• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’میں زندہ ہوں‘ ‘مشہور انفلوینسر اُلہاس کامٹے کویہ کیوں کہنا پڑا؟

Updated: November 03, 2026, 1:31 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

’چکن لیگ پیس‘ سے سوشل میڈیا پر مشہور اُلہاس کی موت کی افواہ اڑگئی تھی جس پر انہوں نے ویڈیو پوسٹ کیا۔

Ulhas Kamte also runs a restaurant in Ghatkopar called `Chicken Leg Piece`. Photo: INN
اُلہاس کامٹے چکن لیگ پیس‘ کے نام سے گھاٹکوپر میں ریسٹورنٹ بھی چلارہےہیں۔ تصویر: آئی این این

مشہور سوشل میڈیا انفلوینسر اور ’چکن لیگ پیس‘ کے نام سے شہرت حاصل کرنے والے اُلہاس کامٹے ان دنوں سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ یہ افواہ پھیل گئی ہے کہ اُلہاس کامٹے کو دل کا دورہ پڑا ہے اور ان کی موت ہوگئی ہے۔ تاہم اُلہاس کامٹے نے خود سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کرکے واضح کیا کہ ’’میں زندہ ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہارٹ اٹیک اورپھر موت کے دعوے محض افواہ ہیں اور وائرل ہونے والی ویڈیو پرانی ہے۔ اس وضاحت کے بعد ان کے مداحوں نے راحت کی سانس لی۔

معلوم ہوکہ کچھ دن پہلے اُلہا س کامٹے ہارر فلم ’جھاڑ پھونک‘ کے پریمیئر میں گئے تھے۔ وہ وہاں جانے والے نہیں تھے کیونکہ انہیں ڈراؤنی فلموں سے ڈر لگتا ہے۔ تاہم دوست کے اصرار پر وہ فلم دیکھنے چلے گئے۔ فلم میں ایک خوفناک منظر دیکھ کر وہ اس قدر گھبرا گئے کہ وہیں بے ہوش ہوگئے۔

یہ بھی پڑھئے:ریاست کی کئی عدالتوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی سے سنسنی پھیل گئی

انہیں ’پینک اَٹیک‘ ہوا تھا۔ ان کے دوست فوری طور پر انہیں کوکیلا بین اسپتال لے گئے، جہاں ان کا علاج کیا گیا اور کچھ وقت بعد انہیں ڈسچارج کردیا گیا۔ اس واقعے کے بعد انہیں اسپتال لے جاتے وقت کسی نے ویڈیو بنا لی تھی۔ وہی ویڈیو دوبارہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ان کی موت کی افواہ پھیلنے لگی۔

 کون ہیں اُلہاس کامٹے؟

اُلہاس کامٹے مقبول سوشل میڈیا انفلوینسر اور یوٹیوبر ہیں۔ انٹرنیٹ پر انہیں ’چکن لیگ پیس مین‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔دیگر سوشل میڈیا انفلوینسرز کو چیلنج کرکے اپنے عجیب و غریب انداز میں چکن اور مٹن کھاتے ہوئے ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہتی ہیں۔ اسی منفرد انداز نے انہیں ’چکن لیگ پیس مین‘ کے نام سے مشہور کردیا۔۲۰۱۸ءمیں ٹک ٹاک پر ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں وہ چکن لیگ پیس کھاتے ہوئے نظر آرہے تھے۔ کھانے کے دوران اپنے مخصوص انداز میں بات کرنے کا ان کا طریقہ لوگوں کو اس قدر پسند آیا کہ ویڈیو زبردست وائرل ہوگئی۔ اس طرح وہ راتوں رات  مشہور ہوگئے۔ اس کے بعد ان کی دیگر ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے لگیں اور ان کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ فوڈ بلاگر کے طور پر ان کی شناخت قائم ہوگئی۔ انسٹاگرام سمیت متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کے لاکھوں مداح ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK