بیک وقت۱۰؍ مقامات پر کارروائی، ٹرسٹ پر منی لانڈرنگ کا الزام۔
EPAPER
Updated: August 20, 2026, 12:16 PM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow
بیک وقت۱۰؍ مقامات پر کارروائی، ٹرسٹ پر منی لانڈرنگ کا الزام۔
یوگی سرکار کے مسلسل نشانہ پر رہنے والی اعظم خان کی قائم کردہ جوہر یونیورسٹی کے خلاف بدھ کو ای ڈی سرگرم ہوگئی ہے اور اس نے یونیورسٹی اوراس سے جڑے ۱۰؍ مقامات پر بیک وقت چھاپہ مارا۔ مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور جوہر یونیورسٹی پر منی لانڈرنگ کا الزام عائد ہوا ہے جس کی تحقیقات کےنام پر یہ چھاپے مارے گئے۔
ای ڈی کی ٹیموں نے رام پور اور سہارنپور کے علاوہ دہلی کے جامعہ نگر میں بھی تلاشی لی۔ کارروائی کے دوران ای ڈی کو سی آر پی ایف کی سیکوریٹی حاصل رہی۔ سہارنپور کے ایک چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ،۲؍کمپنیاں اور ان کے پروموٹرس جانچ کے دائرہ میں ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کے مرکزی ٹرسٹی اعظم خان ہیں جو برسوں سے یوگی سرکار کے نشانے پر ہیں۔ان کے خاندان کے بعض افراد اور ساتھی بھی ٹرسٹ سے وابستہ ہیں۔ ٹرسٹ کے تحت ۲۰۰۶ء میں قائم محمد علی جوہر یونیورسٹی اور رامپور میں ایک پبلک اسکول چلایا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہرمز کے متعلق ٹرمپ کے دعوے پر ایران نے کیلیفورنیا کو اپنا ’’نیا علاقہ‘‘ قرار دیا
محمد علی جوہر یونیورسٹی حال ہی میں اس وقت بھی خبروں میں آئی تھی جب رامپور ڈیولپمنٹ اتھاریٹی نے جولائی میں یونیورسٹی کی ۴۰؍ میں سے ۳۸؍ عمارتوں کو منہدم کرنے کی ہدایت دی تھی۔ حکام کا الزام تھا کہ یہ عمارتیں منظور شدہ نقشوں کے بغیر تعمیر کی گئی ہیں۔طلبہ نے مجوزہ انہدامی کارروائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ بعد ازاں ،ڈویژنل کمشنر نے مجوزہ کارروائی پر روک لگا دی اور مزید احکامات تک کسی انتظامی کارروائی سے گریز کی ہدایت کی۔
ای ڈی کی کارروائی پر سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ مرکزی ایجنسی منتخب معاملات میں کارروائی کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ای ڈی کو ایودھیا میں رام مندرکےچندہ چوری ، کوڈین کف سیرپ کی غیر قانونی سپلائی، خراب ایکسپریس ویز اور دیگر بدعنوانیوں کے معاملات میں بھی چھاپے مارنے چاہئیں ۔ انہوں نے مہاکمبھ کے دوران ٹھیکوں میں بے ضابطگیوں، اسمارٹ سٹی کے منصوبوں میں مبینہ گھپلے، خراب سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے مسائل پر بھی ای ڈی سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے الزام لگایا کہ محمداعظم خان کو سیاسی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور حکومت انہیں ہراساں کر رہی ہے۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے جوہر یونیورسٹی کے معاملہ میں ای ڈی کے ذریعہ کی گئی چھاپےکی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ادارے کو تباہ کرنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اعظم خان سے سیاسی دشمنی نکالی جا رہی ہے۔انہوں نےمزیدکہاکہ سیاست میں اس طرح کی کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:پی ایم کیئر فنڈ کے عدم استعمال پر تنقیدیں، پریانک کھرگے نے سفاکیت قرار دیا
بی جےپی تعلیم مخالف ہے: اکھلیش
سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے چھاپوں پر برہمی کااظہار کرتے ہوئےکہا کہ بی جےپی ’’تعلیم، اساتذہ اور طلبہ کے خلاف‘‘ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’ان چھاپوں کا مقصد یونیورسٹی بنانے والوں کو نشانہ بنا کر چھوٹی فرقہ ورانہ ذہنیت کے حامل بی جےپی حامیوں کو خوش کرنا ہے۔‘‘ قنوج کے رکن پارلیمان نے کئی دیگر مسائل کا حوالہ دیا اور سوال کیا کہ رام مندر چڑھاوا چوری کے مجرمین کو، ذات کی بنیاد پر جرائم کرنےوالے اقتدار حامی افراد کے خلاف، کوڈین کے معاملے میں اور ایکسپریس ویز کی تعمیر میں بدعنوانی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟
ای ڈی کیا جانچ کررہی ہے؟
جانچ کا مرکز یہ الزامات ہیں کہ سرکاری ٹھیکوں کیلئے جاری کئے گئے فنڈس کو نجی ٹھیکیداروں کے توسط سے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور یونیورسٹی تک پہنچائی گئی۔
ایسے ٹھیکیداروں کےمالی لین دین کی جانچ ہو رہی ہے، جنہوں نے سرکاری ٹھیکے حاصل کئے اور ٹرسٹ یا یونیورسٹی کو چندہ دیا یا تعمیراتی کام سے متعلق ادائیگیوں کی صورت میں رقم منتقل کی۔
ای ڈی یہ بھی جانچ کر رہی ہے کہ کیا سرکاری ٹھیکوں سے مبینہ طور پرحاصل شدہ فنڈ کو یونیورسٹی اور ٹرسٹ سے وابستہ اثاثوں کی تعمیر یا تشکیل میں استعمال کیا گیا تھا ؟