مرکزی حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کرکے حکم دیا ہے کہ ۱۸۰؍دن کے اندر انڈین اسٹینڈرڈ ٹائم کولازمی طور پر اپنایا جائے۔
EPAPER
Updated: August 31, 2026, 12:11 PM IST | Agency | New Delhi
مرکزی حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کرکے حکم دیا ہے کہ ۱۸۰؍دن کے اندر انڈین اسٹینڈرڈ ٹائم کولازمی طور پر اپنایا جائے۔
اگلے سال مارچ سے ہندوستان میں تمام اداروں کیلئے قانونی، تجارتی، ڈیجیٹل اور انتظامی امور میں انڈین اسٹینڈرڈ ٹائم(آئی ایس ٹی) کا استعمال لازمی ہوگا۔ مرکزی حکومت کے کنزیومر افیئرز وزارت کی جانب سے لیگل میٹرولوجی (انڈین اسٹینڈرڈ ٹائم) رولز،۲۰۲۶ء کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس ایکٹ کے تحت جاری کیے گئے یہ قوانین گزٹ میں شائع ہونے کے۱۸۰؍ دن بعد نافذ ہوں گے، جس کے باعث مارچ۲۰۲۷ء کے آس پاس سے ’آئی ایس ٹی‘ کا استعمال لازمی ہو جائے گا۔ قوانین کی خلاف ورزی پر ایکٹ کے تحت جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اس نوٹیفکیشن کے تحت تمام قانونی، انتظامی اور سرکاری دستاویزات کیلئے ہندوستانی معیاری وقت( آئی ایس ٹی) کو لازمی وقت کے حوالہ(ٹائم ریفرنس) کے طور پر مقرر کیا گیا ہے، جب تک کہ کسی مخصوص معاملے میں استثنیٰ نہ دیا گیا ہو۔
یہ بھی پڑھئے: سوال پوچھنے پر طلبہ کوکارروائی اور سزا کی دھمکی نہیں دی جاسکتی : جسٹس اجل بھوئیاں
کسی اور وقت کے حوالے کا استعمال نہیں کیا جائے گا
یہ قوانین تجارت، نقل و حمل، عوامی انتظامیہ، قانونی معاہدوں اور مالیاتی امور میں بھی آئی ایس ٹی کو معیاری وقت کے حوالہ کے طور پر مقرر کرتے ہیں۔ سرکاری امور میں آئی ایس ٹی کے علاوہ کسی دوسرے وقت کے حوالے کو استعمال کرنا، ظاہر کرنا یا ریکارڈ کرنا ممنوع ہوگا۔ تاہم، غیر ملکی ٹائم زون کو واضح طور پر ظاہر کرنے یا سائنسی تحقیق، نیویگیشن اور فلکیاتی امور کے لئے دوسرے ٹائم سورسیز کے استعمال کی اجازت ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: میونسپل طلبہ کو آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں کےکیمپس لے جانے کی تجویز منظور
یہ قانون کیوں اہم ہے؟
یہ قوانین اسلئے اہم ہیں کیونکہ آج کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مائیکرو سیکنڈ کی سطح تک وقت کی درستگی پر منحصر ہے۔ پیمنٹ سسٹمز، اسٹاک ایکسچینجز، ٹیلی کام نیٹ ورکس، فائیو جی سروسیز، ڈیجیٹل نیویگیشن، پاور گرڈ اور ڈیٹا سینٹرز کو لین دین کی تصدیق، آپریشنز میں ہم آہنگی اور نیٹ ورک کی قابلِ اعتماد کارکردگی برقرار رکھنے کیلئے ہم آہنگ گھڑیوں (سنکرونائزڈ کلاکس) کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ نوٹیفکیشن وقت کی ہم آہنگی، ’Traceability‘ اور سائبر سیکوریٹی کیلئے ملک گیر نظام قائم کرتا ہے اور درست وقت کو ایک اہم ڈیجیٹل انفراسٹرکچر قرار دیتا ہے۔ ان قوانین کی ایک اور اہم خصوصیت سائبر ریزیلینس یعنی سائبر حملوں سے نمٹنے اور ان کے بعد نظام کو بحال کرنے کی صلاحیت پر زور دینا ہے۔ اداروں کو درست وقت کے سنکرونائزیشن سسٹمز نصب کرنا ہوں گے، اپنے نیٹ ورکس کو اسپوفنگ، جیمنگ اور سائبر حملوں سے محفوظ رکھنا ہوگا، متعدد مجاز ٹائمنگ سورسز کو مربوط کرنا ہوگا اور بلا تعطل کام جاری رکھنے کیلئے ہنگامی نظام بھی برقرار رکھنے ہوں گے، جن میں ضرورت پڑنے پر ’ایٹامک کلاک‘ جیسے متبادل نظام بھی شامل ہو سکتے ہیں۔