• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کے قشم جزیرے میں دھماکے، آبنائے ہرمز میں امریکی حملوں کی اطلاعات

Updated: November 03, 2026, 1:15 PM IST | Tehran

آبنائے ہرمز میں دھماکوں اور امریکی حملوں کی اطلاعات نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ایک نئی پیش رفت پیدا کردی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی مذاکرات بھی جاری ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایران کے جزیرے قشم میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے جب امریکی ذرائع ابلاغ نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں ’دفاعی حملے‘ کیے ہیں۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق، پیر کی رات گئے یکے بعد دیگرے کئی دھماکے ہوئے۔ عینی شاہدین نے ایجنسی کو بتایا کہ انہوں نے جزیرے کے اوپر دو طیاروں کو پرواز کرتے دیکھا۔ قشم جزیرہ ایران کے جنوبی ساحل کے قریب آبنائے ہرمز کے نزدیک واقع ہے۔ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ نے بھی رپورٹ کیا کہ بندرگاہی شہر بندر لنگہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جو سمندر کی جانب سے آرہی تھیں۔

’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکی فوج نے یہ حملے کیے ہیں۔ اخبار کے مطابق، بعض امریکی حکام نے ان حملوں کو دفاعی کارروائی قرار دیا، جن کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے کرنے کی ایران کی صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن نے جان بوجھ کر اس مہم کو خاموش رکھا تاکہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کی بحالی کا اشارہ نہ جائے۔ خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ نے بھی ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی اہداف پر دفاعی حملے کیے ہیں۔ عہدیدار کے مطابق، ان حملوں میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے ’’ایرانی امریکی اثاثوں کے خلاف زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل استعمال کر رہے تھے۔‘‘

’فاکس نیوز‘ اور ’ایکسيوس‘ کے نامہ نگاروں نے بتایا کہ یہ حملے پیر کے روز آبنائے ہرمز میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی جانب سے ایک امریکی طیارے پر فائرنگ کے جواب میں کیے گئے۔ امریکی عہدیدار کے حوالے سے فاکس نیوز کی صحافی جینیفر گریفن نے کہا کہ اس واقعے کا مطلب ’’امریکہ کی جانب سے وسیع پیمانے پر حملوں کا آغاز‘‘ نہیں ہے۔ تاہم ایران یا امریکہ کے حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کی ’لیٹر مڈوائف‘ فریش برانڈٹ نے ہاتھ سے خط لکھنے کی اہمیت اجاگر کی

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات

اس سے قبل پیر کے روز ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے الیکٹرانک جنگی نظام استعمال کرتے ہوئے قشم کے جنوب میں امریکہ کے دو ڈرون طیاروں کو قبضے میں لے لیا ہے، جنہیں اس نے جاسوسی طیارے قرار دیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کے مشرق میں ایک ایم کیو ۹؍ ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ واضح رہے کہ امریکی حملوں کی یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکہ میں اہم وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں بھی ہوئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملوں کو روکنے کیلئے سفارتی کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ جلد طے پاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’تیل کی قیمتیں تیزی سے گر رہی ہیں اور فی بیرل تقریباً ۱۰؍ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو ایک ریکارڈ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو لگتا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں ہوگی۔ ایران جلد از جلد معاہدہ چاہتا ہے۔ ایسا ہوسکتا ہے!‘‘ اس سے قبل جب صحافیوں نے ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا وہ منگل کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملے کرنے پر غور کر رہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا، ’’نہیں۔‘‘ دوسری جانب، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حملوں کی اطلاعات سامنے آنے سے قبل مذاکرات کے حوالے سے امید کا اظہار کیا تھا۔ پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اسی دن پہلے ٹرمپ کے ساتھ ان مذاکرات پر بات ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: زمین تقسیم ہورہی ہے! دو براعظموں کے درمیان ایسی دراڑ جہاں تیراکی ممکن

ایران کے سیکوریٹی چیف محسن رضائی کو گزشتہ ہفتے بھیجے گئے اپنے خط کے بارے میں سوال پر وینس نے کہا، ’’ہماری ایرانیوں کے ساتھ کئی اچھی بات چیت ہوئی ہے۔ صدر اور میں، دونوں اس بات کے بارے میں کافی پُرامید ہیں کہ ممکنہ طور پر مذاکرات کے ذریعے کسی معاہدے تک پہنچا جاسکتا ہے۔ ہم اس کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے۔‘‘ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران نے امن کیلئے اپنے مطالبات واضح طور پر واشنگٹن تک پہنچا دیے ہیں اور ’’اب فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی مجوزہ تجویز کو مختصر شکل دے دی گئی ہے اور اگر واشنگٹن تہران کی شرائط تسلیم کرلے تو اس پر دو دن کے اندر عمل درآمد ممکن ہے۔ ان شرائط میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا اور جنگی کارروائیاں بند کرانے کی ضمانت دینا شامل ہے، تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور مذاکرات بحال کرنے کی راہ ہموار ہوسکے۔

سفارتی کوششوں کے باوجود اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو بھی امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملوں کی ایک اور لہر شروع کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ نے دو علاقائی عہدیداروں اور معاملے سے واقف ایک تیسرے شخص کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK