Updated: January 22, 2026, 5:07 PM IST
| Mumbai
اے آر رحمان کے حالیہ ’فرقہ وارانہ‘ بیان نے موسیقی اور فلمی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کے اس بیان پر خوب تنقید ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عام لوگوں اور اداکاروں کی طرف سے بھی ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ اسی درمیان گلوکار انوپ جلوٹا نے رحمان کو ایک نہایت چونکا دینے والا مشورہ دے دیا ہے۔
انوپ جلوٹا۔ تصویر:آئی این این
اے آر رحمان کے حالیہ ’فرقہ وارانہ‘ بیان نے موسیقی اور فلمی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کے اس بیان پر خوب تنقید ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عام لوگوں اور اداکاروں کی طرف سے بھی ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ اسی درمیان گلوکار انوپ جلوٹا نے رحمان کو ایک نہایت چونکا دینے والا مشورہ دے دیا ہے۔
گلوکار انوپ جلوٹا نے موسیقار اے آر رحمان کو ایک حیران کن صلاح دی ہے۔ انہوں نے ایک ویب سائٹ سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اگر رحمان کو لگتا ہے کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے انہیں فلموں میں موسیقی دینے کا کام نہیں مل رہا، تو وہ دوبارہ ہندو مذہب اختیار کریں اور پھر کوشش کر کے دیکھیں۔ انوپ جلوٹا نے رحمان کے پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اے آر رحمان پہلے ہندو تھے اور بعد میں انہوں نے اسلام قبول کیا۔ اس کے باوجود انہوں نے موسیقی کی دنیا میں بہت کام کیا، نام کمایا اور لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی۔ لیکن اگر اب رحمان کو یہ یقین ہے کہ ان کے مذہب کی وجہ سے مواقع کم ہو رہے ہیں تو انہیں اپنے پرانے مذہب کو اپنانے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:’’مجھے مراٹھی بولنے پر مجبورنہ کریں۔‘‘ زبان کے تنازع کے بیچ سنیل شیٹی کا سخت ردِعمل
غزل اور بھجن گلوکار جلوٹا نے کہا کہ اگر انہیں واقعی یہ یقین ہے کہ ہمارے ملک میں مسلمان ہونے کی وجہ سے انہیں فلموں میں موسیقی دینے کا کام نہیں مل رہا تو وہ دوبارہ ہندو بن جائیں۔ پھر انہیں یہ یقین ہونا چاہیے کہ ہندو بننے کے بعد انہیں دوبارہ فلمیں ملنا شروع ہو جائیں گی۔ یہی رحمان کے بیان کا خلاصہ ہے۔ اس لیے میرا مشورہ ہے کہ وہ ہندو بن کر آزما کر دیکھیں کہ آیا انہیں دوبارہ فلمی پروجیکٹس ملتے ہیں یا نہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:مجھے اپنے چند منتخب شاٹس پر ہی پورا اعتماد ہے: ابھیشیک
واضح رہے کہ اے آر رحمان نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ گزشتہ ۸؍ برسوں میں فلم انڈسٹری میں ان کے کام میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کی وجہ ’پاور شفٹ‘ کو بتایا، جہاں اب تخلیقی افراد کے بجائے غیر تخلیقی لوگ فیصلے کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اشارہ بھی دیا تھا کہ یہ تبدیلی کسی حد تک ’’فرقہ وارانہ معاملے‘‘ سے بھی جڑی ہو سکتی ہے۔