Updated: November 03, 2026, 10:44 AM IST
| Reykjavík
آئس لینڈ کے قومی پارک تھنگویلیر میں واقع سلفرا دراڑ دنیا کے ان منفرد مقامات میں شامل ہے جہاں زمین کی دو بڑی ٹیکٹونک پلیٹوں کے درمیان بننے والی شگاف نما جگہ میں غوطہ خوری کی جاسکتی ہے۔ یہاں شمالی امریکہ اور یوریشیا کی پلیٹیں ایک دوسرے سے بتدریج دور ہورہی ہیں، جب کہ گلیشیئر سے چھن کر آنے والا پانی غیر معمولی شفافیت کے باعث غوطہ خوروں کو زیرِ آب چٹانوں اور دراڑوں کا حیرت انگیز منظر دکھاتا ہے۔ تاہم یہ کوئی ایسی کھلی کھائی نہیں جس میں انسان زمین کے اندر گرتا چلا جائے؛ سلفرا ایک زیرِ آب دراڑ ہے جہاں قدرتی ارضیاتی عمل اور انتہائی صاف پانی نے اسے دنیا کے مشہور ترین ڈائیونگ مقامات میں بدل دیا ہے۔
آئس لینڈ کے اس مقام کی غیر معمولی کشش کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں غوطہ خور زمین کی سطح پر موجود کسی عام جھیل یا سمندر میں نہیں بلکہ دو عظیم ارضیاتی پلیٹوں کے درمیان بننے والی دراڑ میں اترتے ہیں۔ اس مقام کا نام سلفرا (Silfra) ہے، جو تھنگویلیر نیشنل پارک (Þingvellir National Park) میں واقع ہے۔ یہ پارک یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل ہے اور بحرِ اوقیانوس کی زیرِ آب پہاڑی سلسلے مڈ اٹلانٹک رج (Mid-Atlantic Ridge) کا وہ حصہ ہے جو آئس لینڈ میں خشکی پر بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ یہاں شمالی امریکہ اور یوریشیا کی ٹیکٹونک پلیٹیں ایک دوسرے سے مخالف سمتوں میں حرکت کررہی ہیں۔ تھنگویلیر نیشنل پارک کی انتظامیہ کے مطابق ان پلیٹوں کے درمیان پھیلاؤ کی رفتار اوسطاً تقریباً 2 سینٹی میٹر سالانہ ہے۔ یہ حرکت مسلسل اور یکساں نہیں رہتی بلکہ بعض اوقات طویل عرصے تک جمع ہونے والا ارضیاتی دباؤ زلزلوں اور زمین میں نئی دراڑوں کی صورت میں خارج ہوتا ہے۔ ۱۷۸۹ء میں آنے والے زلزلوں نے تھنگویلیر کے علاقے میں کئی دراڑوں کو وسیع کیا، جن میں سلفرا بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایرانی حملوں سے۲۴؍ امریکی فوجی مقامات پر۲۷۴؍ ڈھانچوں کو نقصان: رپورٹ
سلفرا کی سب سے حیران کن خصوصیت اس کا پانی ہے۔ یہاں زیرِ آب حدِ نگاہ بعض مقامات پر ۱۰۰؍ میٹر سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ یہ غیر معمولی شفافیت کسی مصنوعی صفائی یا کیمیائی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ قدرتی ارضیاتی فلٹریشن کا کمال ہے۔ سلفرا کو پانی قریبی لینگ یوکل (Langjökull) گلیشیئر سے حاصل ہونے والے پگھلے ہوئے پانی سے ملتا ہے۔ یہ پانی زیرِ زمین آتش فشانی چٹانوں اور مسام دار لاوے سے گزرتا ہوا کئی دہائیوں تک سفر کرتا ہے، اس دوران قدرتی طور پر چھن کر انتہائی صاف ہوجاتا ہے۔ ڈائیونگ کے لیے سرگرمیاں فراہم کرنے والے ادارے DIVE.IS کے مطابق بعض اوقات اس زیرِ زمین سفر میں ۳۰؍ سے ۱۰۰؍ سال تک لگ جاتے ہیں۔ یہاں پانی کا درجۂ حرارت بھی اپنی جگہ ایک غیر معمولی تجربہ ہے۔ سال کے بیشتر حصے میں یہ تقریباً ۲؍ سے ۴؍ ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے، حتیٰ کہ موسمِ گرما میں بھی اس میں نمایاں اضافہ نہیں ہوتا۔ اسی لیے یہاں غوطہ خوری یا سنورکلنگ کرنے والے افراد کو خصوصی ڈرائی سوٹ پہننا پڑتا ہے، جو جسم کو برف جیسے ٹھنڈے پانی سے محفوظ رکھتے ہیں۔ عام طور پر سنورکلنگ کے دوران سیاح پانی کی سطح کے قریب رہتے ہوئے نیچے موجود چٹانوں اور دراڑوں کا نظارہ کرتے ہیں، جب کہ تربیت اور مطلوبہ سرٹیفکیشن رکھنے والے غوطہ خور زیادہ گہرائی تک جاسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: شیئر بازار میں لسٹنگ سے بچانے کیلئے ٹاٹاسنس کی تنظیم نو کی تجویز
سلفرا کا زیرِ آب منظر کئی حصوں میں تقسیم ہے۔ ان میں بگ کریک (Big Crack)، سلفرا ہال (Silfra Hall)، سلفرا کیتھیڈرل (Silfra Cathedral) اور سلفرا لیگون (Silfra Lagoon) شامل ہیں۔ کیتھیڈرل کو اس مقام کے سب سے متاثر کن حصوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں پانی کی غیر معمولی شفافیت کے باعث غوطہ خور دور تک پھیلی ہوئی چٹانی دیواروں اور زیرِ آب ساختوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے بعد آنے والا لیگون نسبتاً کم گہرا ہے، لیکن اس کی وسعت اور صاف پانی اسے سنورکلنگ کے لیے خاص طور پر دلکش بناتے ہیں۔ تاہم سلفرا کی ہر دراڑ سیاحوں کے لیے قابلِ رسائی نہیں۔ اس علاقے میں ایک تنگ زیرِ آب راستہ بھی موجود ہے جسے مقامی طور پر ’دی ٹوائلٹ‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں پانی کا بہاؤ بعض اوقات اس قدر تیز ہوجاتا ہے کہ غوطہ خور کو ایک تنگ عمودی راستے سے دھکیل کر نیچے کی طرف لے جاسکتا ہے۔ اس راستے میں داخلے پر حفاظتی پابندی عائد ہے۔ اسی طرح سلفرا کی ایک گہری غار بھی خطرناک ہونے کے باعث عام غوطہ خوری کے لیے بند ہے۔ چنانچہ سوشل میڈیا یا بعض خبروں میں زمین کی دراڑ میں گرنے کے جس سنسنی خیز تصور کو پیش کیا جاتا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ سیاح کسی بھی کھلی کھائی میں آزادانہ اتر سکتے ہیں۔ یہاں سرگرمیاں مخصوص محفوظ حصوں اور ضابطوں کے تحت انجام دی جاتی ہیں۔
سلفرا کے گرد موجود ارضیاتی منظرنامہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ تھنگویلیر کی وادی دراصل ان قوتوں کا نمایاں ثبوت ہے جو زمین کی بیرونی پرت کو مسلسل تبدیل کررہی ہیں۔ قومی پارک کی وضاحت کے مطابق اس علاقے میں شمالی امریکی اور یوریشیائی پلیٹوں کے درمیان زمین کا ایک حصہ بتدریج نیچے بیٹھ رہا ہے۔ اسی عمل نے وادی، چٹانی دیواروں اور دراڑوں کی موجودہ شکل بنائی ہے۔ آئس لینڈ اس اعتبار سے بھی منفرد ہے کہ مڈ اٹلانٹک رج کا ایک نمایاں حصہ یہاں سمندر کی سطح سے اوپر خشکی پر دیکھا جاسکتا ہے، جب کہ اس پہاڑی سلسلے کا بیشتر حصہ بحرِ اوقیانوس کی تہہ میں موجود ہے۔ سلفرا میں غوطہ خوری صرف ایک سیاحتی سرگرمی نہیں بلکہ زمین کی ساخت اور اس کے مسلسل بدلتے ہوئے جغرافیے کو قریب سے دیکھنے کا نادر موقع بھی ہے۔ یہاں ایک ہی غوطے میں انسان ایسی جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں براعظموں کی تشکیل اور حرکت کے پیچھے کارفرما قدرتی قوتیں محض کتابوں یا نقشوں میں نہیں بلکہ اپنی آنکھوں کے سامنے موجود ہوتی ہیں۔