Updated: March 12, 2026, 4:12 PM IST
| Mumbai
فلمساز وشال بھردواج نے کہا ہے کہ موجودہ فلمی ماحول میں حساس اور بامقصد سنیما کے لیے سرمایہ حاصل کرنا اور اسے سنیما گھروں تک پہنچانا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے، جبکہ تھیٹر اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے درمیان غیر واضح تقسیم اچھی فلموں کے راستے میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
وشال بھردواج۔ تصویر: آئی این این
معروف ہندوستانی فلم ساز وشال بھردواج نے کہا ہے کہ آج کے فلمی ماحول میں بامعنی اور حساس سنیما بنانا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ ایک حالیہ گفتگو میں انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ ایسی فلمیں جو انسانی جذبات اور سماجی حساسیت پر مبنی ہوں، انہیں نہ صرف فنڈنگ حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں بلکہ انہیں مناسب ناظرین تک پہنچانا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ وشال بھردواج نے کہا کہ موجودہ فلمی صنعت ایک عجیب مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں تھیٹر ریلیز اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے درمیان واضح حد بندی موجود نہیں رہی۔ ان کے مطابق اس صورتحال میں بہت سی اچھی فلمیں درمیان میں ہی متاثر ہو جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’دُھرندھر۲ ‘‘ کی ریلیز سے قبل ’’دُھرندھر‘‘ کی ری ریلیز
انہوں نے اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اب آپ ان فلموں کے لیے آسانی سے پیسے اکٹھے نہیں کر سکتے۔ ایک سیدھی لکیر کھینچ دی گئی ہے کہ اگر یہ موضوع ہے تو اسے او ٹی ٹی پر لے جائیں، اور او ٹی ٹی والے کہتے ہیں کہ پہلے اسے سنیما گھروں میں ریلیز کریں پھر ہم اسے لیں گے۔ اس پورے عمل میں اچھی فلمیں شکست کھا رہی ہیں۔‘‘ وشال بھردواج کے مطابق آج کے ماحول میں وہ فلمیں بھی شاید مشکل سے بن پائیں جنہوں نے ماضی میں سنیما کو نئی پہچان دی تھی۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے اپنی فلم ’’حیدر‘‘، وکرم آدتیہ موٹوانے کی فلم ’’اڑان‘‘ اور انوراگ کشیپ کی فلم ’’گینگز آف واسع پور‘‘ کا ذکر کیا، جو تھیٹر میں ریلیز ہونے کے بعد کلٹ کلاسک بن گئیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایسی فلموں کو سرمایہ فراہم کرنے والے بھی آسانی سے نہیں ملتے۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈسٹری کے کئی اہم ہدایت کار اب زیادہ تر او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم فلم سازی کے ایک بہت ہی عجیب اور مشکل مرحلے میں ہیں۔ میرے خیال میں یہ صرف ہندوستان تک محدود نہیں بلکہ ایک عالمی رجحان ہے۔ تھیٹر کے لیے بننے والی فلموں کی نوعیت مکمل طور پر بدل گئی ہے۔‘‘ وشال بھردواج نے انوراگ کشیپ، دیباکر بنرجی، شری رام راگھوان، وکرم آدتیہ موٹوانے اور امتیاز علی جیسے ہدایت کاروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے کئی اب اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے لیے زیادہ کام کر رہے ہیں کیونکہ وہاں مواد کے لیے زیادہ مواقع موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مجھے گندگی میں رہنا پسند نہیں:پرینکا چوپڑہ نے بالی ووڈ چھوڑنے کی وجہ بتائی
ہدایت کار نے یہ بھی کہا کہ تھیٹر کے ٹکٹوں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی ناظرین کے رویے کو متاثر کر رہی ہیں۔ انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خود حیرت ہوئی جب انہیں پتہ چلا کہ سنیما کے ٹکٹ کتنے مہنگے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’’میں دہلی میں تھا اور میرے چند دوست میری فلم دیکھنے جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چھ ہزار روپے دیں کیونکہ ہم آپ کی فلم دیکھنے جا رہے ہیں۔ وہ تین لوگ تھے۔ میں نے پوچھا چھ ہزار کیوں؟ تو انہوں نے کہا کہ یہاں ٹکٹ کی قیمت تقریباً انیس سو روپے فی سیٹ ہے۔‘‘ وشال بھردواج کے مطابق پہلے سیٹیلاائٹ ٹیلی ویژن نے بھی سنیما گھروں کو متاثر کیا تھا، مگر موجودہ صورتحال اس سے مختلف ہے کیونکہ اب زیادہ تر فلمیں تھیٹر میں ریلیز ہونے کے چند ہفتوں کے اندر ہی او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر دستیاب ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ناظرین کو معلوم ہوتا ہے کہ فلم چند ہفتوں میں گھر بیٹھے دیکھنے کے لیے دستیاب ہو جائے گی تو وہ سنیما جانے کے بجائے انتظار کرنا پسند کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مدھوبالا کی بایوپک میں انیت پڈا کی شمولیت کی افواہیں غلط، کیارا اڈوانی زیرغور
انہوں نے مزید کہا کہ ’’لوگوں کو یہ احساس دلانے کے لیے کہ انہیں ابھی سنیما جا کر فلم دیکھنی چاہیے اور آٹھ ہفتے انتظار نہیں کرنا چاہیے، آپ کو بہت سی چیزیں کرنی پڑتی ہیں۔ اس ماحول میں دل اور حساسیت سے بنی فلمیں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔‘‘ وشال بھردواج کا کہنا تھا کہ اگر فلمی صنعت کو متوازن بنانا ہے تو ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں تخلیقی اور بامعنی سنیما کو بھی وہی مواقع مل سکیں جو بڑی تجارتی فلموں کو حاصل ہوتے ہیں۔