Inquilab Logo Happiest Places to Work

راہی معصوم رضا کی پیدائش کو ۱۰۰؍ سال ہو گئے

Updated: August 03, 2026, 2:05 PM IST | Professor Sarwar Al-Huda | Mumbai

راہی صاحب اُردو اور ہندی کے مشہور ادیب، شاعر اور فلم نویس تھے جن کا انتقال ممبئی میں ۱۵؍ مارچ ۱۹۹۲ء کو ہوا۔ اگر وہ بقید حیات ہوتے تو عمر کی سنچری مکمل کررہے ہوتے۔

Program.Photo:INN
پروگرام کی تصویر:آئی این این
 راہی معصوم رضا کا تعلق غازی پور گنگولی سے ہے۔ گنگا سے قریب یہ بستی گنگولی کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کی شہرت میں  اپنے وطن کے تئیں راہی معصوم رضا کی  شدید محبت کا جذبہ بھی شامل ہے۔ ہر شخص کے یہاں اس کا اپنا گاؤں اور علاقہ کسی نہ کسی شکل میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔ کبھی ہم اپنی زندگی کی مصروفیات کے درمیان ان یادوں کو زیادہ وقت نہیں دے پاتے جو زندگی کے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔ گزرا ہوا دن کسی کیلئے ہمیشہ گزرا ہوا دن نہیں رہتا۔ راہی صاحب ایک ایسے ادیب ہیں جنہوں نے اپنے وطن گنگولی کو زندگی اور ادب کا عنوان بنا دیا۔ گرچہ گنگولی ان کا جانا بہت کم ہوتا تھا پھر بھی گنگولی ایک لسانی اور تہذیبی گھر کی طرح انہیں اپنے ساتھ لئے پھرتا تھا۔ اُن کا پہلا ناول محبت کے سوا اپریل ۱۹۵۰ء میں شائع ہوا جسے کم لوگوں نے پڑھا ہے اور عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کا ناول آدھا گاؤں ہی ان کی ناول نگاری کا سب سے بڑا حوالہ ہے۔ 
راہی صاحب کے یہاں شروع ہی سے ایک شدید غصہ رہا ہے جس کا سبب وقت کا سماجی اور سیاسی نظام ہے۔ اپنے وقت کی سیاسی اور سماجی صورتحال سے بے اطمینانی کا مطلب کسی کا زمانے سے کٹ جانا نہیں بلکہ احتجاج کی صورت میں اپنی زندگی کا سامان مہیا کرنا ہے۔ نئے لکھنے پڑھنے والوں کو راہی صاحب کی طرف اسلئے متوجہ ہونا چاہیے تاکہ دیکھا جا سکے کہ اپنی مٹی سے محبت کا مطلب کیا ہے اور اپنے وقت کے نظام کو کس طرح موضوع گفتگو بنایا جا سکتا ہے۔ 
’محبت کے سوا‘ ایک نوجوان لکھنے والے کا ناول ہے جس کا آغاز کچھ یوں ہوتا ہے: ’’ اور ساحل کو ۲۰؍ سال کی سزا ہو گئی۔ اس نے بڑے صبر سے سزا کا اعلان سنا۔ ملک تاج کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور سپاہیوں کے ساتھ عدالت گاہ سے باہر چلا گیا۔ عدالت گاہ سے باہر چلا گیا کیونکہ وہاں جرم پروان چڑھتا ہے۔‘‘ یہ ایک نوجوان قلم کار کا سیاسی شعور ہے جو عدالت گاہ کے باہر کی دنیا کو جرم کی ترقی کیلئے سازگار بتاتا ہے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’موج گل موج صبا‘‘ مئی ۱۹۵۳ء میں شائع ہوا۔ یہ مجموعہ بھی عام طور پر نگاہوں سے اوجھل رہا ہے۔ راہی صاحب کو مہا بھارت سیریل سے بہت شہرت ملی، لیکن یہ بات کم لوگ جانتے ہیں کہ ’’موج گل موج صبا‘‘ دراصل مہا بھارت کا بیانیہ ہے۔ ابتدا ہی سے مہا بھارت کے سلسلے میں راہی صاحب کا ذہن بہت رواں اور حساس تھا۔ گنگا تو بہت قریب سے بہہ رہی تھی۔ عشق اور جنگ ایک دوسرے سے گہرے طور پر وابستہ ہیں۔ وہ عشق ہی کیا جو حق کی خاطر جان کی بازی نہ لگا دے۔ اور تاریخ میں جو حق کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے کی روایت ہے اسے ہر زمانے کیلئے آئیڈیل کے طور پر قبول کیا جائے اور دیکھا جائے۔ راہی صاحب نے زندگی کے آخری ایام تک اپنی تحریروں کے ذریعے سماجی اور سیاسی نظام کی کمیوں اور کوتاہیوں کی طرف اشارے کیے ہیں۔ ایک ادیب کے طور پر انہوں نے اپنے طور پر سچ بولنے اور لکھنے پر زور دیا۔  میر نے کہا تھا:’’شاعر ہو مت چپکے رہو اب چپ میں جانیں جاتی ہیں‘‘، راہی صاحب نے فکشن اور شاعری دونوں میں اپنی آواز کو مصلحت پسندی سے بچانے کی ایماندارانہ کوشش کی۔ ایک ادیب جس کی پیدائش کو سو سال ہو گئے اور جس نے گنگولی کے بعد علی گڑھ کو وطن ثانی بنایا اور پھر بمبئی کا رخ کیا  اور اس عرصے میں وہ کتنے مراحل سے گزرا،  اس کی تحریروں کو ایک مرتبہ توجہ کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس میں بہت کچھ ایسا ہے جو ابھی پرانا نہیں ہوا ہے۔ ایک ایسی حقیقت راہی کے یہاں ہے جو ہمیشہ اپنی اہمیت پر زور دیتی رہے گی اور وہ اپنی مٹی کی بوباس ہے۔
کئی حوالوں سے راہی معصوم رضا کا نام  زمانے کے ذہن میں محفوظ ہے۔ ان حوالوں کو فی الحال وقت سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ خطرے سے میری مراد وقت کا جبر ہے جو ادبی اور تہذیبی بنیادوں کو متزلزل بھی کرتا ہے اور نئی بنیادوں کو پرانی بنیادوں کے ساتھ ایک شکل بھی عطا کرتا ہے۔ اُن کا ناول’’ آدھا گاؤں‘‘ اپنی مقبولیت کی انتہائی منزلوں تک پہنچ چکا ہے۔ ہندی میں اس کے جتنے ایڈیشنز شائع ہوئے ہیں وہ ایک واقعہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ راہی صاحب بنیادی طور پر اردو کے قلم کار تھے اور ان کی زیادہ تر تحریریں اردو رسم خط میں تھیں جنہیں  بعد میں  ناگری میں منتقل کیا گیا۔ 
 
 
کسی ادیب کی شناخت اس کے لسانی اور تہذیبی معاشرہ کے ساتھ قائم ہوتی ہے لیکن اس کی فکر رفتہ رفتہ دنیا کیلئے اہم ہو جاتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ایک زبان سے دوسری زبان میں ادبی تحریروں کا ترجمہ نہ ہوتا۔ راہی صاحب کی اردو شاعری جن لوگوں نے پڑھی ہے وہ انہیں اردو ہی کا شاعر کہیں گے اور وہ لوگ بھی جو ہندی لیپی میں پڑھتے ہیں،وہ بھی یہی کہیں گے کہ زبان تو اردو ہے اور وہ اردو کے شاعر ہیں۔ البتہ ان کے ناولوں کی پہلی اشاعت ہندی میں ہوئی۔
  اردو معاشرہ راہی صاحب کے تعلق سے اتنا  فراخ دل نہیں جتنا کہ ہندی کا ہے۔فراخ دلی اور تنگ دلی کی وجہ رسم خط ہے۔اس سلسلے میں ہندی کے ادیبوں نے راہی کو پریم چند کی روایت کا بتاتے ہوئے  فخر کا اظہار کیا کہ وہ بھی پریم چند کی طرح اردو سے ہندی کی طرف آئے۔ زبان اور رسم خط کم سے کم اردو اور ہندی کے تعلق سے، فطری یا غیر فطری طور پر سیاست کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہندی کے کئی اہم ادیبوں نے رسم خط کے تعلق سے راہی صاحب کا نام پریم چند کے ساتھ لیا ہے۔گویا ہندی کے تعلق سے راہی کی تخلیقی شخصیت کو استحکام بخشنے کیلئے پریم چند کا حوالہ ضروری تھا۔ ہندوستانیت کا تصور ابتدا سے اس رسم خط سے وابستہ ہے جس کو ہم اردو کہتے ہیں۔ راہی نے گنگا اور گنگولی کے سلسلے میں لکھتے ہوئے جس طرح اپنی فطرت اور تہذیب سے گہری محبت کا اظہار کیا ہے،اس کا پہلا اظہار تو اردو رسم الخط ہوا تھا۔ اس وقت انہیں کوئی یہ سمجھا تو نہیں رہا تھا کہ اسے تہذیب کہتے ہیں اور اس کو اپنی دھرتی سے محبت کرنا کہتے ہیں۔ نہ تو رسم الخط اس راہ میں حائل تھا  نہ ہی زبان کی سیاست۔لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اپنی دھرتی سے لپٹنے کا مطلب دیو ناگری میں لکھنا ہے، اور اس کے بغیر وہ اپنے اصل اور شدید جذبے کا اظہار نہیں کر سکتے تھے۔ 
 
 
راہی کے یہاں ہندی سے جو رشتہ استوار ہوتا گیا اس کے بعد ایک تاریخی پس منظر بھی ہے۔اور وہ،  اردو میں لکھے جانے کے باوجود  ’’آدھا گاؤں‘‘ کا  ہندی میں شائع ہونا ہے۔"آئندہ ہفتے اس پر قدرے تفصیل سے لکھوں گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK