Updated: September 24, 2026, 7:04 PM IST
| New York
فیفا کے صدرجیانی انفانٹینو پر امریکی ایوانِ نمائندگان کی جوڈیشری کمیٹی کے ڈیموکریٹ اراکین نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ فیفا کے تعلقات سے متعلق جاری تحقیقات میں مطلوبہ تعاون نہیں کر رہے۔ کمیٹی کے مطابق انفانٹینو نے نہ تو تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی درخواست کا جواب دیا اور نہ ہی وہ دستاویزات فراہم کیں جو ان سے طلب کی گئی تھیں۔
جیانی انفاننٹیو۔تصویر:پی ٹی آئی
فیفا کے صدرجیانی انفانٹینو پر امریکی ایوانِ نمائندگان کی جوڈیشری کمیٹی کے ڈیموکریٹ اراکین نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ فیفا کے تعلقات سے متعلق جاری تحقیقات میں مطلوبہ تعاون نہیں کر رہے۔ کمیٹی کے مطابق انفانٹینو نے نہ تو تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی درخواست کا جواب دیا اور نہ ہی وہ دستاویزات فراہم کیں جو ان سے طلب کی گئی تھیں۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی ایوانِ نمائندگان کی جوڈیشری کمیٹی کے رینکنگ ڈیموکریٹ رکن جیمی راسکن نے ۲۶؍ جولائی ۲۰۲۶ء کو انفانٹینو کو خط لکھ کر تحقیقات شروع کرنے کی اطلاع دی۔ راسکن نے خط میں فیفا پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے قربت بڑھانے اور ان کی حمایت حاصل کرنے کی ایک مبینہ مسلسل کوشش کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:ایشیائی کھیلوں میں دلپریت کے دو گول، ہندوستان کی جنوبی کوریاپر فتح
انفانٹینو سے کہا گیا تھا کہ وہ ۹؍ اگست تک خط کا جواب دیں، مطلوبہ دستاویزات فراہم کریں اور کمیٹی کے ساتھ انٹرویو کے لیے وقت طے کریں۔ تاہم دستیاب اطلاعات کے مطابق مقررہ تاریخ گزرنے کے باوجود انفانٹینو کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ امریکی کمیٹی کی تحقیقات میں انفانٹینو اور ٹرمپ کے درمیان تعلقات کے علاوہ فیفا کے بعض فیصلوں اور امریکی مفادات سے متعلق معاملات بھی زیرِ غور ہیں۔ راسکن کے خط میں فیفا پر ٹرمپ انتظامیہ سے مبینہ طور پر فائدہ حاصل کرنے کی کوششوں کے سوالات اٹھائے گئے تھے۔
تحقیقات میں مبینہ طور پر اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا فیفا کی جانب سے بعض معاملات میں امریکی انتظامیہ سے قربت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم یہ الزامات ہیں اور ان سے متعلق کوئی حتمی عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔ راسکن کے خط میں ۲۰۲۶ء کے ورلڈ کپ کے ٹکٹوں کی قیمتوں سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔ امریکی قانون ساز نے فیفا پر امریکی شائقین سے مبینہ طور پر بہت زیادہ قیمتیں وصول کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ اس کے علاوہ خط میں اعلیٰ سطح کے کرپشن کیسز سے متعلق فیصلوں اور فیفا کی سرگرمیوں پر بھی سوالات شامل تھے۔
رپورٹس کے مطابق انفانٹینو کو کمیٹی کی جانب سے پیش ہونے اور معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی، لیکن اس معاملے میں سب پوینا جاری نہیں کیا گیا تھا۔ اسی وجہ سے درخواست کا جواب نہ دینے پر فوری طور پر فوجداری سزا کا معاملہ پیدا نہیں ہوتا۔ یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب فیفا اور اس کے صدر انفانٹینو کو تنظیم کے انتظامی معاملات اورفیفا فارورڈ انٹرپرائز (ایف ایف ای ) منصوبے پر بھی تنقید کا سامنا ہے۔ایف ایف ای کے تحت فیفا کے بعض تجارتی اور آپریشنل حقوق میں نجی سرمایہ کاری شامل کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا، لیکن شدید مخالفت کے بعد انفانٹینو نے یکم اگست ۲۰۲۶ء کو یہ منصوبہ واپس لے لیا تھا۔ اس معاملے پر یورپی فٹ بال تنظیم یوئیفا نے بھی قانونی کارروائی کے لیے امریکی عدالتوں میں شواہد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:نانی کی فلم نے امریکہ میں ۱۴؍ لاکھ ڈالر کمائے، ہندوستان میں ۱۸؍ لاکھ ٹکٹ فروخت
فیفا نےیوئیفا کی قانونی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اپنی قیادت کے خلاف ’’سمیر مہم‘‘ قرار دیا ہے، جبکہ یوئیفا کا کہنا ہے کہ وہ ایف ایف ای منصوبے سے متعلق مزید شواہد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ فی الحال انفانٹینو کے خلاف ان معاملات میں کوئی حتمی عدالتی فیصلہ یا مجرمانہ سزا سامنے نہیں آئی ہے۔
رپورٹس میں امریکی کمیٹی کی جانب سے تعاون نہ کرنے کے الزام کا ذکر ہے، تاہم اس مخصوص درخواست پر انفانٹینو کی جانب سے کوئی تفصیلی عوامی جواب سامنے نہیں آیا ہے۔ دوسری جانب فیفا نے دیگر متعلقہ قانونی تنازعات میں اپنی قیادت کا دفاع کرتے ہوئے یوئیفا کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔جیانی انفانٹینو کے خلاف امریکی جوڈیشری کمیٹی کی تحقیقات فیفا کی حکمرانی، شفافیت اور صدر کے امریکی سیاسی حلقوں سے تعلقات سے متعلق سوالات کے پس منظر میں آگے بڑھ رہی ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں کمیٹی کی جانب سے مزید دستاویزات یا کارروائی سامنے آنے پر اس معاملے کی سمت مزید واضح ہوسکتی ہے۔