ہندی سنیما میں بعض فنکار ایسے ہیں جنہوں نے بہت کم عمری میں فلمی دنیا میں قدم رکھا اور وقت کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔پدمنی کولہاپورےبھی انہی اداکاراؤں میں شامل ہیں۔
پدمنی کولہاپورے۔ تصویر: آئی این این
ہندی سنیما میں بعض فنکار ایسے ہیں جنہوں نے بہت کم عمری میں فلمی دنیا میں قدم رکھا اور وقت کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔پدمنی کولہاپورےبھی انہی اداکاراؤں میں شامل ہیں۔ انہیں آج ’ستیم شیوم سندرم‘، ’انصاف کا ترازو‘ اور ’پریم روگ‘ جیسی فلموں میں اپنی یادگار اداکاری کے لیے جانا جاتا ہے، لیکن بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ اداکاری کی دنیا میں نام کمانے سے پہلے وہ گلوکاری بھی کیا کرتی تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہےکہ انہوں نے فلموں میں بطور کورس گلوکارہ کام کیا تھا اور کئی فلمی گیتوں میں ان کی آواز شامل رہی۔ ان کے والدپنڈت پنڈھریناتھ کولہاپورے کا تعلق کلاسیکی موسیقی سے تھا، اس لیے گھر میں موسیقی کا ماحول تھا۔ پدمنی کو بچپن ہی سے گانے اور رقص کا شوق تھا۔ انہوں نے محض۷؍برس کی عمر میں فلموں میں کام کرنا شروع کردیا تھا۔ ابتدا میں وہ اپنی بہن شیوانگی کولہاپورے کے ساتھ فلمی گیتوں کے کورس میں آواز دیا کرتی تھیں۔ ’یادوں کی بارات‘، ’کتاب‘ اور ’دشمن دوست‘ جیسی فلموں کے گیتوں میں بھی ان کی آواز شامل رہی۔اس کے علاوہ ان کی اداکاری سے سجی تو کئی فلمیں آج بھی یاد کی جاتی ہیں اور ان کے مداح ان فلموں کو دیکھتے ہیں۔