فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے زیر اہتمام جاری ورلڈ کپ ۲۰۲۶ءکے پری کوارٹر فائنل راؤنڈ میں ناروے کے ہاتھوں شکست کے بعد برازیل کے میڈیا میں شدید مایوسی ہے اور ٹیم کی کارکردگی کا گہرا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: July 06, 2026, 10:06 PM IST | New York
فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے زیر اہتمام جاری ورلڈ کپ ۲۰۲۶ءکے پری کوارٹر فائنل راؤنڈ میں ناروے کے ہاتھوں شکست کے بعد برازیل کے میڈیا میں شدید مایوسی ہے اور ٹیم کی کارکردگی کا گہرا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے زیر اہتمام جاری ورلڈ کپ ۲۰۲۶ءکے پری کوارٹر فائنل راؤنڈ میں ناروے کے ہاتھوں شکست کے بعد برازیل کے میڈیا میں شدید مایوسی ہے اور ٹیم کی کارکردگی کا گہرا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اخبار او گلوبو نے اسے چھٹا ورلڈ کپ ٹائٹل جیتنے کے خواب کا خاتمہ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ کارلو کا برازیل کے ساتھ پہلا ورلڈ کپ کوارٹر فائنل تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔
یہ بھی پڑھئے:انفلوئنسرز کمزور لڑکوں کو مردانہ رول ماڈلز کی تلاش میں شکار بناتے ہیں:عمران خان
اخبار نے یہ بھی لکھا کہ برازیل ۱۹۹۰ء میں ارجنٹائنا کے ہاتھوں شکست کے بعد پہلی بار پری کوارٹر فائنل سے باہر ہوا ہے اور نیو جرسی میں کھیلے گئے اس میچ میں برازیل کے پاس صرف ۳۲؍ فیصد بال پوزیشن رہی جو ۱۹۶۶ء کے بعد سے اب تک ورلڈ کپ کی تاریخ میں اس کی سب سے کم ترین پوزیشن ہے۔ ایک اور معروف اخبار فولہا ڈی ایس پالو نے لکھا کہ برازیل باہر ہو گیا اور خواب چکنا چور ہو گیا، ناروے کے ارلنگ ہالینڈ کے ۲؍ گولز نے برازیلی ٹیم کو ساحل پر ہی چھوڑ دیا۔
اخبار نے ۳۴؍ سالہ نیمار کے لیے اسے ایک انتہائی افسردہ دن قرار دیتے ہوئے لکھا کہ برازیل کی شرٹ میں یہ ان کا آخری ورلڈ کپ میچ ہو سکتا ہے جبکہ کارلو کو اپنی حکمت عملی نافذ کرنے کے لیے مناسب وقت نہیں مل سکا۔ دوسری جانب یو او ایل نے زیادہ سخت موقف اپناتے ہوئے لکھا کہ کلب فٹبال کے بادشاہ کارلو کے کریئر کی یہ سب سے بڑی ناکامی ہے اور کالم نگار مورو سیزر پریرا نے اطالوی کوچ کے ٹیکٹیکل انداز کو شکست کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس کے علاوہ گزیٹا ایسپورٹیوا نے برونو گیماریس کی پینالٹی مس کرنے پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا کہ وہ ۱۹۸۶ء میں زیکو کے بعد میچ کے دوران پنالٹی ضائع کرنے والے پہلے برازیلی کھلاڑی بن گئے ہیں۔
ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد کارلو کا برازیلی ٹیم کی شاندار واپسی کا عزم
برازیل کی فٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ کارلو اینچلوٹی نے اتوار کو پری کوارٹر فائنل راؤنڈ میں ناروے کے ہاتھوں شکست اور ورلڈ کپ سے مایوس کن اخراج کے بعد کہا ہے کہ اس دردناک ہار کو مستقبل کے لئے بطور ایندھن استعمال کیا جانا چاہیے اور یہ ناکامی ایک نئے سائیکل کا آغاز ہے۔ نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں ۱۔۲؍گول سے شکست کے بعد گفتگو کرتے ہوئے اطالوی کوچ نے کہا کہ اس نتیجے سے ہر کوئی شدید مایوس ہے، ہم نے کوئی غیر معمولی ورلڈ کپ تو نہیں کھیلا لیکن ہماری کارکردگی اچھی تھی اور آج کے میچ میں ہم فتح کے حقدار تھے۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا نے امریکی سٹار بالوگن پر لگی پابندی معطل کر دی، بلجیم کا فیصلے پر احتجاج
ارلنگ ہالینڈ کے ۲؍ دیرینہ گولز نے میچ کا پانسہ پلٹا جبکہ برازیل کے برونو گیماریس پہلے ہاف میں پنالٹی ضائع کر بیٹھے تھے اور آخری لمحات میں نیمار کا گول بھی ٹیم کو نہ بچا سکا۔ برازیل کو چھٹا ورلڈ کپ جتانے کے مشن پر مامورکارلو نے عہدے سے مستعفی ہونے کے امکان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کا معاہدہ ۲۰۳۰ء کے ورلڈ کپ تک ہے اور وہ ٹیم کو بہتر بنانے کے لئے سخت محنت جاری رکھیں گے۔ واضح رہے کہ اس شکست کے بعد برازیل کا ورلڈ کپ جیتنے کا انتظار ۲۵؍ سال سے زائد طویل ہو گیا ہے جبکہ ۱۹۹۰ءمیں ارجنٹائنا کے ہاتھوں ہار کے بعد راؤنڈ آف ۱۶؍ میں برازیل کا یہ اب تک کا بدترین انجام ہے۔