یکم ستمبر ۲۰۲۶ء کو جان ٹرنَس ایپل کے نئے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) کا عہدہ سنبھالیں گے، جس کے ساتھ ٹم کُک کا کمپنی کی سربراہی میں ۱۵؍ سالہ دور ختم ہوجائے گا۔ٹم کُک اب ایپل کے ایگزیکٹیو چیئرمین کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔
EPAPER
Updated: August 31, 2026, 5:00 PM IST | New York
یکم ستمبر ۲۰۲۶ء کو جان ٹرنَس ایپل کے نئے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) کا عہدہ سنبھالیں گے، جس کے ساتھ ٹم کُک کا کمپنی کی سربراہی میں ۱۵؍ سالہ دور ختم ہوجائے گا۔ٹم کُک اب ایپل کے ایگزیکٹیو چیئرمین کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔
یکم ستمبر ۲۰۲۶ء کو جان ٹرنَس ایپل کے نئے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) کا عہدہ سنبھالیں گے، جس کے ساتھ ٹم کُک کا کمپنی کی سربراہی میں ۱۵؍ سالہ دور ختم ہوجائے گا۔ٹم کُک اب ایپل کے ایگزیکٹیو چیئرمین کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔ ایپل کے مطابق یہ جانشینی طویل مدتی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے اور بورڈ آف ڈائریکٹرز نے متفقہ طور پر اس کی منظوری دی ہے۔
اس تبدیلی کا وقت انتہائی اہم ہے۔ سی ای او بننے کے صرف ۸؍ دن بعد ٹرنَس سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ ایپل کے اسٹیج پر اپنی پہلی بڑی پروڈکٹ تقریب میں شرکت کریں گے۔ اس تقریب کی ممکنہ سب سے بڑی پیشکش: طویل عرصے سے زیرِ بحث ایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون ہوسکتا ہے۔ جان ٹرنَس عام سلیکون ویلی سی ای او کی روایتی تصویر سے تقریباً بالکل مختلف ہیں۔ وہ مارکیٹنگ ایگزیکٹیو کے بجائے ایک انجینئر ہیں۔ انہوں نے ۲۰۰۱ء میں ایپل میں شمولیت اختیار کی اور رفتہ رفتہ کمپنی کے سب سے سینئر ہارڈویئر ماہرین میں شامل ہوگئے۔
انہوں نے ایپل کی ہارڈویئر انجینئرنگ کے کئی اہم شعبوں کی نگرانی کی، جن میں میک، آئی پیڈ، آئی فون اور ایپل واچ شامل ہیں۔ امریکی ٹیکنالوجی میڈیا انہیں ایپل کی ہارڈویئر ترقی میں ایک اہم شخصیت قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ میک جیسے پروڈکٹس کی بحالی میں بھی ان کا مرکزی کردار رہا ہے۔۲۰۲۱ءمیں انہیں ایپل کا سینئر نائب صدر برائے ہارڈویئر انجینئرنگ مقرر کیا گیا تھا۔ یہ جانشینی اس لیے بھی اہم ہے کہ ایپل اب آپریشنز اور سپلائی چین پر زیادہ توجہ رکھنے والے سی ای او سے ایک ایسے سی ای او کی جانب بڑھ رہا ہے جس کا بنیادی پس منظر پروڈکٹ اور انجینئرنگ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:میوزک ڈائریکٹر کھیم چند پرکاش کی پانچویں دہائی میں فلم سنگیت پر حکمرانی تھی
ٹم کُک کی سب سے بڑی طاقت ایپل کے وسیع کاروباری نظام کو مؤثر انداز میں چلانا رہی۔ مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس، چین، سپلائرز، سروسیز اور مالی کارکردگی۔ ٹرنَس کو یہ پورا نظام ورثے میں مل رہا ہے۔ تاہم، انہیں ایک بالکل مختلف ٹیکنالوجی انڈسٹری کا بھی سامنا ہے۔ گرومین کے مطابق، ٹرنَس کو ایپل کی ڈیزائن ٹیم کو بھی نئی توانائی دینی ہوگی وژن پرو کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا، طویل عرصے سے جاری میموری کی کمی کے مسئلے سے نمٹنا ہوگا، تجارتی رازوں سے متعلق اوپن اے آئی کے خلاف مقدمے کی نگرانی کرنا ہوگی اور ان انجینئرز کو کمپنی میں برقرار رکھنے کی کوشش کرنا ہوگی جو اوپن اے آئی اور دیگر حریف کمپنیوں کا رخ کررہے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹرنَس کو ایپل کی مصنوعی ذہانت (اے آئی ) میں واپسی کی نگرانی کرنا ہوگی اور یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس ٹیکنالوجی کا کتنا حصہ ایپل خود تیار کرے گا۔
یہ سب سے اہم معاملہ ہے۔ ایک لحاظ سے ایپل بڑے پیمانے پر اے آئی استعمال کرنے والی ابتدائی کمپنیوں میں شامل تھا، کیونکہ سیری ۲۰۱۱ء میں متعارف ہوئی تھی۔ تاہم جنریٹو اے آئی کے انقلاب نے یہ واضح کردیا ہے کہ ایپل اپنے حریفوں سے کتنا پیچھے رہ گیا ہے۔ایپل کو سیری کے زیادہ جدید اپ گریڈز میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ گوگل، اوپن اے ائی اور مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں نے جنریٹو اے آئی اور اے آئی ایجنٹس کے میدان میں تیزی سے پیش رفت کی ہے۔ ٹیکنالوجی تجزیہ کار اے آئی کی ترقی اور ایپل کی چین پر انحصار کرنے والی سپلائی چین کو ٹرنَس کے دو بڑے چیلنجز قرار دیتے ہیں۔ ایک تجزیہ کار نے ٹرنَس کو ہارڈویئر کا ماہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب انہیں ایپل کی اے آئی حکمت عملی کو بڑے پیمانے پر آگے بڑھانا ہوگا۔
آئی فون اب بھی ایپل کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ لیکن ٹرنَس کے سامنے بنیادی سوال انتہائی سادہ ہے: اب آگے کیا؟ ۔ تجزیہ کار طویل عرصے سے کہتے رہے ہیں کہ ایپل کو آئی فون سے آگے اپنی مصنوعات اور کاروبار کو متنوع بنانے کی ضرورت ہے۔ گارجین کے مطابق، ٹرنَس پر ایک طرف ایپل کی اے آئی پوزیشن بہتر بنانے اور دوسری طرف کمپنی کو آئی فون پر انحصار سے نکالنے کا دباؤ ہوگا۔
کمپنی نے وژن پرو ، سروسیز، ویئرایبلز اور دیگر شعبوں میں تجربات کیے ہیں، لیکن اب تک ان میں سے کوئی بھی آئی فون جیسی بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکا۔ اسی لیے فولڈ ایبل آئی فون کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ جب بھی یہ مارکیٹ میں آتا ہے، تو یہ صرف فون کے ڈیزائن میں تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ ٹرنَس کے لیے یہ پہلا بڑا موقع ہوگا کہ وہ ثابت کریں کہ ایپل اب بھی ایک بالکل نئی پریمیم پروڈکٹ کیٹیگری تخلیق کرسکتا ہے، نہ کہ صرف موجودہ مصنوعات کو بہتر بنا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مارچ ۲۰۲۷ء سے ملک کے تمام اداروں میں ’آئی ایس ٹی‘ پر عمل درآمد لازمی
ٹم کُک نے چین کو ایپل کے لیے مینوفیکچرنگ کا ایک بڑا مرکز بنایا، لیکن اسی کے ساتھ ایپل کا چین پر انحصار بھی گہرا ہوگیا۔ اب ٹرنَس کو اس حوالے سے ایک مشکل توازن قائم کرنا ہوگا۔ایپل کو چینی مینوفیکچرنگ، چینی سپلائرز اور چینی صارفین کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی، برآمدی پابندیاں، ٹیرف اور بیجنگ کی جانب سے مقامی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کی کوششیں جغرافیائی سیاسی خطرات پیدا کررہی ہیں۔ روئٹرز نے ایپل کی چین پر مبنی سپلائی چین کو ٹرنَس کے سامنے موجود بڑے مسائل میں سے ایک قرار دیا ہے۔ مسئلہ صرف فیکٹریوں کو چین سے ہندوستان، ویتنام یا کسی دوسرے ملک منتقل کرنا نہیں ہے۔ ایپل کی سپلائی چین سپلائرز، آلات تیار کرنے والے ماہرین، ہنرمند کارکنوں اور مختلف پرزہ ساز کمپنیوں پر مشتمل ایک انتہائی پیچیدہ نظام ہے۔ ٹرنَس ایپل کو محض ’چین چھوڑنے‘ کا حکم نہیں دے سکتے۔ انہیں ایپل کو چین سے کم متاثر ہونے والی کمپنی بنانا ہوگا، لیکن ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ایپل کی مصنوعات بہت زیادہ مہنگی یا کم مؤثر نہ ہوجائیں۔