• Thu, 12 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حماس نے غزہ پر بین الاقوامی سرپرستی کو مسترد کر دیا

Updated: February 12, 2026, 1:01 PM IST | Gaza

حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے غزہ کی پٹی پر کسی بھی قسم کی بیرونی سرپرستی کو مسترد کرنے کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ علاقے میں تعینات کی جانے والی کوئی بھی بین الاقوامی فورس صرف سرحدی امور تک محدود ہونی چاہیے۔

Destroy Gaza City.Photo:INN
تباہ شدہ غزہ شہر۔ تصویر:آئی این این

حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے غزہ کی پٹی پر کسی بھی قسم کی بیرونی سرپرستی کو مسترد کرنے کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ علاقے میں تعینات کی جانے والی کوئی بھی بین الاقوامی فورس صرف سرحدی امور تک محدود ہونی چاہیے۔حماس کے سینئر رہنما اسامہ حمدان نے کہا کہ کسی بھی غیر ملکی فوج کو صرف اسرائیلی جارحیت کو روکنے اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو بند کرنے پر توجہ دینی چاہیے، اور غزہ کے داخلی نظم و نسق میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
انڈونیشیا کی تعیناتی سے متعلق خبروں پر ردِعمل
حمدان نے یہ بات الجزیرہ مباشر کے شام کے پروگرام میں ان رپورٹس پر ردِعمل دیتے ہوئے کہی جن میں کہا گیا تھا کہ انڈونیشیا غزہ میں استحکام کے لیے ہزاروں فوجی بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حماس نے براہِ راست انڈونیشیائی حکومت سے رابطہ کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ’’کوئی بھی بین الاقوامی فورس سرحدوں پر غیر جانبدار کردار کی پابند ہو اور ایسے مؤقف اختیار نہ کرے جو فلسطینی عوام کی خواہشات کے خلاف ہوں یا اسرائیلی قبضے کا متبادل بنیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:کیا بورڈ آف پیس غزہ کیلئے ہے؟

حمدان نے مزید کہا کہ انڈونیشیائی  حکام نے حماس کو واضح یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ غزہ کے اندر کسی بھی ’’اسرائیلی‘‘ ایجنڈے پر عمل درآمد میں حصہ نہیں لیں گے، اور اگر ان کا کوئی کردار ہوا بھی تو وہ فلسطینیوں اور قابض افواج کے درمیان حد بندی تک محدود ہوگا اور شہری معاملات میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے:رُدر فورڈ اور موتی کی شاندار کارکردگی، ویسٹ انڈیز نے انگلینڈ کو شکست دے دی

مزاحمت کے ہتھیاروں سے متعلق مؤقف
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں مزاحمت کو غیر مسلح کرنے سے متعلق مجوزہ مسودے پر بات کرتے ہوئے حمدان نے کہا کہ فلسطینی ہتھیاروں کا تعلق براہِ راست قبضے کے وجود سے ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’۱۹۱۷ء سے تنظیم  زمین کی واپسی اور قومی آزادی کے حصول کے لیے پرعزم رہی ہے اور مزید کہا کہ تنظیم  کے ہتھیار بین الاقوامی قانون اور فلسطینی عوام کی خواہشات کے مطابق جائز ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یروشلم کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک یہ ہتھیار ترک نہیں کیے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK