Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’بریج مین آف انڈیا‘‘ گریش بھردواج کا ۷۶؍ برس کی عمر میں انتقال

Updated: July 07, 2026, 3:25 PM IST | Bengaluru

پدم شری یافتہ معروف سماجی انجینئر گریش بھردواج، جنہیں’’بریج مین آف انڈیا‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، منگل کو ۷۶؍ برس کی عمر میں کرناٹک میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے تقریباً چار دہائیوں کے دوران ۱۵۰؍ کے قریب کم لاگت والے معلق (Suspension) پل تعمیر کروا کر دور دراز دیہات کو سڑکوں، اسکولوں، اسپتالوں اور بازاروں سے جوڑا۔ ان کی خدمات نے ہزاروں دیہی خاندانوں کی زندگی بدل دی، جس کے باعث انہیں ملک کے نمایاں سماجی انجینئروں میں شمار کیا جاتا تھا۔

Bridge Man Of India Girish Bhardwaj. Photo: X
’’بریج مین آف انڈیا‘‘ گریش بھردواج۔ تصویر: ایکس

پدم شری اعزاز یافتہ معروف سماجی انجینئر گریش بھردواج، جو پورے ملک میں’’بریج مین آف انڈیا‘‘ کے نام سے مشہور تھے، منگل (۷؍ جولائی) کو کرناٹک کے شہر سلیا کے ایک نجی اسپتال میں انتقال کر گئے۔ وہ ۷۶؍ برس کے تھے۔ ان کے انتقال پر مختلف سیاسی لیڈروں، سماجی کارکنوں اور عوامی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں دیہی ہندوستان کی ترقی میں غیر معمولی خدمات انجام دینے والی شخصیت قرار دیا۔ کرناٹک کے دور افتادہ علاقوں میں رہنے والے ہزاروں افراد کے لیے گریش بھردواج صرف ایک انجینئر نہیں بلکہ وہ شخصیت تھے جنہوں نے ایسے علاقوں میں پل تعمیر کیے جہاں بنیادی انفراسٹرکچر فراہم کرنے میں سرکاری ادارے برسوں ناکام رہے۔

 

انہوں نے تقریباً ۴۰؍ برس کے دوران ۱۵۰؍ کے قریب کم لاگت والے معلق پل تعمیر کروا کر درجنوں الگ تھلگ دیہات کو اسکولوں، اسپتالوں، بازاروں اور دیگر بنیادی سہولیات سے جوڑ دیا۔ ان پلوں نے خطرناک دریا عبور کرنے پر مجبور دیہی آبادی کو محفوظ آمد و رفت فراہم کی اور روزمرہ زندگی کو نمایاں طور پر آسان بنا دیا۔ رپورٹس کے مطابق گریش بھردواج ابتدا میں کسی نجی کمپنی میں انجینئر کے طور پر کام کرنا چاہتے تھے، تاہم ان کے کسان والد نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنی انجینئرنگ کی صلاحیتیں دیہی مسائل کے حل کے لیے استعمال کریں۔ اس مشورے نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ انہوں نے ابتدا میں Rational Engineering Works کے ذریعے زرعی مشینری تیار کی، بعد ازاں سلیا میں Ayashilpa Industries قائم کی۔
بھردواج کی زندگی کا اہم موڑ اس وقت آیا جب جنوبی کنڑ ضلع کے دور افتادہ گاؤں آرمبورو کے باشندوں نے ان سے ایک پل تعمیر کرنے کی درخواست کی۔ابتدا میں انہوں نے اس مطالبے پر حیرت کا اظہار کیا کیونکہ انہوں نے پہلے کبھی پل تعمیر نہیں کیا تھا، تاہم گاؤں والوں کی مشکلات دیکھ کر انہوں نے اس چیلنج کو قبول کر لیا۔ انجینئر دوستوں اور تکنیکی کتابوں کی مدد سے انہوں نے کم لاگت والے معلق پل کا ڈیزائن تیار کیا۔ گاؤں والوں نے خود چندہ جمع کیا جبکہ متعدد افراد نے شرم دان کے تحت رضاکارانہ مزدوری فراہم کی۔ پل کی مجموعی لاگت، عطیہ شدہ سامان اور رضاکارانہ محنت کی بدولت دو لاکھ روپے سے بھی کم رہی۔

یہ بھی پڑھئے: جموں میں بادل پھٹا، سیلاب اورزمین کھسکنے سے کئی گاڑیاں ملبے میں دفن

۱۹۸۹ء میں مکمل ہونے والا یہ پل نہ صرف آرمبورو بلکہ بعد میں ملک بھر کے ایسے درجنوں منصوبوں کے لیے ایک مثال بن گیا۔ آرمبورو کے بعد گریش بھردواج نے اسی ماڈل پر کرناٹک اور دیگر ریاستوں میں تقریباً ۱۵۰؍ معلق پل تعمیر کروا کر ہزاروں دیہی خاندانوں کی زندگی بدل دی۔ یہ پل ان علاقوں میں تعمیر کیے گئے جہاں لوگ برسوں سے بنیادی رابطہ سڑکوں اور محفوظ گزرگاہوں کے منتظر تھے۔ ۲۰۲۴ء میں منگلورو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گریش بھردواج نے کہا تھا کہ ’’اب تک تعمیر کیے گئے ۱۵۰؍ معلق پلوں نے دیہی علاقوں کو بہتر رابطہ فراہم کیا ہے اور لوگوں کو بروقت اسپتالوں تک پہنچنے میں مدد دی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ان کے لیے اصل خوشی انجینئرنگ کا کارنامہ نہیں بلکہ لوگوں کی زندگیوں میں آنے والی آسانی تھی۔ ان کے الفاظ تھے کہ ’’لوگ آج بھی بتاتے ہیں کہ ان پلوں نے ان کی زندگی کیسے بدل دی۔ وہ میرا شکریہ ادا کرتے ہیں اور یہی میرے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’گاؤں والوں کی خوشی، افتتاحی تقریبات اور انجینئرز کی ٹیم کو آنکھوں میں آنسو لیے الوداع کہنا میری زندگی کی سب سے قیمتی یادیں ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: زور دار بارش اور حادثات کے سبب ممبئی تا پونے ذرائع آمدورفت بند

گریش بھردواج کے انتقال پر متعدد لیڈروں نے ایکس پر تعزیتی پیغامات جاری کیے۔ مرکزی وزیر ایچ ڈی کماراسوامی نے لکھا کہ گریش بھردواج نے صرف پل ہی نہیں بلکہ ’’دیہی علاقوں کے لوگوں کے دلوں کو بھی ایک دوسرے سے جوڑ دیا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بھردواج کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ان کا انتقال ملک کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK