امریکی انتظامیہ نے ایک قانونی بریفنگ میں انکشاف کیاہےکہ ایلون مسک کی کمپنی ’ایکس اے آئی‘ کے مصنوعی ذہانت کے پروگرام’گروک‘ کا ایران کے خلاف حملوں میں استعمال ہوا ہے۔
EPAPER
Updated: June 18, 2026, 11:14 AM IST | Washington
امریکی انتظامیہ نے ایک قانونی بریفنگ میں انکشاف کیاہےکہ ایلون مسک کی کمپنی ’ایکس اے آئی‘ کے مصنوعی ذہانت کے پروگرام’گروک‘ کا ایران کے خلاف حملوں میں استعمال ہوا ہے۔
امریکی انتظامیہ نے ایک قانونی بریفنگ میں انکشاف کیاہےکہ ایلون مسک کی کمپنی ’ایکس اے آئی‘ کے مصنوعی ذہانت کے پروگرام’گروک‘ کا ایران کے خلاف حملوں میں استعمال ہوا ہے۔۱۵؍جون کی بریفنگ میں اس ارب پتی کی کمپنی اے آئی ایکس کے ایک بڑے ڈیٹا سینٹر میں استعمال ہونے والے گیس ٹربائنز کا دفاع کیا گیا، جن کے خلاف ماحولیاتی مقدمہ دائر ہے۔اے ایف پی کا کہنا ہے کہ، امریکی محکمہ انصاف کا استدلال تھا کہ یہ مقدمہ مصنوعی ذہانت جوکہ شعبہ جنگ کی عسکری کارروائیوں کی جدت کے لیے بجلی کی فراہمی بند کرنے کی کوشش کر کے امریکی قومی، معاشی اور توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے، سے تعلق رکھتا ہے۔اس دلیل کے سلسلے میں، وفاقی پراسیکیوٹرز نے ٓائی- سے انضمام شدہ ہدفی پروگرام ہے۔اسٹینلے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پروجیکٹ کے ماوین سمارٹ سسٹم نے ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران۹۶؍ گھنٹوں میں۲؍ہزارسے زائد گولہ بارود کو۲؍ہزار مختلف اہداف پر داغنے کے قابل بنایا۔اسٹینلے نے مسک کی ٹیکنالوجی اورگروک گو ماڈل کے ذریعے ممکن بنائی گئی نمایاں بڑھتی ہوئی آپریشنل کارکردگی کی تعریف کی۔این اے اے سی پی، جو سیاہ فام امریکیوں کے حقوق کے دفاع کی ایک سول رائٹس تنظیم ہے، اے آئی ایکس کے خلاف مقدمہ کر رہی ہے اور الزام لگا رہی ہے کہ یہ درجنوں ٹربائنز بغیر پرمٹ کے چلائے جا رہے ہیں جو کلین ایئر ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ حقوق کے گروپ کا کہنا ہے کہ یہ زیادہ تر سیاہ فام علاقوں میں آلودگی پھیلاتے ہیں، جبکہ اے آئی ایکس کا موقف ہے کہ ٹربائنز عارضی اور موبائل ہیں، اس لیے وہ ضوابط کے تابع نہیں۔ فروری کے آخر میں، حکومت نے’اینتھروپک‘ کے ساتھ اپنے معاہدے ختم کر دیے جب اس نے اپنی ٹولز کو مکمل طور پر خودکار حملوں یا امریکیوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی کیلئے استعمال ہونے کی اجازت دینے سے انکار کیا۔ پینٹاگون نے پھراے آئی کےکیلئے اینتھروپک کے مقابلے میں دیگر کمپنیوں کی طرف رجوع کیا، جیسے گوگل، اوپن اے آئی اور اے آئی ایکس۔ حالانکہ گوگل میں۶۰۰؍ سے زائد ملازمین نے کمپنی سے مطالبہ کیا کہ وہ خفیہ آپریشنز کیلئے فوج کو اے آئی فراہم نہ کرے۔ امریکی فوج کا اے آئی کی طرف منتقلی وقت لے رہی ہے، اور مارچ میں حکومت کوتسلیم کرنا پڑا کہ کلاوڈ اب بھی ایران میں جنگ کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔