Updated: March 22, 2026, 10:59 AM IST
| Karachi
پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عبدالباسط کے بیان سے ایران کے اس طرزِ عمل کی عکاسی ہوتی ہے کہ وہ امریکہ کو فاصلے کی وجہ سے نشانہ نہیں بنا سکتا، اس لیے خلیجی ممالک پر حملے کرتا ہے۔ تاہم جن خلیجی ممالک کو تہران نشانہ بنا رہا ہے وہاں امریکی اڈے موجود ہیں جبکہ ہندوستان میں واشنگٹن کی ایسی کوئی فوجی تنصیب موجود نہیں ہے۔
ہندوستان میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عبدالباسط نے خطے کی سلامتی سے متعلق نئے خدشات کو جنم دیا ہے، جب کہ ایران جنگ کے باعث کشیدگی میں کمی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو امریکہ کی جانب سے وجودی خطرہ لاحق ہوا تو وہ ہندوستان پر حملہ کر سکتا ہے۔ باسط، جو۲۰۱۴ءسے ۲۰۱۷ء تک نئی دہلی میں پاکستان کے اعلیٰ سفارت کار رہے، نے یہ متنازع بیان ایک مفروضہ بدترین صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’فرض کریں کہ ایران کی صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے اور اسرائیل ہمارے قریب اپنی پوزیشن مضبوط کر لیتا ہے۔ اور ایک ایسی صورتحال پیدا ہو جائے جہاں امریکہ ہمارے جوہری پروگرام کو منفی نظر سے دیکھے یا ہماری جوہری صلاحیت کو تباہ کرنے کی کوشش کرے۔‘‘انہوں نے مزید کہاکہ ’’میں بدترین صورتحال کی بات کر رہا ہوں، جو کہ ناممکنات میں سے ہے، کیونکہ پاکستان کے پاس اپنے دفاع کی صلاحیت موجود ہے‘‘ اور اس بات پر زور دیا کہ ایسی صورتحال کا امکان بہت کم ہے۔
باسط نے دلیل دی کہ اگر امریکہ پاکستان پر حملہ کرے اور پاکستان فاصلے یا عملی محدودیت کی وجہ سے براہِ راست جواب نہ دے سکے تو ہندوستان ایک خودکار ہدف بن جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ’’اگر امریکہ پاکستان پر حملہ کرے اور ہم خلیج میں موجود اس کے اڈوں تک نہ پہنچ سکیں یا اسرائیل کو نشانہ نہ بنا سکیں تو ہمارے پاس کیا راستہ بچے گا؟ ہندوستان۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے پاس اور کچھ نہیں ہوگا۔ اگر ہماری رسائی وہاں تک نہ بھی ہو، اگر کوئی ہم پر دشمنی کی نظر ڈالے تو ہم بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ہندوستان ممبئی، نئی دہلی—پر حملہ کریں گے، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’بعد میں جو کچھ ہوگا، اس سے بعد میں نمٹا جائے گا اور ہمیں بھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے دُہرایا کہ اگرچہ ایسی صورتحال کا امکان کم ہے مگر نظریاتی طور پر ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھئے:امریکی محکمہ انصاف کا ہارورڈ پر مقدمہ، سام دشمنی کا الزام
باسط کے بیانات ایران کے اس طرزِ عمل سے مشابہت رکھتے ہیں کہ وہ فاصلے کی وجہ سے امریکہ کو نشانہ نہیں بنا سکتا، اس لیے خلیجی ممالک کو نشانہ بناتا ہے۔ تاہم جن ممالک کو ایران نشانہ بناتا ہے وہاں امریکی اڈے موجود ہیں، جبکہ ہندوستان میں امریکہ کی ایسی کوئی فوجی تنصیب نہیں، جس کی وجہ سے باسط کی تجویز کو غیر ذمہ دارانہ، اشتعال انگیز اور خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:امریکہ روس کو تمام توانائی کے بازاروں سے باہر نکالنے کی کوشش کر رہا ہے: لاوروف
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب امریکہ کی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ نے بدھ کے روز کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو امریکہ کے لیے سب سے بڑے جوہری خطرات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے سینیٹ کمیٹی کو بتایاکہ ’’روس، چین، شمالی کوریا اور پاکستان امریکہ کے لیے سب سے بڑے جوہری خطرات ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ایران سمیت کئی ممالک میں میزائل صلاحیتوں کی ترقی پر تشویش بڑھ رہی ہے۔