۱۹۴۰ءمیں فکر معاش میں حسرت جے پوری نےممبئی کا رخ کیا اور زندگی گزارنے کے لئے وہاں کنڈکٹرکی نوکری کرنے لگے۔ اس کام کے لیے انہیں صرف ۱۱؍روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی۔ اس دوران انہوں نےمشاعروں میں حصہ لینا شروع کردیا۔
EPAPER
Updated: September 17, 2024, 12:03 PM IST | Mumbai
۱۹۴۰ءمیں فکر معاش میں حسرت جے پوری نےممبئی کا رخ کیا اور زندگی گزارنے کے لئے وہاں کنڈکٹرکی نوکری کرنے لگے۔ اس کام کے لیے انہیں صرف ۱۱؍روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی۔ اس دوران انہوں نےمشاعروں میں حصہ لینا شروع کردیا۔
ہندی فلموں میں جب بھی ٹائٹل گیتوں کا ذکر ہوتا ہے، نغمہ نگار حسرت جے پوری کانام سب سے پہلےلیا جاتا ہے۔ ویسے توحسرت جےپوری نے ہر طرح کے گیت لکھےلیکن فلموں کے ٹائٹل گیت لکھنے میں انہیں مہارت حاصل تھی۔ ہندی فلموں کے سنہری دور میں ٹائٹل گیت لکھنا بڑی بات سمجھی جاتی تھی۔ فلمسازوں کو جب بھی ٹائٹل گیت کی ضرورت ہوتی تھی، سب سے پہلے حسرت جےپوری سے رابطہ کیا جاتا تھا۔ ان کے تحریر کردہ ٹائٹل گیتوں نے کئی فلموں کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ حسرت جے پوری کے قلم سے نکلے کچھ ٹائٹل گیت اس طرح ہیں : دیوانہ مجھ کو لوگ کہیں (دیوانہ)، دل ایک مندرہے (دل ایک مندر)، رات اوردن دیا جلے (رات اور دن)، ایک گھر بناؤں گا تیرے گھر کے سامنے (تیرے گھر کے سامنے) این ایوننگ ان پیرس (این ایوننگ ان پیرس)گمنام ہےکوئی(گمنام)، دو جاسوس کریں محسوس (دو جاسوس)۔
حسرت جے پوری کا اصل نام اقبال حسین تھا۔ ان کی پیدائش ۱۵؍اپریل۱۹۲۲ءکوہوئی تھی۔ جے پورمیں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اپنے دادا فدا حسین سے اردو اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ ۲۰؍برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ان کا رجحان شاعری کی طرف ہوگیا اور وہ چھوٹی چھوٹی غزلیں لکھنے لگنے۔ ۱۹۴۰ءمیں فکر معاش میں حسرت جے پوری نےممبئی کا رخ کیا اور زندگی گزارنے کے لئے وہاں کنڈکٹرکی نوکری کرنے لگے۔ اس کام کے لیے انہیں صرف ۱۱؍روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی۔ اس دوران انہوں نےمشاعروں میں حصہ لینا شروع کردیا۔ اسی بیچ ایک پروگرام میں پرتھوی راج کپور ان کی غزل سے کافی متاثر ہوئے اور انہوں نے اپنے بیٹے راج کپور کو حسرت سے ملنے کی صلاح دی۔
راج کپور ان دنوں اپنی فلم ’برسات‘ کے لئے کسی نغمہ نگار کی تلاش میں تھے۔ انہوں نے حسرت جےپوری کو ملنے کی دعوت دی۔ راج کپور سے حسرت کی پہلی ملاقات ’رائل اوپیرا ہاؤس‘ میں ہوئی اور اپنی فلم برسات کے لئے ان سے گیت لکھنے کی فرمائش کی۔ یہ بھی ایک اتفاق ہی ہےکہ فلم برسات سے ہی موسیقار شنکر جے کشن نے بھی اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا تھا۔ راج کپور کے کہنے پر شنکر جے کشن نے حسرت جےپوری کو ایک دھن سنائی اور اس پر ان سے گیت لکھنے کو کہا۔ دھن کے بول کچھ اس طرح تھے ’امبوا کا پیڑہے وہیں منڈیرہے، آجا مورے بالما کاہے کی دیرہے‘۔ شنکر جے کشن کی اس دھن کو سن کر حسرت جے پوری نے جیہ بے قرار ہے، چھائی بہار ہے، آجا مورے بالما تیرا انتظار ہے، گیت لکھا۔ ۱۹۴۹ء میں ریلیز ہوئی فلم برسات میں اپنے اس گیت کی کامیابی کےبعد حسرت جے پوری فلمی دنیا میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ برسات کی کامیابی کے بعد راج کپور حسرت جے پوری اورشنکرجےکشن کی جوڑی نےکئی فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔ حسرت جے پوری کی جوڑی راج کپور کے ساتھ ۱۹۷۱ءتک قائم رہی۔ حسرت جےپوری کودو بارفلم فیئرایوارڈ سے نوازا گیا۔ حسرت جے پوری کو ورلڈ یورنیورسٹی ٹیبل کے ڈائریکٹ ایوارڈاور اردو کانفرنس میں جوش ملیح آبادی ایوارڈسےبھی نوازا گیا۔ فلم میرے حضور میں ہندی اوربرج بھاشا میں جھنک جھنک تیری باجے پائلیا کیلئے امبیڈکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ حسرت جےپوری نے ۳؍ دہائیوں پرمشتمل اپنےفلمی کیئریر میں ۳۰۰؍سےزائد فلموں کیلئے تقریباً۲؍ہزارنغمےلکھے۔ اپنے نغموں سے سامعین کو محظوظ کرنے والےشاعراورگیت کار ۱۷؍ستمبر ۱۹۹۹ء کواپنے مداحوں کیلئے’’ تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے‘‘ جیسا نغمہ چھوڑ کر اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔