Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیپ راؤنڈ: پہلے دن ویب سائٹ ڈاؤن، لاکھوں طلبہ پریشان

Updated: May 23, 2026, 11:55 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

۱۱؍ویں میں  داخلے کےپہلے رائونڈکے پہلے دن مسائل سےطلبہ اور سرپرست چلچلاتی دھوپ میں سائبر کیفے کے باہرگھنٹوں کھڑے رہے، فارم پُر کرنے کی مدت میں ایک دن کی توسیع کی گئی۔

Students and their guardians can be seen standing at a cyber cafe to fill out admission forms. Photo: INN
داخلہ فارم بھرنے کیلئے ایک سائبر کیفے پر کھڑے طلبہ اور ان کے سرپرست دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

گیارہویں جماعت میں داخلے کیلئے جمعرات سے شروع ہونے والے پہلے کیپ رائونڈ کے پہلے ہی دن متعلقہ ویب سائٹ کی متواتر سست رفتاری اور بالآخر سائٹ کے بند ہونے سے لاکھوں طلبہ کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ گزشتہ سال ۱۱؍ویں کے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن کیلئے متعارف کرائی گئی ویب سائٹ کے بند ہونے پر ابتدائی تجربہ ہونے کا جواز پیش کر کے محکمہ تعلیم نے بات بنانے کی کوشش کی تھی لیکن امسال بھی کیپ رائونڈ کے پہلے دن ویب سائٹ کے کام نہ کرنےسے طلبہ اور سرپرستوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ 
جمعرات کو جیسے ہی داخلے کیلئے سیکنڈپارٹ کے فارم کو پُر کرنے کیلئے کالج کی ترجیحی فہرست بھرنے کا عمل شروع ہوا، ویب سائٹ ٹھپ پڑ گئی جس کی وجہ سے ریاست کے لاکھوں طلبہ اور والدین کو دن بھر پریشانی کا سامنا رہا۔ جمعہ کو بھی ویب سائٹ کی سست رفتاری سے اُمیدواروں کو دشواری ہوئی۔ ویب سائٹ کے نہ چلنے سے طلبہ اور سرپرست چلچلاتی دھوپ میں سائبر کیفے پر فارم پُر کرنے کیلئے گھنٹوں قطار لگانے پر مجبور رہے۔ ان دشواریوں کی وجہ سےمحکمہ تعلیم نے فارم پُر کرنے کی مدت میں ایک دن کی توسیع کی ہے۔  
واضح رہے کہ ۱۱؍ویں کوٹے کے داخلوں کے صفر راؤنڈ کے بعد جمعرات سے باقاعدہ پہلا راؤنڈ شروع کیا گیاہے۔ پہلے رائونڈ میں پورٹل کی ناکامی نے محکمہ تعلیم کی تیاری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کاسلسلہ جاری

مدنپورہ کے ریان ٹاور میں رہائش پزیر ضویبہ صادق انصاری نے انقلاب کو بتایاکہ ’’ناگپاڑہ پر واقع سیم کمپیوٹر سینٹر سے میں گیارہویں میں داخلے کیلئے سیکنڈپارٹ کا فارم بھرنے گئی تھی، لیکن متعلقہ ویب سائٹ کے نہ چلنے سے مجھے گھنٹوں دھوپ میں کھڑے رہنا پڑا، پھر جب طبیعت خراب ہونے کااحساس ہوا تو مجبوراً بغیر فارم پُر کئے گھر لوٹ آئی۔ جمعہ کو دوبار فارم بھرنے کیلئے گئی لیکن دوسرے دن بھی ویب سائٹ کام نہیں کر رہی تھی۔ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ حکومت نے آن لائن سسٹم طلبہ اور سرپرستوں کی آسانی یا پریشانی کیلئے متعارف کرایا ہے۔ ‘‘
سیم کمپیوٹر کے مالک اشفاق انصاری کے مطابق ’’۱۱؍ویں کے سیکنڈپارٹ میں ۱۰؍ کالجوں کے انتخاب کے کالم میں پہنچتے ہی، ویب سائٹ کام کرنا بند کر دے رہی ہے۔ ایک کالج کے بعد دوسرے کالج کا انتخاب کرنے کیلئے ۲۵؍ سے ۳۰؍ منٹ لگ رہے ہیں۔ مطلب ایک فارم پُر کرنےکیلئے ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ ضائع ہو رہا ہے، اسکے باوجود فارم مکمل نہیں ہورہا ہے۔ ویب سائٹ کے کام نہ کرنے سےبڑی دقت ہو رہی ہے۔ ‘‘انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’ ویب سائٹ کی سست روی سے طلبہ کالجوں کی فہرست ٹھیک طرح سے نہیں دیکھ پا رہے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ۱۰؍ کالجوں کے انتخاب کرنے میں دقت ہو رہی ہے۔ جمعرات سے کالجوں کے’پریفرنس آرڈر، نئے رجسٹریشن اور درخواست میں تصحیح کا عمل شروع ہو اہے لیکن لاکھوں طلبہ کے بیک وقت لاگ اِن ہونے کی وجہ سے پورٹل کی رفتار کم ہو جا رہی ہے اور بالآخر پورا سسٹم بند ہو جا رہا ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’چیز اینالاگ‘ کےاصولوں پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے:ایف ڈی اے وزیر

اس تعلق سے ثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیم کے ڈائریکٹر مہیش پالکر نے کہا ہے کہ’’ ایک ہی وقت میں لاکھوں طلبہ کے رجسٹریشن شروع کرنے کی وجہ سے ویب سائٹ پر دباؤ تھا۔ فوری کارروائی کی گئی ہے۔ ہم مستقبل میں یقینی طور پر اس عمل کو بہتر بنائیں گے۔ ‘‘
داخلےکیلئے نئے شیڈول کااعلان
۲۱؍سے ۲۳؍مئی تک نئے طلبہ پہلے پارٹ میں رجسٹریشن اور تصحیح کی درخواست دے سکتے ہیں، ساتھ ہی سیکنڈ پارٹ بھر سکتے ہیں جس میں کم ازکم ایک اور زیادہ سے زیادہ ۱۰؍ جونیئر کالجوں کی ترجیح کا تعین کرسکتے ہیں۔ 
۲۴؍ سے ۲۶؍مئی کے دورا ن جونیئر کالج الاٹمنٹ کا عمل اور تفصیلات کی تصدیق کی جائیگی۔ 
۲۷؍ سے ۲۹؍مئی کے درمیان پہلے راؤنڈ کی کٹ آف لسٹ پورٹل پر شائع کی جائے گی، بعدازیں اہل طلبہ کو ایس ایم ایس بھیجا جائے گا۔ اس مدت کے دوران طلبہ کو متعلقہ کالجوں میں داخلہ کنفرم کرانا ہوگا۔ 
۲۹؍مئی کو خالی نشستوں کے بارے میں معلومات کا اعلان پہلے راؤنڈ کے بعد کیا جائے گا۔ یکم جون کو دوسرے داخلہ راؤنڈ کے تفصیلی شیڈول کا اعلان کیا جائے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK