شکر کی قیمتوں میں اضافہ مسلسل جاری ہے۔ گزشتہ روز پورے ملک میں شکر کی فی کلو قیمت ریٹیل مارکیٹ میں ۶۰؍ روپے سے زیادہ تھی۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا نظم دیر سے شروع ہوا اور بڑی حد تک بے اثر ہے۔
EPAPER
Updated: August 31, 2026, 4:38 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
شکر کی قیمتوں میں اضافہ مسلسل جاری ہے۔ گزشتہ روز پورے ملک میں شکر کی فی کلو قیمت ریٹیل مارکیٹ میں ۶۰؍ روپے سے زیادہ تھی۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا نظم دیر سے شروع ہوا اور بڑی حد تک بے اثر ہے۔
شکر کی قیمتوں میں اضافہ مسلسل جاری ہے۔ گزشتہ روز پورے ملک میں شکر کی فی کلو قیمت ریٹیل مارکیٹ میں ۶۰؍ روپے سے زیادہ تھی۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا نظم دیر سے شروع ہوا اور بڑی حد تک بے اثر ہے۔ موجودہ قیمت ایک ماہ پہلے کی قیمت کے مقابلے میں ۳۰؍ فیصد سے زیادہ اور گزشتہ سال میں اسی ماہ کی قیمت سے ۳۸؍ فیصد زیادہ ہے جس کو عام آدمی بھگت رہا ہے جبکہ تہواروں کا موسم قریب آچکا ہے۔ پی ٹی آئی کی خبر کے مطابق دو روز قبل پورے ملک میں کم سے کم قیمت ۴۰؍ روپے اور زیادہ سے زیادہ قیمت ۶۴؍ روپے تھی۔ دہلی میں ۶۲؍ روپے، ممبئی میں ۶۶؍ روپے، چنئی میں ۶۳؍ روپے اور رانچی میں۶۸؍ روپے فی کلو فروخت ہوئی۔ یہ اضافہ اس لئے ناقابل فہم اور ناقابل ہضم ہے کہ پورے ملک میں شکر کی پیداوار زیادہ ہے بہ نسبت اس کی طلب کے۔ ۲۶۔۲۰۲۵ء شکر کی پیداوار ۳۰۶؍ لاکھ ٹن جبکہ اس کی طلب اس سے کم ۲۸۰؍ سے ۲۸۶؍ لاکھ ٹن تھی۔ حکومت کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہوتی کہ طلب اور رسد کے درمیان توازن برقرار رکھنے کیلئے کوشاں رہے۔ اس کی ذمہ داری یہ بھی ہوتی ہے کہ پیداوار پر نگاہ رکھے اور جس سال کم پیداوار کا اندیشہ ہو، سپلائی کی کمی سے نمٹنے کا قبل از وقت منصوبہ بنائے اور اس عمل کو یقینی بنائے۔
یہ بھی پڑھئے:’’کھیلو انڈیا‘‘ سے پہلے کھیلو اسکول، کھیلو کالج
ملک میں کسانوں کی خستہ حالی، ان پر قرض کا بوجھ، ناکافی بارش کی وجہ سے پریشانیاں اور ان کے مالی مسائل کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ اس ملک کا کسان تسلسل کے ساتھ کئی برسوں سے اپنے مسائل کے لئے حکومت سے فریاد کر رہا ہے۔ ان میں گنا اگانے والے کسان بھی شامل ہیں۔ شکر کی پیداوار، ملک کو درکار مقدار سے زیادہ ہو تب بھی یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ پچھلے سال سے کم ہے یا زیادہ۔ گزشتہ سال گنے کی پیداوار کم تھی۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ انڈین ایکسپریس کی ایک خبر کے مطابق مہاراشٹر اور یوپی کے شکر کارخانے الرٹ کر رہے تھے۔ ان کی تشویش فروری میں منظر عام پر آچکی تھی۔ حکومت نے اس سے پیدا ہونے والے مسائل بالخصوص خردہ بازار میں شکر کی مہنگائی کو سمجھنے میں غلطی کی۔ حکومت حرکت میں آئی مئی میں، جب اس نے ایکسپورٹ پر پابندی لگائی اور اندرون ملک شکر کی سپلائی کو منظم کرنے کیلئے ضروری یدایات دیں مگر تب تک کافی دیر ہوچکی تھی۔ اخبار مذکور نے صاف لفظوں میں لکھا ہے کہ اگر حکومت گنے کی قیمت کے علاوہ یہ بھی طے کرتی ہے کہ شکر مل یا شکر کارخانہ اوپن مارکیٹ میں کتنی مقدار فروخت کر سکتا ہے یعنی جب سب کچھ حکومت کے کنٹرول میں ہے تو شکر کی قلت اور مہنگائی کو بھی حکومت کی پالیسی کا نتیجہ قرار دینا چاہئے۔ مگر حکومتیں مانتی کم اور منواتی زیادہ ہیں۔ شکر کے بحران کا ایک زاویہ اتھنال سے متعلق بھی ہے۔ ہرچند کہ اب ایسی تھیوریز بھی سامنے آرہی ہیں جن میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ شکر کی قلت کا سبب اتھنال نہیں ہے مگر اپوزیشن پارٹیوں کا الزام ہے کہ حکومت نے ۲۵؍ لاکھ ٹن گنا اتھنال سازی کیلئے استعمال ہونے دیا جس سے شکر بن سکتی تھی۔ گزشتہ دنوں رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ گنا اتھنال بنانے کیلئے استعمال ہوا جس سے شکر کی قیمت بڑھی اور اتھنال بننے اور پیٹرول میں ملائے جانے سے گاڑیاں خراب ہوئیں، یہ دوہری مار ہے۔