Updated: July 06, 2026, 9:32 PM IST
| Praia
افریقہ کے مغربی ساحل پر وسطی بحر اوقیانوس کے جزیرے کیپ ورڈے میں اتوار کا دن، جو وہاں کا یوم آزادی بھی تھا، ان معنوں میں تاریخی بن گیا تھا کہ اسی دن فیفا ورلڈ کپ میں اپنی کارکردگی کے ذریعہ دُنیا بھر کے شائقین کا دل جیتنے والی ٹیم وطن واپس ہوئی تھی۔
افریقہ کے مغربی ساحل پر وسطی بحر اوقیانوس کے جزیرے کیپ ورڈے میں اتوار کا دن، جو وہاں کا یوم آزادی بھی تھا، ان معنوں میں تاریخی بن گیا تھا کہ اسی دن فیفا ورلڈ کپ میں اپنی کارکردگی کے ذریعہ دُنیا بھر کے شائقین کا دل جیتنے والی ٹیم وطن واپس ہوئی تھی۔ کیپ ورڈے کے شائقین نے اپنی ٹیم کا اتنے پُرجوش انداز میں استقبال کیا جیسے وہ فیفا ورلڈ کپ جیت کر وطن لوٹی ہو۔
ٹیم کے پرائیا پہنچنے سے پہلے ہی، جو کیپ ورڈے کا سب سے بڑا شہر اور راجدھانی ہے، ہزاروں مداح ایئر پورٹ پر جمع ہوچکے تھے۔ اُن کے ہاتھوں میں نیلے رنگ کا قومی پرچم تھا جس کے درمیانی حصے میں سرخ اور سفید پٹیاں ہیں جن کے اوپر تلے چھ تارے بنے ہوئے ہیں۔ ایئرپورٹ پہنچنے والے مداحوں کے علاوہ سڑکوں پر بھی ہزاروں شائقین جمع تھے جو کھلے ٹرک میں کھڑے ہوئے اپنے فٹ بال کھلاڑیوں کیلئے نعرے لگا رہے تھے، گیت گا رہے تھے اور ڈرم بجا رہے تھے۔ یوم آزادی ہونے کی وجہ سے عوامی تعطیل تھی اس لئے مداحوں کی تعداد کافی زیادہ تھی۔ یہ سارے لوگ بلیو شارکس (ٹیم کے کھلاڑی) اور ان کے کپتان بوبسٹا کو دیکھنا اور اُنہیں خراج تحسین پیش کرنا چاہتے تھے۔ تبھی بوبسٹا نے مائیکروفون اپنے ہاتھوں میں لیا اور پُرزور آواز میں پرتگالی زبان میں کہا ’’اوبریگاڈو کوبے ورڈے‘‘ (کیپ ورڈے کے عوام آپ کا بہت شکریہ)۔ اس کے فوراً بعد گول کیپر اور سوشل میڈیا پر بے حد مقبول ووزنہا نے آواز لگائی: ’’کیا چاہتا ہے پرائیا؟‘‘
بتانے کی ضرورت نہیں کہ صرف ۵؍ لاکھ کی آبادی والے ۱۰؍ جزائر پر مشتمل کیپ ورڈے نے رواں صدی کے آغاز تک ورلڈ کپ کوالیفائر نہیں کھلا تھا۔ عالمی سطح پر ان کا مقام ۶۷؍ واں تھا۔۲۰۰۰ء میں اس کی رینکنگ ۱۸۲؍ پر پہنچی اور فروری ۲۴ء میں اب تک کی سب سے اونچی سطح (۲۷؍ واں مقام) حاصل ہوئی۔ گزشتہ دنوں راؤنڈ آف ۳۲؍ میں جگہ بنا نے مگر ارجنٹاپنا سے مات کھا جانے کے بعد بھی یہ ملک ۶۴؍ ویں مقام پر ہے۔
کیپ ورڈے کی کارکردگی کو اس لئے بھی سراہا گیا اور اس کا سلسلہ اب تک جاری ہے کیونکہ اس نے جمعہ، ۳؍ جولائی کو ارجنٹائنا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف شاندار (۲۔۳) کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔اس موقع پر اسکاٹ لینڈ کے سابق کھلاڑی جیمس میک فیڈن نے کہا کہ ’’وہ ہارے مگر جیتے ہیں، انہوں نے جرأت، باہمی سمجھ بوجھ، اتحاد اور غیر متزلزل عزم کی عمدہ مثال قائم کی ہے ، کوئی مجھ سے پوچھے کہ ٹورنامنٹ میں کیا تھا تو مَیں کہوں گا کیپ ورڈے کی ٹیم تھی۔‘‘ اتوار کے استقبال میں شریک ہونے والی ایک خاتون نے بی بی سی کو بیان دیا کہ ورلڈ کپ کے دوسرے سب سے چھوٹے ملک کیلئے، جس نے پہلے کبھی ٹورنامنٹ نہیں کھیلا تھا، اسپین اور یوروگوائے کے مقابلے میں کھیلنا بہت بڑی بات ہے۔ کیپ ورڈے کے پرفارمنس کی تفصیل کیلئے قارئین انقلاب اتوار ۵؍ جولائی کے صفحہ اول کی تفصیلی رپورٹ کا مطالعہ کرسکتے ہیں جس کی سرخی ہے: ’’اب کسی کو پوچھنا نہیں پڑے گا کہ کیپ ورڈے کہاں ہے، وہ مداحوں کے دلوں میں ہے۔‘‘