Inquilab Logo Happiest Places to Work

جیمز بانڈ بننا خواب ہوگا: لوئی پارٹریج نے بانڈ افواہوں کو مسترد کردیا

Updated: July 07, 2026, 5:05 PM IST | London

نیٹ فلکس کی’’‘اینولا ہومز ۳‘‘ کی ریلیز کے بعد برطانوی اداکار لوئی پارٹریج ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ ۲۳؍ سالہ اداکار نے ایک حالیہ انٹرویو میں اگلے جیمز بانڈ بننے کی افواہوں، کم عمری میں شہرت کے دباؤ، اداکاری میں خطرہ مول لینے کی اہمیت اور اپنی قریبی دوست اور ساتھی اداکارہ ملی بوبی براؤن کے ساتھ برسوں پر محیط تعلق پر کھل کر گفتگو کی۔

Louis Partridge. Photo: INN
لوئی پارٹریج ۔تصویر: آئی این این

صرف ۲۳؍ سال کی عمر میں برطانوی اداکار لوئی پارٹریج ہالی ووڈ کی نوجوان نسل کے نمایاں ستاروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ نیٹ فلکس پر ’’اینولا ہومز ۳‘‘ کی ریلیز کے بعد ایک بار پھر ان کے مستقبل کے منصوبوں، خاص طور پر اگلے جیمز بانڈ کے کردار سے متعلق قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں۔ ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق لوئی پارٹریج نے پہلی بار ان افواہوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ اس حوالے سے کچھ بھی تصدیق نہیں کر سکتے، تاہم دنیا کے مشہور جاسوس کا کردار ادا کرنا یقیناً ان کے لیے ایک خواب جیسا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میرے پاس اس بارے میں کہنے کے لیے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ یہ یقیناً بہت پرجوش ہوگا اور میں جیمز بانڈ کا بہت بڑا مداح ہوں، آخر کون نہیں ہوگا؟ جب میں نے پہلی بار یہ فلمیں دیکھیں تو واقعی حیران رہ گیا تھا۔ اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اکشے کمار کی پروڈکشن کمپنی کا دعویٰ’’ ہیرا پھیری۳‘‘ پر ہمارا حق ہے

لوئی پارٹریج نے کم عمری میں عالمی شہرت حاصل کرنے کے تجربے پر بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل عوامی نظروں میں رہنے سے انسان اپنے ہر عمل کے بارے میں زیادہ محتاط ہو جاتا ہے، تاہم ایک اداکار کے لیے خطرہ مول لینا اور ناکامی کو قبول کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جب آپ عوام کی نظروں میں ہوتے ہیں تو آپ ہر چیز کے بارے میں زیادہ شعور رکھتے ہیں۔ شاید اگر آپ کو محسوس نہ ہو کہ لوگ ہر وقت آپ کو دیکھ رہے ہیں تو آپ تجربات کرنے اور غلطیاں کرنے میں زیادہ آزاد ہوں۔ لیکن اگر آپ واقعی کوئی بامعنی کام کرنا چاہتے ہیں تو اس صنعت میں بہادر ہونا ضروری ہے۔ ناکامی بھی اداکاری کا حصہ ہے۔ اصل مقصد لوگوں تک سچائی پہنچانا ہے، اس لیے غلطیاں کرنے سے ڈرنا نہیں چاہیے اور اردگرد ہونے والی ہر چیز کے بارے میں ضرورت سے زیادہ نہیں سوچنا چاہیے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: امیتابھ بچن نے بارش کے باوجود جلسہ کے باہر جمع ہونے والے مداحوں کا شکریہ ادا کیا

لوئی پارٹریج ایک بار پھر Viscount Tewkesbury کے کردار میں ’’اینولا ہومز ۳‘‘ میں نظر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی برس بعد اس کردار میں واپسی ان کے لیے مشکل کے بجائے زیادہ فطری محسوس ہوئی۔ ان کے مطابق ’’مجھے نہیں لگتا کہ یہ کردار وقت کے ساتھ مشکل ہوتا ہے۔ بلکہ ہر بار اس میں نئی پرتیں شامل ہوتی ہیں۔ آپ خود بھی بدلتے ہیں اور وہ تبدیلی کردار میں بھی نظر آتی ہے۔ اس کردار میں واپس آ کر مجھے بہت خوشی ہوئی کیونکہ یہ اب میرے لیے بالکل فطری محسوس ہوتا ہے۔‘‘
انٹرویو کے دوران لوئی نے اپنی ساتھی اداکارہ ملی بوبی براؤن کے ساتھ برسوں پر محیط دوستی کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے یاد کیا کہ جب دونوں نے پہلی اینولا ہومز فلم کی شوٹنگ شروع کی تھی تو وہ محض نوعمر تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے یاد ہے کہ پہلی فلم کے دوران میں کافی گھبرایا ہوا تھا۔ اس وقت ہم صرف ۱۵؍ اور ۱۶؍ سال کے تھے۔ اس کے بعد ہماری ذاتی زندگیوں میں بہت کچھ بدل گیا۔ مجھے لگتا ہے کہ میں اب بھی وہی انسان ہوں، بس کچھ مختلف۔ سات سال ایک طویل عرصہ ہوتا ہے، خاص طور پر اس عمر میں۔ ہم دونوں بدل چکے ہیں، لیکن جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے وقت پیچھے چلا گیا ہو۔ ہمارے درمیان دوستی آج بھی ویسی ہی ہے، اور میرے خیال میں یہی سب سے خوبصورت بات ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ دوستیاں ختم ہو جاتی ہیں، لیکن ان کی اور ملی بوبی براؤن کی دوستی اس کی مثال نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امیتابھ بچن ایک ہی وقت میں ۱۰؍سے ۱۵؍فلموں میں کام کیا کرتے تھے

لوئی پارٹریج نے کم عمری میں اداکاری کا آغاز کیا اور ’’پین‘‘ (۲۰۱۵ء) اور ’’پیڈنگٹن ۲‘‘ (۲۰۱۷ء) جیسی فلموں میں مختصر کردار ادا کیے۔ بعد ازاں وہ تاریخی ڈرامہ ’’میڈیکی‘‘ میں مرکزی کردار میں نظر آئے، تاہم انہیں عالمی شہرت ۲۰۲۰ء میں نیٹ فلکس کی فلم ’’اینولا ہومز‘‘ سے ملی، جس میں انہوں نے Viscount Tewkesbury کا کردار ادا کیا۔ اس کے بعد وہPistol،DisclaimerاورHouse of Guinness سمیت متعدد اہم پروجیکٹس میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں جبکہ ’’اینولا ہومز ۳‘‘ کے بعد اب ان کا نام مستقبل کے جیمز بانڈ کے ممکنہ امیدواروں میں بھی لیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK