Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ پر مبنی فلم ”دی وائس آف ہند رجب“ میں بریڈ پٹ، جوکین فینکس بطور ایگزیکٹیو پروڈیوسر شامل

Updated: August 28, 2025, 8:21 PM IST | Venice

ہالی ووڈ ستاروں کی حمایت کے باعث، ۳ ستمبر کو وینس فلم فیسٹیول میں فلم کے عالمی پریمیئر سے پہلے ہی فلم ”دی وائس آف ہند رجب“ کو عالمی سطح پر توجہ حاصل ہوگئی ہے۔

Brad Pitt, Hind Rajab and Joaquin Phoenix. Photo: X
بریڈ پٹ، ہند رجب اور جوکین فینکس۔ تصویر: ایکس

تیونسی ہدایت کارہ کوثر بن ہانیہ کی غزہ جنگ پر مبنی فلم ”دی وائس آف ہند رجب“ میں ہالی ووڈ کے بڑے ستارے بریڈ پٹ، جوکین فینکس، رونی مارا، جوناتھن گلیزر اور الفانسو کوارون بطور ایگزیکٹو پروڈیوسر شامل ہو گئے ہیں۔ ان کی حمایت کے باعث، ۳ ستمبر کو وینس فلم فیسٹیول میں فلم کے عالمی پریمیئر سے پہلے ہی فلم کو عالمی سطح پر توجہ حاصل ہوگئی ہے۔

یہ فلم چھ سالہ فلسطینی لڑکی ہند رجب کی دردناک موت سے قبل اس کی آخری گھڑیوں کی کہانی بیان کرتی ہے۔ جنوری ۲۰۲۴ء میں، جب اس کا خاندان غزہ شہر سے بھاگ رہا تھا اور اسرائیلی فوجیوں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی تو اس نے گولیوں سے چھلنی ہوچکی کار کے اندر سے ریڈ کریسنٹ تنظیم کے رضاکاروں کو فون کیا تھا۔ اس کی لاش بعد میں گاڑی کے اندر سے ملی۔ یہ فلم اس کی مدد کیلئے کی گئی مایوس کن کالز کی ریکارڈنگز پر مبنی ہے، جن کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس وقت علاقے میں کوئی فوجی موجود نہیں تھا۔ تاہم، واشنگٹن پوسٹ اور اسکائی نیوز کی تحقیقات نے وہاں اسرائیلی ٹینکوں کی موجودگی کی تصدیق کی۔ الجزیرہ کے ایک تجزیے میں خاندان کی گاڑی میں ۳۳۵ گولیوں کے سوراخوں کو دکھایا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: فریڈم فلوٹیلا کا گلوبل صمود ۵۰؍ سے زائد امدادی کشتیوں کے ساتھ غزہ روانہ ہوگا

ہدایت کارہ بن ہانیہ، جن کی فلم ”فور ڈاٹرز“ کو گزشتہ سال آسکر کیلئے نامزد کیا گیا تھا، نے کہا کہ ”میں ایسی دنیا کو قبول نہیں کر سکتی جہاں ایک بچہ مدد کیلئے پکارے اور کوئی نہ آئے۔ سنیما، یادوں کو محفوظ کر سکتا ہے۔ سنیما یاداشت کے کھو جانے کے خلاف مزاحمت کر سکتا ہے۔“ اس فلم کو ندیم شیخروہا، اوڈیسا راے اور جیمز ولسن نے پروڈیوس کیا ہے۔ یورپ بھر میں اس کی ڈسٹری بیوشن پہلے ہی محفوظ کر لی گئی ہے جبکہ سی اے اے میڈیا فائنانس شمالی امریکہ کے حقوق سنبھال رہا ہے۔

وینس فیسٹیول پر غزہ جنگ غالب

۸۲ ویں وینس فلم فیسٹیول کا آغاز اس ہفتے بڑی شان و شوکت سے ہوا لیکن سیاسی پس منظر پر غزہ کا غلبہ رہا۔ فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہرین نے لیڈو میں جمع ہو کر محصور علاقے میں اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ فیسٹیول کے ڈائریکٹر البرٹو باربیرا نے کہا کہ اس سال کے فلموں کی فہرست، ”حقیقت کی طرف واپسی“ کی عکاسی کرتی ہے جس میں جنگ، جبر اور قبضے کو پیش کرنے والی فلمیں شامل ہیں۔ بن ہانیہ نے کہا کہ انہوں نے فلم میں گرافک تصاویر سے گریز کیا، اس کے بجائے ”انتظار، خوف اور ناقابل برداشت خاموشی پر توجہ مرکوز کی جب مدد نہیں آتی۔“

یہ بھی پڑھئے: اسپین: ’’لا توماتینا‘‘ کے ۸۰؍ سال، کھیل کے دوران فلسطینی پرچم لہرایا گیا

غزہ جنگ پر ہالی ووڈ سے آوازیں

گزشتہ سال، ۷۰۰ سے زیادہ ہالی ووڈ اداکاروں نے امریکہ کی سب سے بڑی لیبر یونین پر زور دیا تھا کہ وہ فلسطین کی حمایت کرنے پر بلیک لسٹ ہونے والے اراکین کا دفاع کرے۔ دستخط کرنے والوں میں مارک روفالو، سوسن سارینڈن، رض احمد اور سنتھیا نکسن جیسے نامور شخصیات شامل تھیں۔ جواب میں، اسرائیلی فوجیوں نے روفالو اور بلی آئلش جیسی مشہور شخصیات کا مذاق اڑایا اور غزہ میں استعمال ہونے والے توپ خانے کے گولوں پر ان کے نام لکھے تھے۔

غزہ نسل کشی

جنگ بندی کی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیل نے ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے غزہ پر وحشیانہ حملے جاری رکھے ہیں جس کے نتیجے میں ۶۳ ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ فلسطین کی سرکاری نیوز ایجنسی ’وفا‘ کے مطابق، تقریباً ۱۱ ہزار فلسطینی تباہ شدہ گھروں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اموات کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے اور ممکنہ طور پر ۲ لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ اس نسل کشی کے دوران، اسرائیل نے محصور علاقے کے بیشتر حصے کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے اور اس کی تمام آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔ اسرائیلی قابض افواج کی مسلسل بمباری کے باعث غزہ پٹی میں خوراک کی شدید قلت اور بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسرائیلی پابندیاں فاقہ کشی اور بیماریوں میں اضافہ کا سبب: ڈبلیو ایچ او

گزشتہ سال نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف اسرائیل کی غزہ پر جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا حوالہ دیتے ہوئے گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے تھے۔ اس کے علاوہ، اسرائیل بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں بھی نسل کشی کے مقدمے کا سامنا کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK