Updated: May 05, 2026, 10:05 PM IST
| Gaza City
اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے غزہ میں ہوئی بڑے پیمانے پر تباہی نے رہائش کے شدید بحران کو جنم دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اکتوبر ۲۰۲۵ء کے درمیان غزہ کے کم از کم ۹۲ فیصد رہائشی یونٹس شدید متاثر ہوئے یا مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ غزہ کی آبادی کا ۹۰ فیصد سے زائد حصہ بے گھر ہوچکا ہے۔
تباہ حال غزہ کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس
جنگ بندی کو تقریباً سات ماہ مکمل ہونے کے باوجود، محصور فلسطینی علاقے میں پابندیوں اور سیاسی تعطل کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو کی کوششیں تاحال رکی ہوئی ہیں۔ اس صورتحال میں غزہ کے باشندے ملبے اور بچا کھچا تعمیراتی مواد استعمال کرکے اپنی زندگیوں کی تعمیرِ نو کی کوشش کر رہے ہیں۔
تعمیراتی مواد تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے، فلسطینی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کو دوبارہ استعمال (ری سائیکل) کر رہے ہیں تاکہ اپنے متاثرہ گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی مرمت کرسکیں۔ غزہ کی تعمیرِ نو پر اقوامِ متحدہ کے مشیر مامون بسیسو کے مطابق، امدادی ایجنسیوں کو عارضی حل پر انحصار کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ”اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے ملبے کو ری سائیکل کرنا شروع کیا ہے اور یہ مواد مرمت کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے، نئی تعمیرات کیلئے نہیں۔“ ری سائیکل شدہ مواد کو اسپتالوں، اسکولوں اور پانی کے نظام کی بحالی کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن نئے ترقیاتی منصوبے ابھی شروع نہیں ہو پائے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نےایران کےخلاف جنگ شروع کردی، یہ نہیں جانتا کہ امریکہ، اسرائیل کیلئےنتائج کیسےہوگے: اوبامہ
پورے علاقے میں دھاتی چادروں اور لکڑی کے تختوں سے بنے عارضی اسکول وجود میں آگئے ہیں، جبکہ کچھ یونیورسٹیوں نے تباہ شدہ عمارتوں یا خیموں میں محدود پیمانے پر کلاسیز کا آغاز کر دیا ہے۔ فلسطینی باشندے اسکریپ اور کچرے کو بھی ڈھانچوں کی پیوند کاری کیلئے استعمال کر رہے ہیں، جو تعمیراتی مواد کی سنگین قلت کو ظاہر کرتا ہے۔
اقوامِ متحدہ، ورلڈ بینک اور یورپی یونین کے مشترکہ جائزے کے مطابق، غزہ کی بحالی کیلئے اگلے عشرے میں ۴ء۷۱ بلین ڈالر درکار ہوں گے۔ اس میں سے ۳ء۲۶ بلین ڈالر ابتدائی ۱۸ مہینوں کے اندر ضروری خدمات اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کیلئے درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی افواج یونان کے ساحل پر کشتیوں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں: صمود فلوٹیلا
غزہ کا سنگین رہائشی بحران
اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے غزہ میں ہوئی بڑے پیمانے پر تباہی نے رہائش کے شدید بحران کو جنم دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اکتوبر ۲۰۲۵ء کے درمیان غزہ کے کم از کم ۹۲ فیصد رہائشی یونٹس یا تو متاثر ہوئے یا مکمل تباہ ہوگئے۔ غزہ کی آبادی کا ۹۰ فیصد سے زائد حصہ بے گھر ہوچکا ہے۔
بسیسو نے بتایا کہ ”زیادہ تر بے گھر فلسطینی انتہائی خستہ حال خیموں میں میں رہ رہے ہیں۔“ غزہ میں محدود تعداد میں پہلے سے تیار شدہ رہائشی یونٹس پہنچائے کئے گئے ہیں، لیکن سپلائی طلب سے نہایت کم ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ”ہمیں ۴۰ ہزار سے زیادہ یونٹس کی ضرورت ہے، لیکن صرف ۲ ہزار یا ۳ ہزار یونٹس ہی پہنچے ہیں۔“
کچھ خاندانوں نے جزوی طور پر تباہ شدہ گھروں کی مرمت کرکے وہاں رہنا شروع کر دیا ہے، لیکن آبادی کی اکثریت اب بھی مناسب پناہ گاہ سے محروم ہے کیونکہ بنیادی ڈھانچے کی ضروریات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطینیوں نے اسرائیلی قبضے کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر ’’جارحیت‘‘ سے خبردار کیا
سیاسی تعطل بحالی کی راہ میں رکاوٹ
تجزیہ کار تعمیرِ نو کے رکے ہوئے عمل کی بڑی وجہ سیاسی رکاوٹوں کو قرار دیتے ہیں۔ کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس سے تعلق رکھنے والی ضحیٰ حسن نے کہا کہ وسیع تر علاقائی کشیدگی کے باعث غزہ پر بین الاقوامی توجہ کم ہوگئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ نقشے سے کافی حد تک اوجھل ہو چکا ہے۔“ انہوں نے بتایا کہ غزہ کے انتظامات کیلئے قائم قومی کمیٹی، داخلے پر پابندیوں کی وجہ سے مؤثر طریقے سے کام کرنے سے قاصر ہے۔ ضحیٰ حسن نے نوٹ کیا کہ جنگ بندی معاہدے میں شامل انسانی امداد کی رسائی اور اسرائیلی افواج کے انخلاء جیسے کلیدی وعدوں کو پورا کرنے کی طرف نہایت محدود پیش رفت دیکھی گئی ہے۔
بسیسو نے بھی ان خدشات کی تائید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اضافی شرائط اور پابندیوں نے بحالی کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”غزہ کے لوگ شدید مایوس ہیں۔ کیونکہ عالمی توجہ اب کہیں اور منتقل ہو چکی ہے۔“