• Sat, 14 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اماراتی اولمپک رنر مریم الفارسی نے روزوں کے دوران ٹریننگ کے گر بتا دیے

Updated: February 13, 2026, 9:08 PM IST | Dubai

متحدہ عرب امارات کی مایہ ناز اولمپک ایتھلیٹ مریم الفارسی نے انکشاف کیا ہے کہ ایک پیشہ ور کھلاڑی رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں روزے کے ساتھ اپنی کارکردگی اور توانائی کو کیسے برقرار رکھتا ہے۔

Maryam Alfarsi.Photo:INN
مریم الفارسی۔ تصویر:آئی این این

متحدہ عرب امارات کی مایہ ناز اولمپک ایتھلیٹ مریم الفارسی نے انکشاف کیا ہے کہ ایک پیشہ ور کھلاڑی رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں روزے کے ساتھ اپنی کارکردگی اور توانائی کو کیسے برقرار رکھتا ہے۔ ۱۸؍سالہ مریم، جو پیرس ۲۰۲۴ء اولمپکس میں یو اے ای کی نمائندگی کرنے والی پہلی خاتون رنر بن کر تاریخ رقم کر چکی ہیں، اب ۲۰۲۸ء کے اولمپک گیمز کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
مڈل سیکس یونیورسٹی دبئی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے روزے کے دوران صحت مند رہنے اور ورزش جاری رکھنے کے حوالے سے اہم مشورے دیے۔ مریم الفارسی نے بتایا کہ وہ رمضان میں اپنی ٹریننگ کا شیڈول مکمل طور پر تبدیل کر دیتی ہیں۔ مریم اپنی مشقیں افطار سے تقریباً ۳۰؍ منٹ پہلے شروع کرتی ہیں۔ افطار کے وقت وہ فوری طور پر کاربوہائیڈریٹس کے لیے کیلا اور کافی استعمال کرتی ہیں تاکہ ٹریننگ کے دوران ضائع ہونے والی توانائی بحال ہو سکے۔

یہ بھی پڑھئے:ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ: متحدہ عرب امارات کی کنیڈا پر سنسنی خیز فتح

وہ سونے سے پہلے متوازن غذا لیتی ہیں اور سحری میں اسموتھی  اور ہلکی غذا کو ترجیح دیتی ہیں تاکہ سارا دن جسم میں پانی کی مقدار برقرار رہے۔ مریم کے مطابق، رمضان میں ورزش کرنے والوں کے لیے کچھ اصول ایسے ہیں جن پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہاکہ ’’ہر کھیل کی نوعیت الگ ہوتی ہے، لیکن ہائیڈریشن (پانی کی کمی کو پورا کرنا) اور الیکٹرولائٹس کا صحیح استعمال سب کے لیے ضروری ہے۔ چاہے آپ صبح سویرے ٹریننگ کریں یا افطار کے بعد، آپ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ آپ کے جسم کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے صحیح خوراک مل رہی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:فلم ڈان ۳ ؍ میں رتیک: رتیک روشن نے حقیقت بیان کر دی

اگر ٹریننگ کی شدت اور اوقات کو روزے کے مطابق ایڈجسٹ نہ کیا جائے تو پٹھوں کی کمزوری، تھکن اور ڈی ہائیڈریشن جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ مریم نے بتایا کہ وہ اپنے کوچ کے ساتھ مل کر سیشنز کو ترتیب دیتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رمضان میں تھکن کا احساس ہونا فطری ہے۔ میرے کوچ اس بات سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ میں روزے سے ہوں، اس لیے وہ سیشنز کو اسی حساب سے تیار کرتے ہیں، تاہم ہم کوشش کرتے ہیں کہ ٹریننگ کی شدت (Intensity) برقرار رہے کیونکہ میرے سامنے بڑے اہداف ہیں۔‘‘ مریم الفارسی نے ۱۰۰؍ میٹر دوڑ میں ۱۳؍ سیکنڈ سے کم کا فاصلہ طے کر کے سب کو حیران کر دیا تھا اور اب ان کا ہدف ۲۰۲۸ء کے اولمپکس سے قبل اس وقت کو ۱۲؍ سیکنڈ سے کم پر لانا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK