Updated: July 06, 2026, 9:51 PM IST
| Jaipur
جے پور میں فوڈ ڈلیوری ایپ کے ایک گاہک نے آرڈر کے ساتھ ’’مسلم ڈلیوری بوائے مت بھیجنا‘‘ کی ہدایت درج کی، مگر ڈلیوری ایجنٹ آفتاب خان نے تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود آرڈر پہنچایا۔ ملاقات کے دوران گاہک نے بتایا کہ یہ پرانا پیغام تھا جسے وہ حذف کرنا چاہتا تھا۔ آفتاب نے بغیر بحث کے وہ پیغام حذف کردیا، جس پر گاہک نے معذرت کی اور دونوں نے بھائی چارے اور باہمی احترام کا پیغام دیا۔
آفتاب خان ’’سویگی‘‘ کیلئے کام کرتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے اپنے اسمارٹ فون پر گاہک کے آرڈر کے ساتھ یہ لکھا ہوا دیکھا: ’’مسلم ڈلیوری بوائے مت بھیجنا‘‘۔ آفات کیلئے یہ درخواست قطعی غیر متوقع تھی۔ وہ چاہتے تو آرڈر کینسل کردیتے یا اپنے لوکل واٹس ایپ گروپ میں کسی دوسرے ساتھی کے حوالے کردیتے تاکہ اُن کی جگہ پر وہ دوسرا ساتھی ڈلیوری کردیتا مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ٹیلی گراف انڈیا میں دیبائن دتہ کی خبر کے مطابق یہ واقعہ جے پور کا ہے۔ اس مسیج کی بابت آفتاب کا کہنا تھا کہ ’’بحیثیت انسان مجھے بُرا لگا مگر مَیں نے سوچا کیوں نہ اس گاہک سے ملوں اور اس کا نقطۂ نظر جاننے کی کوشش کروں؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا نیا سوشل میڈیا پوسٹ، جارجیا میلونی کے ساتھ کشیدگی پھر بڑھ گئی
ایک ہاتھ میں طلوبہ غذائی پیکٹ لے کر آفتاب گاہک کی عمارت کے تیسرے منزلے پر پہنچے۔ اُس وقت اُن میں خوف تھا، بے چینی تھی کہ پتہ نہیں گاہک کا ردعملہ کیا ہو۔ مگر، جیسے انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا گاہک نے مسکراتے ہوئے دروازہ کھولا۔ سب کچھ نارمل دیکھ کر آفتاب نے گاہک سے اُس ایک سطر کے بارے میں پوچھا جو تعصب سے بھری ہوئی تھی۔ بقول آفتاب: ’’تب گاہک کچھ سوچ میں پڑ گیا، پھر ایسا لگا جیسے پچھتاوا ہو۔‘‘ اس سے قبل کہ آفتاب مزید کچھ پوچھتے گاہک نے وضاحت کی کہ وہ ایک پُرانا مسیج تھا جو الگ موڈ میں لکھا اور بھیجا گیا تھا۔ اب وہ اسے ڈلیٹ کرنا چاہتا تھا مگر اُسے علم نہیں تھا کہ کیسے ڈلیٹ کیا جائے۔ آفتاب نے نہ تو بحث کی نہ ہی کوئی لیکچر دیا بلکہ گاہک کے ہاتھ سے موبائل لیا اور ایپ میں جاکر اُس سطر کو حذف کردیا۔
اس کے بعد گاہک نے اُس سے ہاتھ ملایا اور پانی کا گلاس پیش کیا۔ آفتاب صرف اتنا کہہ پائے‘ ’’غلطی کسی سے بھی ہوسکتی ہے۔‘‘ بقول آفتاب ’’اُس نے مجھ سے معافی مانگی جس سے مجھے بڑی راحت ملی۔ ہمارا مقصد ملک میں بھائی چارگی اور محبت پھیلانا ہے۔‘‘