• Mon, 09 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مجھے ہراساں نہ کریں: نصیرالدین شاہ کا رپورٹرس کو جواب

Updated: February 09, 2026, 8:12 PM IST | Mumbai

ایک ویڈیو میں سینئر اداکارنصیر الدین شاہ کو ایئرپورٹ پر بار بار سوالات کیے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس کی وجہ سے آن لائن شدید برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا کے کئی صارفین نے ایک ٹیلی ویژن صحافی پر الزام لگایا کہ اس نے اداکار کے واضح انکار کے باوجود انہیں ہراساں کیا۔

Naseeruddin Shah.Photo:INN
نصیر الدین شاہ۔ تصویر:آئی این این

ایک ویڈیو میں سینئر اداکارنصیر الدین شاہ کو ایئرپورٹ پر بار بار سوالات کیے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس کی وجہ سے  آن لائن شدید برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا کے کئی صارفین نے ایک ٹیلی ویژن صحافی پر الزام لگایا کہ اس نے اداکار کے  واضح انکار کے باوجود انہیں ہراساں کیا۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب چند دن پہلے شاہ نے کہا تھا کہ انہیں ممبئی یونیورسٹی کے ایک پروگرام کادعوت نامہ  آخری لمحے میں بلاوجہ اور معذرت کے بغیر واپس لے لیا گیاتھا۔
اداکار کو حال ہی میں ایئرپورٹ پر ان کی اہلیہ اداکارہ رتنا پاٹھک شاہ کے ساتھ دیکھا گیا، جب ایک صحافی نے یونیورسٹی تنازع سے متعلق سوالات کیے۔ شاہ، جو واضح طور پر پریشان نظر آئے، نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات چیت نہیں کرنا چاہتے۔ اس ویڈیو کلپ میں، جو بعد میں وائرل ہو گئی، انہیں  کہتے ہوئے سنا جاسکتاہےکہ ’’ میں اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتا، لہٰذا براہِ مہربانی مجھے تنگ نہ کریں۔‘‘

اس کے باوجود، ٹائمز ناؤ کے صحافی نے سوالات جاری رکھے، جس پر اداکار نے سخت ردعمل دیا کہ ’’ آپ کس قسم کے لوگ ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھ سکتے کہ میں ابھی سفر سے آیا ہوں اور میں نے آپ سے مؤدبانہ  کہا کہ میں اس مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ آپ کیوں اصرار کر رہے ہیں، کیوں مجھے ہراساں کر رہے ہیں؟ ‘‘
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا اور صارفین نے صحافی کے رویے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ کئی لوگوں نے کہا کہ اداکار نے واضح طورپر کہا تھا کہ انہیں پریشان نہ کریں  اور انہیں اکیلا چھوڑدیں۔

یہ بھی پڑھئے:ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ: زمبابوے کی یکطرفہ کامیابی، عمان ناکام

سوشل میڈیا پر ایک  صارف نے لکھا ’’ میری  نصیر الدین شاہ سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں، لیکن اگر آپ کسی کے منہ میں مائیک ڈال  دیں تو اسے آپ کو دھکیلنے کا حق ہے۔ صحافی کی جانب سے بالکل بے شرمی۔‘‘ دوسرے نے کہا کہ ’’ خوشی ہے کہ زیادہ تر تبصرے اور رائے دہندگان نے اس گھٹیا رویے پر درست طور پر برہمی ظاہر کی۔ ‘‘ کچھ لوگوں نے سوال کیا کہ توجہ نصیرالدین شاہ پر کیوں ہے، ادارے پر کیوں نہیں:  آپ نے نصیر الدین شاہ سے بات کرنے کی کوشش کی  ؟ کیا آپ میں ہمت ہے کہ ممبئی یونیورسٹی کے اسکالرس سے پوچھیں کہ انہوں نے  نصیرالدین  شاہ  سے دعوت نامہ واپس کیوں لیا۔  ایک اور صارف نے لکھا کہ ’’ یہ  صحافت  نہیں، یہ واضح ہراسانی ہے۔  ایک تبصرہ میں کہا گیا:  نصیر الدین شاہ صحافی کو ٹال  نہیں رہے تھے ، وہ ایک واضح پیغام دے رہے ہیں: ٹی وی چینلز سے بات نہ کریں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے:فہد فاصل نے ’’آویشم ۲‘‘کے بنائے جانے کی تصدیق کردی

نصیرالدین شاہ کو ہندوستان  کے بہترین اداکاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہیں  اسپرش، پار  اور اقبا ل  کے لیے تین نیشنل فلم ایوارڈز ملے ہیں اور وہ  نشانت، آکروش، جانے بھی دو یارو، معصوم  اور اجازت  جیسی  کامیاب فلموں کے لیے جانے جاتے ہیں۔ وہ فلم  اسی  میں نظر آئیں گے، جس کی ہدایت کاری انوبھو سنہا نے کی ہے  اور اس میں تاپسی پنو، کنی کسروتی، ریوتی ، منوج پاہوا، کمود مشرا، محمد ذیشان ایوب، سپریہ پٹھان اور سیما پاہوا کے ساتھ اداکاری کریں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK