Inquilab Logo Happiest Places to Work

صومالیہ : خوراک کے بحران کے سبب لاکھوں افراد بھوک کا شکار: ورلڈ فوڈ پروگرام

Updated: May 08, 2026, 10:10 PM IST | Mogadishu

ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق صومالیہ میں خوراک کے بحران کے سبب لاکھوں افراد بھوک کا شکار ہوگئے ہیں، ایجنسی کے مطابق،۲۰؍ لاکھ افراد خوراک کی شدید قلت کا شکار ہیں، جبکہ اس سال۱۸؍ لاکھ سے زائد بچوں کو شدید یا خطرناک غذائی قلت کا سامنا ہوگا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ورلڈ فوڈ پروگرام نے جمعرات کو خبردار کیا کہ صومالیہ میں خشک سالی، تنازعات، نقل مکانی اور انسانی امداد کے فنڈز میں کمی کے باعث لاکھوں افراد خوراک کی عدم تحفظ کی سنگین سطح تک پہنچ رہے ہیں۔ ڈبلیو ایف پی کے مطابق، صومالیہ میں اب۶۵؍ لاکھ افراد خوراک کے بحران کی سطح یا اس سے بدتر حالت میں ہیں، جو ایک سال قبل کے اعدادوشمار سے تقریباً دگنا ہے۔ ان میں سے۲۰؍ لاکھ افراد خوراک کی شدید قلت کا شکار ہیں، جبکہ۱۸؍ لاکھ سے زائد بچوں کو اس سال شدید یا خطرناک غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ترک وطن بحران نہیں، منظم حل میں دنیا کی اجتماعی ناکامی اصل بحران ہے: غطریس

دریں اثناء ایجنسی نے کہا کہ یہ صورت حال۲۰۲۲ء کے بحران سے مشابہت رکھتی ہے، جب صومالیہ قحط کے قریب پہنچ گیا تھا۔ تاہم، اس بار امداد کی کمی امدادی عمل کو محدود کر رہی ہے۔بعد ازاں شمال مشرقی صومالیہ کے پنٹ لینڈ علاقے میں، تین بارشوں کے موسم ناکام ہونے کے بعد عوام کی آمدنی اور خوراک کی فراہمی میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔ دِیلین گاؤں کی رہائشی صفیہ محمد نے بتایا کہ ان کے جانوروں کی تعداد۱۰۰؍ سے کم ہو کر صرف پانچ رہ گئی ہے۔تاہم فنڈز کی کمی نے ڈبلیو ایف پی کو ۳۰؍ اضلاع میں ہنگامی خوراک کی امداد روکنے پر مجبور کر دیا ہے۔بعد ازاں ایجنسی فی الحال صرف۱۰؍ میں سے ایک شخص تک پہنچ پاتی ہے ، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ جولائی تک ہنگامی امداد روکنا پڑ سکتی ہے۔ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو امداد سے نکال دیا گیا ہے، اور ڈبلیو ایف پی کے تعاون سے چلنے والے صحت مراکز۲۰۲۵ء کے۶۰۰؍ سے کم ہو کر۱۲۰؍ رہ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسپین: پیڈرو سانچیز نے فرانسسکا البانیز کو’’آرڈر آف سول میرٹ‘‘ سے نوازا

علاوہ ازیں ڈبلیو ایف پی صومالیہ کے کنٹری ڈائریکٹر حمید نورو نے خبردار کیا کہ مزید کمی کے نتیجے میں صومالیہ سے باہر بھی انسانی، سیکیورٹی اور معاشی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ ایجنسی نے کہا کہ اسے اکتوبر۲۰۲۶ء تک ملک کے سب سے زیادہ کمزور افراد کی مدد جاری رکھنے کے لیے فوری طور پر ۱۳۱؍ ملین امریکی ڈالر درکار ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK