Updated: July 07, 2026, 4:00 PM IST
| Mumbai
دلجیت دوسانجھ کی فلم’’ستلج‘‘ (پرانا نام: پنجاب ۹۵) کو ZEE5 سے ہٹائے جانے کے ایک روز بعد مرکزی حکومت نے اس کے مواد کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی بین الوزارتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق وزارت اطلاعات و نشریات نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ ۶۹؍ اے کے تحت کارروائی کرتے ہوئے فلم ہٹانے کی ہدایت جاری کی تھی۔
فلم پوسٹر۔ تصویر:آئی این این
دلجیت دوسانجھ کی متنازع فلم’’ستلج‘‘ کو ZEE5 سے ہٹائے جانے کے بعد مرکزی حکومت نے اس معاملے میں ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے فلم کے مواد کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی بین الوزارتی (Inter-Departmental) کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، وزارت اطلاعات و نشریات نے پیر کو کمیٹی قائم کی، جبکہ ایک روز قبل اسٹریمنگ پلیٹ فارم ZEE5 کو فلم اپنی سروس سے ہٹانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ رپورٹ میں معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ حکم انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ ۲۰۰۰ء کی دفعہ ۶۹؍ اے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز، پارٹ سوم کے تحت جاری کیا گیا، جن کے تحت حکومت مخصوص حالات میں آن لائن مواد کو بلاک یا ہٹانے کی ہدایت دے سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’بریج مین آف انڈیا‘‘ گریش بھردواج کا ۷۶؍ برس کی عمر میں انتقال
ہدایت کار ہنی ٹریہان کی فلم’’ستلج‘‘، جس کا پرانا نام ’’پنجاب ۹۵‘‘ تھا، گزشتہ جمعہ کو ZEE5 پر ریلیز کی گئی تھی، تاہم ریلیز کے تقریباً ۴۸؍ گھنٹوں کے اندر ہی اسے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔ فلم کے ہٹائے جانے کے بعد ZEE5 نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ’’موجودہ پیش رفت کی روشنی میں،’’ستلج‘‘ اگلے نوٹس تک ہندوستان میں دستیاب نہیں رہے گی۔‘‘ بعد ازاں پلیٹ فارم نے ایک اور بیان میں کہا کہ ’’ہم’’ستلج‘‘ کو دوبارہ دستیاب کرانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ براہِ کرم پائریسی کی حمایت نہ کریں۔ ہم فلم کو واپس لانے کے لیے تمام قانونی راستوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘‘
’’ستلج‘‘ انسانی حقوق کے معروف کارکن جسوندر سنگھ کھالرا کی زندگی اور جدوجہد سے متاثر ہے، جنہوں نے ۱۹۹۰ء کی دہائی میں پنجاب میں عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیوں کے دوران مبینہ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور غیر قانونی تدفین کے واقعات کو دستاویزی شکل دی تھی۔ رپورٹس کے مطابق، ستمبر ۱۹۹۵ء میں کھالرا کو اغوا کر لیا گیا تھا، جس کے بعد وہ کبھی واپس نہیں آئے۔ بعد ازاں سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (CBI) کی تحقیقات میں کہا گیا کہ پنجاب پولیس کے بعض اہلکاروں نے انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کے بعد قتل کیا اور لاش تلف کر دی۔ اس مقدمے میں متعدد پولیس اہلکاروں کو سزا بھی سنائی گئی تھی۔
فلم میں دلجیت دوسانجھ جسونت نامی کردار ادا کر رہے ہیں، جو ایک مبینہ ڈیتھ اسکواڈ اور ریاستی پولیس کے مبینہ کردار کی تحقیقات کرتا ہے۔ ’’پنجاب ۹۵‘‘ ۲۰۲۲ء میں مکمل ہونے کے باوجود ریلیز نہ ہو سکی تھی کیونکہ سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (CBFC) نے فلم میں ۱۲۷؍ کٹوتیوں کی سفارش کی تھی۔ ہدایت کار ہنی ٹریہان نے گزشتہ برس ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ فلم برسوں تک سینسرشپ کے باعث تعطل کا شکار رہی، جس کے بعد اسے نئے نام’’ستلج‘‘ کے ساتھ او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر جاری کیا گیا۔ تاہم، وہی ورژن بھی صرف مختصر مدت کے لیے ZEE5 پر دستیاب رہا۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈکپ :آسٹریلوی کھلاڑی ٹیٹی ینگی نے اسلام قبول کر لیا
رپورٹ کے مطابق وزارت اطلاعات و نشریات کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ تشکیل دی گئی بین الوزارتی کمیٹی فلم کے مواد کا جائزہ لے گی اور موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر مرکزی حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ یہ کمیٹی ڈجیٹل مواد، او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اور آن لائن خبروں سے متعلق شکایات کا جائزہ لینے اور مناسب کارروائی کی سفارش کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ ۶۹؍ اے کے تحت مرکزی حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ اگر کسی آن لائن مواد کو امن عامہ، قومی سلامتی، خودمختاری یا ملکی سالمیت کے لیے نقصان دہ سمجھا جائے تو وہ متعلقہ پلیٹ فارم کو اسے بلاک یا ہٹانے کی ہدایت دے سکتی ہے۔ اسی طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز، پارٹ سوم کے تحت یہ اختیارات او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اور ڈجیٹل نیوز پبلشرز تک بھی توسیع پاتے ہیں، جس کے تحت حکومت ضرورت پڑنے پر ان کے خلاف بھی کارروائی کر سکتی ہے۔