Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملبے پر فٹ بال: غزہ کے یتیم بچوں نے میدان میں پناہ تلاش کر لی

Updated: May 11, 2026, 5:03 PM IST | Gaza

غزہ میں جاری جنگ نے جہاں زندگی کے ہر شعبے کو مفلوج کر دیا ہے، وہیں کھیلوں کا انفراسٹرکچر بھی مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ تاہم، ۱۶؍ سالہ محمد ایاد عزام جیسے ہزاروں بچے اس ملبے اور تباہی کے درمیان فٹ بال کو اپنی ذہنی بقا اور صدمے سے نکلنے کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔

Gaza Football.Photo:INN
غزہ فٹبال۔ تصویر:آئی این این

غزہ میں جاری جنگ نے جہاں زندگی کے ہر شعبے کو مفلوج کر دیا ہے، وہیں کھیلوں کا انفراسٹرکچر بھی مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ تاہم، ۱۶؍ سالہ محمد ایاد عزام جیسے ہزاروں بچے اس ملبے اور تباہی کے درمیان فٹ بال کو اپنی ذہنی بقا اور صدمے سے نکلنے کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔ 
محمد ایاد عزام اکتوبر ۲۰۲۴ء میں ایک فضائی حملے میں اپنے والدین اور دو بھائیوں کو کھو بیٹھے۔ وہ خود ۱۰؍ منٹ تک ملبے تلے دبے رہے اور معجزانہ طور پر زندہ بچ گئے۔ کبھی لاڈ پیار میں پلنے والا یہ بچہ اب اپنی بوڑھی دادی کا واحد سہارا ہے اور پناہ گزین کیمپ میں پانی بھرنے اور آگ جلانے جیسے بھاری کام کرتا ہے۔ محمد کہتے ہیںکہ ’’دوسرے کھلاڑیوں کے بھائی اور باپ ان کی حوصلہ افزائی کے لیے وہاں موجود ہوتے ہیں، لیکن میرا اب کوئی نہیں، میں انہیں بہت یاد کرتا ہوں۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے:سلمان خان واحد اداکار ہیں جو کبھی میرے قد سے غیرمحفوظ نہیں ہوئے: پوجا بترا


فلسطینی فٹ بال ایسوسی ایشن کے مطابق، اسرائیلی جارحیت نے کھیلوں کے شعبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ کھیلوں سے وابستہ۱۱۱۳؍ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں۵۶۰؍ سے زائد فٹ بال کھلاڑی، کوچز اور منتظمین شامل ہیں۔ پورے غزہ میں ۲۶۵؍ کھیلوں کی سہولیات تباہ یا متاثر ہوئی ہیں۔ غزہ کے تمام ۵۶؍ فٹ بال کلب براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ محمد کا اپنا کلب، خدمات جبالیہ ، تباہ کر دیا گیا اور اسے عارضی طور پر حراستی مرکز میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ بڑے اسٹیڈیمز کی تباہی کے بعد، اب صرف تین چھوٹے میدان باقی بچے ہیں جہاں نوجوانوں کے لیے ٹورنامنٹس منعقد کیے جاتے ہیں۔ محمد اور ان جیسے دیگر کھلاڑیوں کو ٹینٹوں اور ملبے کے درمیان۳؍ سے ۴؍ کلومیٹر پیدل چل کر میدان تک پہنچنا پڑتا ہے، جہاں کسی بھی وقت فضائی حملے کا خطرہ رہتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:ممبئی انڈینز کو دو وکٹوں سے شکست دے کر آر سی بی پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست


فلسطینی حکام نے عالمی فٹ بال تنظیم فیفا کے رویے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یوکرین پر حملے کے بعد روس پر فوری پابندیاں لگائی گئیں، لیکن اسرائیل کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔اسرائیلی کلب مقبوضہ فلسطینی زمین پر کھیل رہے ہیں، لیکن فیفا کی خاموشی برقرار ہے۔ تمام تر صدمات اور وسائل کی کمی کے باوجود محمد اپنے والدین کے خواب کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’میرا خواب ایک پروفیشنل فٹ بالر بننا ہے کیونکہ یہ میرے والدین کا خواب تھا۔ میرے والد نے ہی میرا نام کلب میں لکھوایا تھا اور میری ماں ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK