• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تجارتی معاہدہ کیخلاف کسانوں کی مسلح جدوجہد کی دھمکی

Updated: October 23, 2026, 10:45 AM IST | Agency | New Delhi

آل انڈیا کسان سبھا کی مودی حکومت کو وارننگ ، امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ فوراً رَد کرنے کا مطالبہ ، ملک کے کسانوں کے مفاد میں کام کرنے کی اپیل۔

The All India Kisan Sabha is one of the major farmers` organizations and has thousands of members. Photo: INN
آل انڈیا کسان سبھا کسانوں کی اہم تنظیموں میں سے ایک ہے اور اس کے ہزاروںممبران ہیں۔ تصویر: آئی این این

آل انڈیا کسان سبھا نے امریکہ کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدہ کو لے کر مرکزی حکومت کو ایسی دھمکی دے ڈالی ہے جس سے حکومت کو پسینے آگئے ہیں۔ کسانوں کی   اس معروف تنظیم نے بالکل واضح اور دوٹوک انداز میں کہہ دیا ہے کہ اگر نریندر مودی حکومت امریکہ کے ساتھ تجارتی  معاہدے کو آگے بڑھاتی ہے تو اسے کسانوں کی جانب سے ’سخت مزاحمت‘ بلکہ مسلح مزاحمت اور احتجاج کاسامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تنظیم نے الزام عائد کیا کہ واشنگٹن کے مطالبات کے سامنے رعایتیں دینے سے ملک کے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچے گا اور زراعت میں بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری کو فروغ ملے گا۔

ٹائمز آف انڈیا کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق کسان سبھا نے اپنے بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مجوزہ تجارتی معاہدے کو مسترد کردے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ امریکی زرعی پیداوار کو بڑے پیمانے پر سرکاری سبسیڈی حاصل ہے جس کے باعث ہندوستانی کسانوں کے لئے امریکی زرعی مصنوعات کا مقابلہ کرنا مشکل ہوجائے گا۔ اس کے نتیجے میں ملک کے لاکھوں کسانوں کی روزی روٹی اور معاشی سلامتی خطرے میں پڑسکتی ہے۔کسان سبھا  نے مجوزہ معاہدے کو امریکی مفادات کے سامنے ہندوستان کے مفادات سے سمجھوتہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس ’ملک مخالف تجارتی معاہدے‘ پر آگے بڑھتی ہے تو اسے کسانوں کی مسلح مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔کسان حکومت کو سبق سکھانے سے باز نہیں آئیں گے۔ تنظیم نے اپنی تمام اکائیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاہدے کیخلاف طویل اور ہر طرح کی  جدوجہد کے لئے تیار رہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان: ہر پانچواں کالج طالب علم انٹرپرینیور ہے: آئی آئی ٹی منڈی سروے

معروف انگریزی اخبارات ’’ڈیکن ہیرالڈ‘‘ اور’’ نیوانڈین ایکسپریس‘‘ کی ویب سائٹس پر شائع رپورٹس کے مطابق  کسان سبھا نے باقاعدہ بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو کے  دورے اور ہندوستانی حکام کے ساتھ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے  لئےمذاکرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت اپنے سامراجی آقاؤں کو خوش کرنے کے  لئےکسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔تنظیم نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ مجوزہ معاہدے کی تفصیلات سے پارلیمنٹ کو بے خبر رکھا گیا ہے جبکہ مذاکرات بظاہر تکمیل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ کسان سبھا کے مطابق، اتنے اہم معاہدے پر پارلیمنٹ ،عوام اور کسانوں کو اعتماد میں لیا جانا چاہئے تھا کیونکہ اس کے اثرات ملک کے زرعی شعبے اور کسانوں کی معیشت پر دور رس ہوسکتے ہیں۔ 

کسانوں کی تشویش کیا ہے؟
کسان تنظیم  کے مطابق اس معاہدہ کے مطابق ملک میں دودھ اور دودھ سے تیار ہونے والی امریکی مصنوعات فروخت  ہونا شروع ہو جائیں گی جس سے مقامی کسان اور ڈیری صنعت ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ جائیں گی۔ 
تنظیم کو خدشہ ہے کہ اگر امریکی زرعی مصنوعات کو ہندوستانی منڈی میں زیادہ رسائی دی گئی تو مقامی پیداوار کی قیمتوں پر دباؤ بڑھے گا اور چھوٹے و متوسط کسانوں کیلئے اپنی پیداوار فروخت کرنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔تنظیم کے مطابق ملک کی  منڈیوں تک امریکی غذائی اجناس کی  رسائی کی وجہ سے ملک میں پہلے سے بڑھی ہوئی بے روزگاری مزید بے قابو ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK