Updated: May 05, 2026, 9:00 PM IST
| Washington
موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اوبامہ نے کہا کہ نیتن یاہو کے ساتھ ان کے اختلافات، خاص طور پر ایران سے متعلق معاملات پر ”بھرپور ریکارڈ“ موجود ہے۔ انہوں نے جاری تنازع کے اسٹریٹجک اور سیاسی نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ غیر یقینی ہے کہ آیا یہ بالآخر اسرائیلی عوام یا امریکہ کے مفادات کیلئے سازگار ثابت ہوگا۔
اوبامہ اور نیتن یاہو۔ تصویر: ایکس
سابق امریکی صدر براک اوبامہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو طویل عرصے سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے حامی تھے اور بالآخر انہوں نے یہ مقصد حاصل کرلیا۔ تاہم، اوبامہ نے اس بات پر سوال اٹھایا کہ آیا اس جنگ کے نتائج اسرائیل یا امریکہ میں سے کسی کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہوگے۔ ان کا یہ بیان امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع کے بعد نافذ نازک جنگ بندی کے دوران سامنے آیا ہے۔
’دی نیو یارکر‘ (The New Yorker) میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں اوبامہ نے بتایا کہ نیتن یاہو نے ان کی صدارت کے دوران بھی ایران کے ساتھ مسلح تصادم کے حق میں اسی طرح کے دلائل پیش کئے تھے، جو بعد میں [موجودہ امریکی صدر] ڈونالڈ ٹرمپ کے سامنے بھی دہرائے گئے۔ اوباما نے کہا کہ ”ہو سکتا ہے کہ نیتن یاہو کو وہ مل گیا ہو جو وہ چاہتے تھے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اب بھی اس بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں کہ کیا اس کے نتائج دونوں ممالک کے طویل مدتی مفادات میں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا آبنائے ہرمز پر امریکہ و یو اے ای کو انتباہ:سیاسی بحران کا فوجی حل نہیں
اپنے نقطہ نظر پر روشنی ڈالتے ہوئے، اوبامہ نے ۲۰۱۵ء کے ایرانی جوہری معاہدے، جسے باضابطہ طور پر ’جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن‘ (JCPOA) کہا جاتا ہے، کے ذریعے اسلامی ملک کے ساتھ سفارت کاری کی پیروی کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ”تشخیص درست تھی۔“ انہوں نے اشارہ دیا کہ اس وقت جنگ سے بچنا ہی ترجیحی راستہ تھا۔
اوبامہ نے ۱۷-۲۰۱۶ کے صدارتی انتقالِ اقتدار کے دوران ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو بھی یاد کیا جس میں انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا تھا کہ وہ جوہری معاہدے سمیت اہم پالیسی کامیابیوں کو برقرار رکھے۔ ایران اور بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کا مقصد پابندیوں میں نرمی کے بدلے تہران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا تھا۔ بعد ازاں، ۲۰۱۸ء میں ٹرمپ انتظامیہ کے تحت امریکہ معاہدے کے دائرہ کار اور نفاذ سے متعلق خدشات کا حوالہ دے کر اس معاہدے سے دستبردار ہوگیا تھا اور ایران پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد کردی تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے، وہ سفارتکاری کا راستہ چاہتا ہے یا تصادم کا ؟
موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اوبامہ نے کہا کہ نیتن یاہو کے ساتھ ان کے اختلافات، خاص طور پر ایران سے متعلق معاملات پر ”بھرپور ریکارڈ“ موجود ہے۔ انہوں نے جاری تنازع کے اسٹریٹجک اور سیاسی نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ غیر یقینی ہے کہ آیا یہ بالآخر اسرائیلی عوام یا امریکہ کے مفادات کیلئے سازگار ثابت ہوگا۔