Inquilab Logo Happiest Places to Work

فیفا کا نجی سرمایہ کاری منصوبے پر مشاورت جاری رکھنے کا اعلان، مخالفت برقرار

Updated: July 31, 2026, 5:04 PM IST | Zurich

فیفا نے اپنے عالمی مقابلوں کے تجارتی حقوق سے متعلق نجی سرمایہ کاری کے مجوزہ منصوبے پر شدید مخالفت کے باوجود رکن ممالک کے ساتھ مشاورتی عمل جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حتمی فیصلہ تمام ایسوسی ایشنز کی رائے کی روشنی میں کیا جائے گا۔

Gianni Infantino.Photo;X
جیانی انفاننٹیو۔تصویر:ایکس

فیفا نے اپنے عالمی مقابلوں کے تجارتی حقوق سے متعلق نجی سرمایہ کاری کے مجوزہ منصوبے پر شدید مخالفت کے باوجود رکن ممالک کے ساتھ مشاورتی عمل جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حتمی فیصلہ تمام ایسوسی ایشنز کی رائے کی روشنی میں کیا جائے گا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فیفا نے کہا ہے کہ عالمی مقابلوں میں نجی سرمایہ کاروں کو اقلیتی حصص فروخت کرنے کی تجویز پر رکن ممالک سے مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا، تاکہ تمام فریق حقائق کی بنیاد پر اپنی رائے دے سکیں۔

یہ بھی پڑھئے:اداکارہ سونالی بیندرے اب فلم پریزنٹربنیں، فلم ’سولہ‘ سے سنیما کے نئے سفر کا آغاز


رپورٹ کے مطابق یورپی فٹ بال تنظیم (یوئیفا) کی  ۵۵؍رکن ایسوسی ایشنز پہلے ہی خبردار کر چکی ہیں کہ اگر منصوبے کو آگے بڑھایا گیا تو وہ آئندہ ورلڈ کپ ٹورنامنٹس کے بائیکاٹ پر غور کریں گی، جبکہ شمالی اور وسطی امریکہ کی کنفیڈریشن (کونکاکاف) کی ۴۱؍ رکن ایسوسی ایشنز نے بھی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ فیفا کا کہنا ہے کہ بعض میڈیا رپورٹس نے مشاورتی عمل کو متاثر کیا، تاہم تمام ۲۱۱؍ رکن ممالک کو اپنی رائے پیش کرنے کا مکمل اور منصفانہ موقع فراہم کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے:برازیل کی فٹ بال ٹیم ہندوستان اور آسٹریلیا کے ساتھ کھیلے گی دوستانہ میچ


عالمی فٹ بال تنظیم نے واضح کیا کہ’’فٹ بال کو فروخت نہیں کیا جا رہا‘‘ بلکہ فیفا فارورڈ انٹرپرائز کے نام سے ایک نئی تجارتی ذیلی کمپنی قائم کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جو فیفا ورلڈ کپ اور دیگر بڑے ٹورنامنٹس کے تجارتی امور کی نگرانی کرے گی۔ اس کمپنی میں بیرونی سرمایہ کار صرف اقلیتی اور غیر کنٹرولنگ حصص کے مالک ہوں گے۔رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کی منظوری کے لیے فیفا کی ۲۱۱؍ رکن ایسوسی ایشنز میں سے کم از کم ۱۰۶؍ ووٹ درکار ہوں گے، تاہم یوئیفا اور کونکاکاف کی مجموعی ۹۶؍ رکن ایسوسی ایشنز کی مخالفت کے باعث اس تجویز کی منظوری کو ایک بڑا چیلنج درپیش ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK