Inquilab Logo Happiest Places to Work

انقرہ، نیٹو اجلاس: ٹرمپ کے متوقع ہوٹل کے سامنے فلسطینی پرچم آویزاں کیا گیا

Updated: July 07, 2026, 4:04 PM IST | Ankara

نیٹو کے ۳۶؍ ویں سربراہی اجلاس کے لیے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انقرہ آمد سے قبل اس ہوٹل کے سامنے واقع ایک عمارت پر فلسطینی پرچم آویزاں کر دیا گیا جہاں ان کے قیام کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس علامتی اقدام نے اجلاس سے قبل سفارتی اور سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا کی بھی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔

A large Palestinian flag hangs on a building directly in front of the JW Marriott Hotel. Photo: X
جے ڈبلیو میریٹ ہوٹل کے عین سامنے واقع ایک عمارت پر ایک بڑا فلسطینی پرچم آویزاں۔ تصویر: ایکس

نیٹو کے ۳۶؍ ویں سربراہی اجلاس سے قبل ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ایک ایسا منظر سامنے آیا جس نے اجلاس کی سیکوریٹی تیاریوں کے ساتھ ساتھ عالمی توجہ بھی اپنی جانب کھینچ لی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے متوقع قیام کے لیے مختص جے ڈبلیو میریٹ ہوٹل کے عین سامنے واقع ایک عمارت پر ایک بڑا فلسطینی پرچم آویزاں کر دیا گیا، جسے مبصرین فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کی ایک علامتی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ۷؍ اور ۸؍ جولائی کو ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں دنیا بھر کے لیڈر انقرہ پہنچ رہے ہیں۔ اجلاس میں نیٹو کے رکن ممالک کے سربراہان کے علاوہ متعدد شراکت دار ممالک کے نمائندے بھی شریک ہو رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی اہم اجلاسوں میں شرکت کے لیے ترکی پہنچ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: شام میں فرانسیسی صدر میکرون کے ہوٹل کے قریب زوردار دھماکہ

رپورٹس کے مطابق فلسطینی پرچم اس رہائشی عمارت کے اگلے حصے پر نصب کیا گیا جو اس ہوٹل کے بالکل سامنے واقع ہے جہاں امریکی صدر کے قیام کی توقع ہے۔ پرچم کی موجودگی نے سوشل میڈیا پر بھی توجہ حاصل کی اور مختلف حلقوں میں اس کی علامتی اہمیت پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب ترک حکام نے نیٹو اجلاس کے پیش نظر سیکوریٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے ہیں۔ جے ڈبلیو میریٹ ہوٹل اور اس کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، داخلی اور خارجی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں، گاڑیوں اور پیدل آنے والوں کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے، شناختی دستاویزات کی جانچ کی جا رہی ہے، جبکہ ہوٹل میں داخل ہونے والے عملے اور دیگر متعلقہ افراد کو ایکس رے اسکینرز سے گزارا جا رہا ہے۔ خصوصی آپریشنز پولیس کے دستے بھی علاقے میں مسلسل گشت کر رہے ہیں تاکہ اجلاس کے دوران سیکوریٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا نیا سوشل میڈیا پوسٹ، جارجیا میلونی کے ساتھ کشیدگی پھر بڑھ گئی

تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فلسطینی پرچم کس نے آویزاں کیا، تاہم اس حوالے سے کسی گرفتاری یا کارروائی کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ ترک حکومت یا مقامی انتظامیہ نے بھی اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، جبکہ پرچم بدستور اپنی جگہ موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ منظر ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ کی جنگ اور فلسطینی عوام کی صورتحال عالمی سفارت کاری کے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔ ترکی مسلسل فلسطینی مؤقف کی حمایت کرتا آیا ہے جبکہ امریکی پالیسیوں، خصوصاً اسرائیل کی حمایت کے حوالے سے مختلف ممالک میں تنقید بھی دیکھنے میں آتی رہی ہے۔ اسی پس منظر میں امریکی صدر کے متوقع قیام گاہ کے سامنے فلسطینی پرچم کی موجودگی کو ایک علامتی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اگرچہ اس بارے میں کسی سرکاری ادارے نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھئے: حماس کا غزہ میں اپنی حکومت کے خاتمے کا اعلان

نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران عالمی میڈیا کی نظریں نہ صرف اہم سفارتی ملاقاتوں اور فیصلوں پر مرکوز ہیں بلکہ اجلاس کے اطراف پیش آنے والے ایسے واقعات بھی غیر معمولی توجہ حاصل کر رہے ہیں جو موجودہ عالمی سیاسی ماحول کی حساسیت کی عکاسی کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK