Inquilab Logo Happiest Places to Work

آرے کالونی میں درخت گرنے سے جاں بحق ہونے والا حسن رضا بی کام کا طالب علم تھا

Updated: July 06, 2026, 9:49 PM IST | Mumbai

ممبئی کی آرے کالونی میں بارش کے دوران درخت کی شاخ گرنے سے ۱۸؍ سالہ بی کام کے طالب علم حسن رضا جہانگیر عالم سعید کی موت ہوگئی۔ حسن اپنے دوستوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر گھر لوٹ رہا تھا کہ یونٹ نمبر ۱۳؍ روڈ پر یہ حادثہ پیش آیا۔ اسپتال پہنچانے پر ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا جبکہ پوسٹ مارٹم میں موت کی وجہ ’’پولی ٹراما‘‘ بتائی گئی۔ اہل خانہ نے بارش سے قبل درختوں کی جانچ نہ ہونے کو حادثے کی وجہ قرار دیتے ہوئے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

Symbolic image: INN
علامتی تصویر: آئی این این

عروس البلاد میں بارش شروع ہوئے محض چند روز گزرے ہیں مگر اب تک ۱۳؍ اموات ہوچکی ہیں۔ انہی میں ۱۸؍ سالہ بی کام طالب علم حسن رضا جہانگیر عالم سعید بھی شامل ہے جو اپنی موٹر سائیکل پر تھا جب آرے کالونی کے ایک درخت کی شاخ سیدھے اس کے سر پر گری۔ اُسے فوراً ہی ملاڈ کے بالا جی اسپتال لے جایا گیا جہاں داخلے سے قبل ہی ڈاکٹروں نے اُس کی موت کی تصدیق کردی۔ حادثہ سنیچر کو ہوا مگر پوسٹ مارٹم اتوار کو کیا گیا جس میں ڈاکٹروں نے ’’پولی ٹراما‘‘ کو موت کی وجہ قرار دیا۔ اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ حسن رضا اور اس کے تین ساتھی دو پہر کے وقت موٹر بائیک پر ساکی ناکہ سے نکلے تھے۔ آرے کالونی میں اسنیکس اور چائے لینے کے بعد وہ لوگ گھر لوٹ رہے تھے جب یونٹ نمبر ۱۳؍ روڈ پر سہ پہر ساڑھے تین بجے یہ حادثہ پیش آیا۔ حسن کے اعزہ کا کہنا ہے کہ اگر آرے کالونی کے اُن درختوں کی بارش سے پہلے جانچ کرلی گئی ہوتی جو سڑک کے کنارے ہیں تو ممکن تھا کہ یہ حادثہ ٹل جاتا۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس غفلت کیلئے درختوں کی نگرانی اور دیکھ بھال پر مامور افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

یہ بھی پڑھئے: لوکل ٹرینو ں میں جرمانہ بڑھاکر۵۰۰؍ روپے کر دیا گیا

حسن رضا کی بائیک سے آگے چلنے والی بائیک ملک محمد اریب کی تھی جس کی عمر ۱۹؍ سال ہے۔ اریب نے اس نمائندے کو بتایا کہ وہ آگے بڑھ رہا تھا تبھی اُسے زور کی آواز سنائی دی۔ اس نے سوچا کہ یقیناً یہ درخت گرنے کی آواز ہے لہٰذا اس نے ساتھیوں سے تیز گاڑی چلانے کیلئے کہا۔ میری بائیک نکل گئی مگر ٹوٹ کر گرنے والی درخت کی شاخ دوسری بائیک پر سوار حسن کے سر پر گری۔ ہم ایک راہ گیر کی مدد سے اُسے اسپتال لے گئے مگر ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کی موت واقع ہوچکی ہے۔ حسن کے ایک اور دوست ذیشان احمد چودھری (۲۰) کے مطابق اُس دن ہمارا باہر نکلنے کا کوئی طے شدہ پروگرام نہیں تھا، ہم لوگ ساتھ پلے بڑھے ہیں، اُس روز بارش ہورہی تھی اس لئے دوپہر کے بعد سوچا کہ کیوں نہ باہر چل کر چائے پی جائے، میری اب تک سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ جو ہوا کیسے ہوا۔ 

یہ بھی پڑھئے: جسٹس جامدار کا دم دار فیصلہ، چوطرفہ پزیرائی، اُمید کی کرن قرار دیا گیا

گھر میں حسن کی والدہ، والد اور ایک چھوٹا بھائی ہے جس کی عمر ۱۵؍ سال ہے۔ حسن بی کام فرسٹ ایئر کا طالب علم تھا جو گزشتہ چھ ماہ سے وائزر (ہیلمٹ میں لگنے والی وہ دفتی جو دھوپ اور روشنی سے بچاؤ کیلئے ہوتی ہے) مینوفیکچرنگ سیکھ رہا تھا اور خود کا کاروبار شروع کرنا چاہتا تھا۔ اُس کے والد نے اس نمائندے سے گفتگو کے دوران بتایا کہ ’’وہ میرا بڑا لڑکا تھا۔ اگلے ماہ اس کی سالگرہ تھی۔ جو کچھ ہوا وہ اس کی والدہ کیلئے سخت مشکل ہے۔ علاقے کے سوشل ورکر محمد اقبال سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے پوسٹ مارٹم میں تاخیر کا شکوہ کیا اور کہا کہ گھر کے لوگوں کو دو مرتبہ پولیس اسٹیشن جانا پڑا۔ پنچ نامہ اتوار کی صبح کیا گیا جس کی وجہ سے پوسٹ مارٹم میں تاخیر ہوئی اور ورثاء کو اس کا جسد خاکی دیر سے ملا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK