فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے راؤنڈ آف ۱۶؍ (ناک آؤٹ مرحلے) میں پیر کے روز فٹ بال کی دنیا کا ایک اور بڑا اور اعصاب شکن مقابلہ ہونے جا رہا ہے، جہاں کینگے اسٹیڈیم، سیئٹل میں میزبان امریکہ کا سامنا بلجیم کی مضبوط ٹیم سے ہوگا۔
EPAPER
Updated: July 06, 2026, 7:08 PM IST | New York
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے راؤنڈ آف ۱۶؍ (ناک آؤٹ مرحلے) میں پیر کے روز فٹ بال کی دنیا کا ایک اور بڑا اور اعصاب شکن مقابلہ ہونے جا رہا ہے، جہاں کینگے اسٹیڈیم، سیئٹل میں میزبان امریکہ کا سامنا بلجیم کی مضبوط ٹیم سے ہوگا۔
یفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے راؤنڈ آف ۱۶؍ (ناک آؤٹ مرحلے) میں پیر کے روز فٹ بال کی دنیا کا ایک اور بڑا اور اعصاب شکن مقابلہ ہونے جا رہا ہے، جہاں کینگے اسٹیڈیم، سیئٹل میں میزبان امریکہ کا سامنا بلجیم کی مضبوط ٹیم سے ہوگا۔ امریکی ٹیم اس اہم مقابلے کو ۱۲؍ سال قبل ۲۰۱۴ء کے ورلڈ کپ (برازیل) میں بیلجیم کے ہاتھوں ملنے والی شکست کا بدلہ لینے کے سنہرے موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:علی فضل اور رِچا چڈھا کامیڈی فلم میں مرکزی کردار ادا کریں گے
بلجیم کے مایہ ناز گول کیپر تھیباؤ کورٹووا نے پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے امریکی گول کیپر ٹم ہاورڈ کو یاد کیا۔ ۲۰۱۴ء کے اس یادگار میچ میں ٹم ہاورڈ نے ریکارڈ ۱۶؍ شاندار سیوز کیے تھے، تاہم ایکسٹرا ٹائم میںبلجیم نے وہ میچ ۱۔۲؍گول سے جیت لیا تھا۔ ۳۴؍ سالہ کورٹووا پیر کے میچ میں ایک بار پھر بلجیم کی جانب سے اسٹارٹنگ الیون کا حصہ ہوں گے۔کورٹووا کا کہنا ہے کہ’’امریکی فٹ بال نے گزشتہ ایک دہائی میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ ان کے پاس بہترین ٹیلنٹ ہے اور وہ ایک عالمی طاقت بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمیں پیر کے روز ایک انتہائی سخت اور چیلنجنگ میچ کی توقع ہے۔ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے معروف کوچ موریشیو پوچیٹینو کی قیادت میں امریکی ٹیم اس وقت بہترین فارم میں ہے اور ٹورنامنٹ کے ۴؍ میں سے ۳؍ میچز جیت چکی ہے۔ ٹیم میں کرسچن پلسک اور فولارن بالوگن جیسے یورپی کلبز کے اسٹار کھلاڑی شامل ہیں۔
اس میچ سے قبل ایک انوکھا موڑ اس وقت آیا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو سے رابطہ کر کے فولارن بالوگن کو ملے ریڈ کارڈ کے جائزے کی درخواست کی، جس کے بعد وہ پیر کے میچ کے لیے دستیاب قرار دیے گئے ہیں۔
بلجیم کی ٹیم میں کورٹووا، ایکسل وٹسل، کیون ڈی بروئن اور رومیلو لوکاکو جیسے تجربہ کار کھلاڑی موجود ہیں جنہوں نے ۲۰۱۸ء کے ورلڈ کپ میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔بلجیم نے حال ہی میں راؤنڈ آف۳۲؍ میں سینیگال کو ۲۔۳؍گول سے ہرا کر اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے۔دوسری جانب، یورپی ٹیموں کے خلاف امریکہ کا ریکارڈ کچھ خاص نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھئے:ایمباپے، میسی اور ہالینڈ نے ۹۶؍ سالہ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ بدل دی
امریکہ گزشتہ ۱۳؍ ورلڈ کپ میچوں میں کسی بھی یورپی حریف کو شکست دینے میں ناکام رہا ہے۔مارچ ۲۰۲۶ءمیں کھیلے گئے ایک وارم اپ میچ میں بھی بلجیم نے امریکہ کو۲۔۵؍گول سے عبرتناک شکست دی تھی۔امریکی ڈیفینڈر الیکس فری مین نے میچ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا’’ہمیں بدلہ چاہیے۔ ۱۲؍ سال پرانی ہار کا بھی اور تین ماہ قبل وارم اپ میچ میں ملنے والی شکست کا بھی۔ ہمارے ذہن میں صرف فتح کا عزم ہے اور ہم یہ میچ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پوری قوم کے لیے جیتنے کے لیے اتریں گے۔‘‘اگر پیر کے روز امریکہ فتح حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ امریکی فٹ بال کی تاریخ کا ایک بڑا اہم موڑ ثابت ہوگا اور وہ ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لیں گے۔