Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی جی ایل تنازع: کنال کامرا کا رنویر الہبادیا پر شدید حملہ

Updated: March 26, 2026, 4:08 PM IST | Mumbai

کنال کامرا نے رنویر الہبادیا کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے ایک واقعے نے پوری کامیڈی برادری کو متاثر کیا، جبکہ آئی جی ایل تنازع اب بھی قانونی اور سیاسی سطح پر زیر بحث ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہندوستانی کامیڈی اور ڈجیٹل کریئیٹرز کی دنیا میں ایک بار پھر تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے، جب معروف کامیڈین کنال کامرا نے یوٹیوبر رنویر الہبادیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے انڈیاز گوٹ لیٹنٹ (آئی جی ایل) تنازع کو ذاتی فائدے اور توجہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب الہبادیا نے سوشل میڈیا پر اپنے کریئر پر پڑنے والے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’مجھے اور میری ٹیم کو بیئر بائیسپس اور رنویر شو کو بنانے میں ۱۰؍ سال لگے اور ایک واقعے نے اسے بری طرح متاثر کیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ایک سادہ یاد دہانی کہ ترقی میں وقت لگتا ہے، اور اسی طرح تعمیر نو میں بھی وقت لگتا ہے۔‘‘ اس دوران انہوں نے صوفی شاعر کبیر کے کلام کا حوالہ دیتے ہوئے لچک اور صبر کی بات کی۔

تاہم، کنال کامرا نے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا کہ اصل نقصان پوری کامیڈی کمیونٹی نے اٹھایا ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ’’پوری کامیڈی برادری اس وجہ سے متاثر ہوئی کہ آپ کتنے احمق ہیں۔ شوز منسوخ کر دیے گئے، مقامات بند کردیئے گئے، فیصلے کیے گئے، آپ کی حماقت کا قابل رحم سایہ آج بھی مزاحیہ مزاح نگاروں کی زندگیوں کو مشکل بنا رہا ہے۔ آپ نے اس پہلو کو سمجھنے کی بھی پروا نہیں کی۔‘‘ کامرا نے مزید کہا کہ ’’وہ اچھے آدمی ہونے کا بہانہ کرنا بند کریں جو آپ نہیں ہیں۔ اپنا محاسبہ کریں، اپنی نظریں نیچی کریں اور بہت شرمندہ ہوں۔ آپ تخلیقی صلاحیتوں کے لیے مانع حمل ہیں، اس معاملے کو کھینچنا بند کریں اور جو کچھ آپ بہتر کرتے ہیں، وہیں کریں۔‘‘ 

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ’’۳۰؍ سے زائد فنکاروں کو، بشمول مجھے، حکام نے شو میں شرکت کے لیے طلب کیا تھا۔‘‘ واضح رہے کہ یہ تنازع India’s Got Latent کے ایک ایپی سوڈ سے شروع ہوا تھا، جس کی میزبانی سمئے رائنا نے کی تھی۔ اس پروگرام میں آشیش چنچلانی، جسپیرت سنگھ اور اپوروا مکھیجا سمیت کئی مشہور کریئیٹرز شریک تھے۔ ایپی سوڈ کے دوران الہبادیا کے جنسی موضوعات سے متعلق تبصروں کے بعد شدید عوامی ردعمل سامنے آیا۔ اگرچہ اس ایپی سوڈ کو بعد میں ہٹا دیا گیا، لیکن اس کے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے، جس کے نتیجے میں متعدد شکایات اور قانونی کارروائیاں شروع ہوئیں۔

یہ بھی پڑھئے: اکشے اوبیرائے کی ۲۰۲۶ء میں تین بڑی فلمیں ریلیز ہوں گی

یہ معاملہ سوشل میڈیا سے آگے بڑھ کر پارلیمنٹ تک پہنچا، جہاں آن لائن مواد کے ضابطے پر بحث ہوئی۔ حالیہ پیش رفت کے مطابق، کئی فنکاروں کو نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ حکام ڈجیٹل پلیٹ فارمز پر نگرانی سخت کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ تنازع اب صرف دو شخصیات کے درمیان اختلاف نہیں رہا بلکہ ہندوستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی کریئیٹر اکنامی، آزادی اظہار، اور اس کے حدود و ضوابط پر ایک بڑی قومی بحث کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK