۸۵۸؍ کروڑ روپے تخمینے کا۷۰؍فیصد مرکزی حکومت اور ۳۰؍ فیصد اخراجات کی ادائیگی مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے سَر ہوگی۔
EPAPER
Updated: November 03, 2026, 1:04 PM IST | Mukhtar Adeel | Malegaon
۸۵۸؍ کروڑ روپے تخمینے کا۷۰؍فیصد مرکزی حکومت اور ۳۰؍ فیصد اخراجات کی ادائیگی مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے سَر ہوگی۔
ریاستی حکومت کی وزارتِ شہری ترقیات کی معرفت مہاراشٹر اَربن واٹرسپلائی،سینیٹیشن اور رِی یُوز پروگرام سے استفادہ کیلئے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کمربستہ ہے۔اس پروگرام کے نوڈل آفیسر کے طورپر شیخ توصیف(اسسٹنٹ میونسپل کمشنر) کی نامزدگی عمل میں آئی۔سرکاری سیاق وسباق سے عیاں ہونیوالے ابتدائی معانی ومفاہیم کے مطابق اس پروگرام کے ذریعے ’توسیع شدہ مالیگاؤں‘ میں آب رسانی اور گندے پانی کی نکاسی کے منصوبے روبہ عمل لائیں گے۔اس پروگرام کے معاملے میں میونسپل انتظامیہ پر برسر اقتدار سیکولر فرنٹ اور حزبِ اختلاف مجلس اتحاد المسلمین کے درمیان زبردست لفظی جھڑپیں بھی جاری ہیں۔
برسرِ اقتدار کا موقف
اس پروگرام کی عمل آوری کیلئے برسرِ اقتدار انڈین سیکولر پارٹی اور سماج وادی پارٹی پوری طرح کمربستہ ہیں۔اسے جائز اور فائدے مند بتانے کی پوری کوششیں کی جارہی ہیں۔اس ضمن میں ایک پریس کانفرنس یکم نومبر اتوارکی سہ پہر اُردوگھر میں لی گئی۔
یہ بھی پڑھئے:دُھبری میں انہدامی کارروائی،۵۵۰؍خاندان بے گھر
یہاں پر میئر شیخ نسرین،نائب میئر انصاری شانِ ہند،اعجاز بیگ (میونسپل اسٹینڈنگ کمیٹی چیئرمن ،کانگریس)، سماج وادی پارٹی کے میونسپل لیڈر محمد مستقیم،انڈین سیکولر پارٹی کے میونسپل ہاؤس لیڈر نہال سلیمان اور سابق ایم ایل اے شیخ آصف و دیگر شریک ہوئے۔ان سبھی نے اپنے خطبات میں کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے توسیع شدہ مالیگاؤں میں آب رسانی اور صفائی نظام کو چست درست رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔اس میں شہری انتظامیہ مقروض نہیں ہوگی بلکہ ۸۵۸؍ کروڑ روپے تخمینے کا ۷۰؍فیصد مرکزی حکومت اور ۳۰؍ فیصد اخراجات کی ادائیگی مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے سَر ہوگی۔
حزبِ اختلاف کا نظریہ
چونکہ متذکرہ پروجیکٹ میں ورلڈ بینک کلیدی شراکت دار ہے۔ قرضہ جات سطح پر مالیات فراہمی کیلئے ورلڈ بینک اس پروجیکٹ میں شامل ہے۔اس تناظر میں مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں حزبِ اختلاف آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے میونسپل لیڈر عبدالمالک یونس عیسیٰ نے کہا کہ شہری انتظامیہ کو مقروض بنانے کی سازش کی جارہی ہے۔اتنے بڑے منصوبے کی تکمیل کیلئے زرِ خطیر درکار ہے۔ مستقبل میں اسکے منفی اثرات مالیگاؤں کے شہریوں کو جھیلنے پڑیں گے۔مجلس کے سینئر رُکن بلدیہ اور سابق چیئرمن میونسپل اسٹینڈنگ کمیٹی نے کہا کہ شہری انتظامیہ کے سَر قرضہ جات پہلے سے چڑھے ہوئے ہیں۔اس کی ادائیگی تو ہوتی نظر نہیں آتی۔نئے مد میں قرض کی حصولیابی شہریوں اور لوکل سیلف باڈی کے حق میں بہتر نہیں ہے۔