ہومی واڈیاکی پیدائش ۲۲؍مئی ۱۹۱۱ءکو سورت کے ایک پارسی خاندان میں ہوئی۔ ان کے والد ایک خوشحال تاجر تھے اور چاہتے تھےکہ بیٹا اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے وکالت یا کسی معزز پیشے سے وابستہ ہو۔
EPAPER
Updated: May 23, 2026, 10:44 AM IST | Mumbai
ہومی واڈیاکی پیدائش ۲۲؍مئی ۱۹۱۱ءکو سورت کے ایک پارسی خاندان میں ہوئی۔ ان کے والد ایک خوشحال تاجر تھے اور چاہتے تھےکہ بیٹا اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے وکالت یا کسی معزز پیشے سے وابستہ ہو۔
ہندوستانی سنیماکی ابتدائی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیں جنہوں نےصرف فلمیں ہی نہیں بنائیں بلکہ ایک پوری فلمی روایت کی بنیاد رکھی۔ ہومی واڈیاانہی اہم شخصیات میں شامل تھے۔ وہ اس دور کے فلم سازتھے جب ہندوستانی سنیماابھی اپنی ابتدائی منزلوں میں تھا، فلمیں خاموش ہوا کرتی تھیں، تکنیک محدود تھی، مگر خواب بہت بڑے تھے۔ ہومی واڈیا نے نہ صرف ہندوستانی فلمی صنعت کو ایک نئی سمت دی بلکہ ایکشن، فینٹسی اور اسٹنٹ فلموں کی ایسی روایت قائم کی جس نے بعد کے کئی عشروں تک ناظرین کو متاثر کیا۔
ہومی واڈیاکی پیدائش ۲۲؍مئی ۱۹۱۱ءکو سورت کے ایک پارسی خاندان میں ہوئی۔ ان کے والد ایک خوشحال تاجر تھے اور چاہتے تھےکہ بیٹا اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے وکالت یا کسی معزز پیشے سے وابستہ ہو۔ ہومی واڈیا نے قانون کی تعلیم بھی حاصل کی، لیکن ان کا دل فلموں کی دنیا میں بس چکا تھا۔ اس زمانے میں فلمی دنیاکو اتنا باوقار پیشہ نہیں سمجھا جاتا تھا، خاص طور پر معزز پارسی خاندانوں میں، مگر ہومی واڈیا نے روایت سے ہٹ کر اپنا راستہ منتخب کیا۔
ان کے بڑے بھائی جے بی ایچ واڈیاپہلے ہی فلمی دنیا میں سرگرم ہوچکے تھے۔ دونوں بھائیوں نےمل کر ۱۹۳۳ءمیں مشہور فلم کمپنی واڈیا مووی ٹون کی بنیاد رکھی، جو آگے چل کر ہندوستانی سنیما کی سب سےمنفرد پروڈکشن کمپنیوں میں شمار ہونے لگی۔ اس بینر کے تحت ایسی فلمیں بنائی گئیں جن میں ایکشن، مہم جوئی، گھڑسواری، تلوار بازی اور حیرت انگیزاسٹنٹس شامل ہوتے تھے۔ اس زمانے میں جب زیادہ تر ہندوستانی فلمیں دیومالائی یا سماجی موضوعات تک محدود تھیں، واڈیا مووی ٹون نےناظرین کو ایک نئی قسم کی تفریح فراہم کی۔
یہ بھی پڑھئے: آمدنی کے معاملے میں بالی ووڈ کی سب سے بڑی ہٹ فلم کون سی ہے؟
ہومی واڈیا کا نام خاص طور پر’اسٹنٹ فلموں ‘کے حوالے سے مشہور ہوا۔ ۱۹۳۵ءمیں ریلیز ہونے والی’ہنٹروالی‘ نے پورے ملک میں تہلکہ مچادیا۔ اس فلم میں فیئرلیس نادیہ نے نقاب پوش ہیروئن کا کردار ادا کیا جو ظلم کے خلاف لڑتی ہے۔ فلم کی کامیابی نے ہومی واڈیا کو راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا۔ ’ہنٹر والی‘ صرف ایک فلم نہیں تھی بلکہ ہندوستانی عوام کے لیے ایک نیا تجربہ تھی۔ لوگ سینما گھروں میں نادیہ کے کرتب دیکھنے کے لیے قطاریں لگاتے تھے۔ اس فلم کے بعد ’مس فرنٹیئر میل‘، ’ڈائمنڈ کوئین‘ اور دیگر کئی اسٹنٹ فلمیں بنیں جنہوں نے واڈیا مووی ٹون کو ایک الگ شناخت دی۔
ہومی واڈیاکی ایک اور اہم خوبی یہ تھی کہ وہ فلم کو محض تفریح نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے عوامی جوش و جذبے سےجوڑتے تھے۔ ان کی کئی فلموں میں ظلم کے خلاف بغاوت، انصاف کی جیت اور کمزور طبقے کی حمایت جیسے موضوعات نمایاں نظر آتےہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ عام ناظرین ان کی فلموں سے جذباتی طور پر جڑ جاتے تھے۔ ہومی واڈیانے اپنی طویل زندگی میں ہندوستانی سنیما کو ایک ایسا رنگ دیا جو اس سےپہلے کم ہی دکھائی دیتا تھا۔ انہوں نےفلمی دنیا کو یہ باور کرایا کہ ناظرین صرف رومانوی کہانیاں ہی نہیں بلکہ سنسنی، جرات اور مہم جوئی بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا انتقال ۱۰؍دسمبر ۲۰۰۴ءکو ہوا، لیکن فلمی تاریخ میں ان کا نام آج بھی احترام سے لیا جاتا ہے۔