غزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے ۳۱۲؍ اماموں اور مبلغ کا قتل کیا، اس کے علاوہ ۱۰۵۰؍ مساجد مکمل طور پر تباہ کیں،غزہ میں رمضان کے مقدس مہینے میں وہ تمام روایات مکمل طور پر تبدیل ہو گئیں، جو فلسطینی رمضان سے وابستہ کئے ہوئے تھے۔
EPAPER
Updated: February 25, 2026, 1:03 PM IST | Gaza
غزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے ۳۱۲؍ اماموں اور مبلغ کا قتل کیا، اس کے علاوہ ۱۰۵۰؍ مساجد مکمل طور پر تباہ کیں،غزہ میں رمضان کے مقدس مہینے میں وہ تمام روایات مکمل طور پر تبدیل ہو گئیں، جو فلسطینی رمضان سے وابستہ کئے ہوئے تھے۔
غزہ پٹی میں مسلمانوں کا مقدس مہینہ رمضان ان سینکڑوں ائمہ، خطیبوں اور قراء کے بغیر شروع ہوا ہے جو اسرائیلی جنگ کے دوران شہید ہوگئے۔ اس جنگ نے سینکڑوں مساجد کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے اور ان روایات کو بدل کر رکھ دیا ہے جنہیں فلسطینی طویل عرصے سے اس ماہِ صیام سے وابستہ کیے ہوئے تھے۔فلسطینی ان ائمہ کی کمی محسوس کر رہے ہیں جو کبھی نماز کی امامت کرتے تھے، جمعے کے خطبے دیتے تھے اور مذہبی تعلیم دیاکرتے تھے، جو اس علاقے کی روحانی اور سماجی زندگی کی تشکیل کرتے تھے۔اب رہائشی لکڑی اور پلاسٹک کے خیموں میں نماز پڑھتے ہیں، جو تباہ شدہ مساجد کے ملبے پر یا اس کے ساتھ لگائے گئے ہیں، یا جزوی طور پر تباہ شدہ عمارتوں کے اندر جن کی دیواریں پھٹی ہوئی ہیں۔غزہ کی وزارت اوقاف و امور دینیہ کے مطابق، اسرائیل نے اپنی دو سالہ جنگ کے دوران ۳۱۲؍خطیبوں، ائمہ، مذہبی اساتذہ اور قراء کو شہید کر دیا اور کل۱۲۷۵؍ مساجد میں سے۱۰۵۰ء کو مکمل طور پر اور۱۹۱؍ کو جزوی طور پر تباہ کر دیا۔فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق، غزہ کی جنگ میں۷۲۰۰۰؍ سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں،۱۷۱۰۰۰؍ سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں، اور تقریباً۹۰؍ فیصد شہری نظام تباہ ہو چکا ہے۔
مذہبی شناخت
غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل، اسماعیل الثوابتہ نے کہا کہ’’ اسرائیل نے مذہبی اور سماجی علامات کو نشانہ بنایا جو تبلیغ، رہنمائی، سماجی امن کو مضبوط کرنے اور روحانی اقدار کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی تھیں۔‘‘الثوابتہ نے کہا کہ غزہ کی عیسائی برادری کے۲۰؍ افراد بھی اس وقت ہلاک ہوئے جب اسرائیل نے علاقے میں عیسائی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا۔انہوں نے مذہبی شعبے کو براہ راست ابتدائی نقصان کا تخمینہ تقریباً ایک ا رب ڈالر لگایا اور کہا کہ قبرستانوں کو بھی بلڈوز کیا گیا اور نشانہ بنایا گیا۔‘‘ان کا کہنا تھا، ’’بھاری نقصانات کے باوجود، فلسطینی تباہ شدہ مساجد میں یا پناہ گاہوں اور خیموں میں اپنی نمازیں ادا کرتے رہتے ہیں ، اس بات پر قائم رہتے ہوئے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت انہیں عبادت کرنے اور اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کا حق حاصل ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل عوام کے حوصلے توڑنے یا ان کی تہذیبی اور مذہبی شناخت کو مٹانے میں کامیاب نہیں ہوگا۔دریں اثناء انادولو نے اسرائیلی جنگ کے دوران شہید ہونے والے کئی نامور علماء کی نشاندہی کی ہے جو اہل فلسطین کی روحانی رہنمائی کیا کرتے اور مختلف دینی اور سماجی خدمات کی انجام دہی کیا کرتے تھے۔
یوسف سلامہ
فلسطین، کے نامور مذہبی علما میں سے ایک،سلامہ نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور استاد اور امام کیا، پھر غزہ کی وزارت اوقاف میں انتظامی عہدوں پر فائز رہے، اور بالآخر۲۰۰۵ء سے ۲۰۰۶ء تک وزیر رہے۔سلامہ۱۹۹۷ء سے۲۰۰۷ء تک مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصی ٰمیں دس سال تک خطیب بھی رہے اور اس عرصے کے دوران بیت المقدس میں اسلامی سپریم کونسل کے نائب سربراہ رہے۔ اسرائیلی فضائی حملے نے ان کے گھر کو نشانہ بنایا،جو وسطی غزہ کے مغازی پناہ گزین کیمپ میں تھا، جس میں وہ۳۱؍ دسمبر۲۰۲۳ء کو شہید ہو گئے۔
وائل الزردالزرد
غزہ شہر کی عظیم مسجد عمری اور الدرج محلے کی مسجد المحطہ کے امام تھے۔زرد نے یونیورسٹی کالج آف اپلائیڈ سائنسز میں بطور پروفیسر کام کیا اور اس سے قبل القدس اوپن یونیورسٹی اور اسلامی یونیورسٹی غزہ میں پڑھایا۔انہوں نے۲۰۰۱ء میں حدیث شریف میں ماسٹرز کیا اور بعد میں مصر کی عین شمس یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔اسرائیل نے۱۳؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کو غزہ شہر میں ان کے گھر کو نشانہ بنایا،جس کے دو دن بعد وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
ولید عویضہعویضہ
عالمی اتحاد علماء مسلمین کی فلسطینی شاخ کے رکن اور غزہ کی وزارت اوقاف کے شعبہ تحفیظ قرآن کے ڈائریکٹر جنرل تھے۔انہوں نے حدیث اور علوم الحدیث میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی اور اتحاد کے ایک سابقہ بیان کے مطابق،"اسلامی علم کے فروغ اور نوجوان نسلوں کی اسلامی اقدار کی طرف رہنمائی میں ان کا نمایاں کردار تھا۔۱۲؍ نومبر۲۰۲۴ء کو اسرائیلی حملے میں غزہ شہر کے صابرہ محلے میں ان کا گھر نشانہ بنا،جس میں وہ شہید ہو گئے۔
نائل مسرا ن
مسران اپنے خطبات کے لیے مشہور تھے جن میں وہ فلسطینیوں سے اسرائیلی جنگ کے دوران صبر اور استقامت کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کرتے تھے،اس سے قبل کہ وہ اور ان کا خاندان۳۰؍ مئی۲۰۲۵ء کو جنوبی غزہ کے خان یونس میں ان کے خیمے پر اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے۔مسران نے سول انجینئرنگ میں بیچلرز کیا،پھر شریعت کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں اصول الفقہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔