پر قائم ہے اور فلم انڈسٹری میں اداکاروں کے آخری وقت میں پروجیکٹس چھوڑنے کے رجحان کو روکنے کے لیے نیا ضابطہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

Ranveer Singh and Farhan Akhtar. Photo: INN
رنویر سنگھ اور فرحان اختر۔ تصویر: آئی این این

’’ڈان ۳‘‘ سے رنویر سنگھ کے اخراج کے بعد پیدا ہونے والا تنازع اب صرف فلمی حلقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ عدالت تک پہنچ گیا ہے۔ تازہ ترین پیش رفت میں سینئر فلم ساز ٹی پی اگروال نے بمبئی کی ڈنڈوشی سول کورٹ میں ایک درخواست دائر کرتے ہوئے فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنے ایمپلائز (FWICE) کے عدم تعاون ہدایت نامے کو چیلنج کر دیا ہے۔ ٹی پی اگروال، جو ماضی میں انڈین موشن پکچر پروڈیوسرز ایسوسی ایشن (IMPPA) کے صدر بھی رہ چکے ہیں، کا مؤقف ہے کہ کسی بھی تجارتی تنظیم، یونین یا اسوسی ایشن کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی فنکار یا پیشہ ور شخصیت کے خلاف پابندی یا عدم تعاون کی ہدایت جاری کرے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات کسی فرد کے روزگار، تخلیقی آزادی اور پیشہ ورانہ حقوق کو متاثر کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: شاہد کپور، کریتی سینن، رشیمکا مندانا کی فلم ’’کاک ٹیل ۲‘‘کا ٹریلر جاری

یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب FWICE نے ۲۵؍مئی کو رنویر سنگھ کے خلاف ایک ’’نان کوآپریشن ڈائریکٹو‘‘ جاری کیا تھا۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ رنویر سنگھ نے ’’ڈان ۳‘‘ سے آخری مرحلے میں علیحدگی اختیار کی جس کے نتیجے میں پروڈیوسرز فرحان اختر اور رتیش سدھوانی کو تقریباً ۴۵؍ کروڑ روپے کے پری پروڈکشن نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ FWICE کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ رنویر سنگھ کو متعدد مرتبہ وضاحت کے لیے بلایا گیا لیکن ان کی جانب سے تسلی بخش جواب موصول نہیں ہوا، جس کے بعد تنظیم نے اپنے رکن تکنیکی ماہرین اور مختلف شعبوں سے وابستہ کارکنوں کو مشورہ دیا کہ وہ تنازع حل ہونے تک اداکار کے ساتھ کام نہ کریں۔ 

تاہم، FWICE نے حالیہ دنوں میں یہ وضاحت بھی کی ہے کہ یہ کسی قسم کی قانونی پابندی نہیں بلکہ صرف ایک پیشہ ورانہ ہدایت ہے۔ تنظیم کے مطابق رنویر سنگھ پر ’’پابندی‘‘ نہیں لگائی گئی بلکہ ممبران کو صرف احتیاطی مشورہ دیا گیا ہے۔ دوسری جانب، رنویر سنگھ کی حمایت میں کئی فلمی شخصیات سامنے آئی ہیں۔ ہدایت کار سنجے گپتا نے بھی FWICE کے اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اس قسم کی کارروائی کا جواز سمجھ سے بالاتر ہے۔ تنازع کے دوران ایک اور اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ FWICE نے اب پروڈیوسرز کی مختلف تنظیموں، بشمول IMPPA اور دیگر اداروں، کو خط لکھ کر ایک مشترکہ ضابطۂ اخلاق بنانے کی تجویز دی ہے تاکہ مستقبل میں کوئی اداکار یا فنکار کسی بڑے پروجیکٹ سے آخری وقت میں الگ نہ ہو سکے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات پوری انڈسٹری کو مالی نقصان پہنچاتے ہیں اور ان کے تدارک کے لیے واضح اصول وضع کیے جانے چاہئیں۔

یہ بھی پڑھئے: آپ کا مشن اے آئی کو تباہ کرنا ہے: ہارورڈ میں اداکار رونی چیانگ کا خطاب وائرل

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر رنویر سنگھ یا ان کے حامی یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس ہدایت نامے سے اداکار کے کریئر یا روزگار پر منفی اثر پڑ رہا ہے تو اس معاملے کو سول عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے، جہاں FWICE کے اختیارات اور اس کی قانونی حیثیت پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔ فی الحال، ’’ڈان ۳‘‘ تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ عدالت میں دائر درخواست اور FWICE کے مؤقف کے بعد یہ معاملہ صرف رنویر سنگھ اور فلم کے پروڈیوسرز کے درمیان اختلاف تک محدود نہیں رہا بلکہ فلم انڈسٹری میں یونینز اور تجارتی تنظیموں کے اختیارات پر بھی ایک بڑی بحث بن گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK