ای ۲۰؍ اسی قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے جس قیمت پر پہلے پیٹرول فروخت ہوتا تھا۔ کم توانائی رکھنے والا ایندھن اگر اسی قیمت پر فروخت کیا جائے تو یہ دراصل صارف سے دھوکہ ہے۔
EPAPER
Updated: August 31, 2026, 4:30 PM IST | Santosh Kumar PK | Mumbai
ای ۲۰؍ اسی قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے جس قیمت پر پہلے پیٹرول فروخت ہوتا تھا۔ کم توانائی رکھنے والا ایندھن اگر اسی قیمت پر فروخت کیا جائے تو یہ دراصل صارف سے دھوکہ ہے۔
ہندوستان نے ۲۰۲۵ء میں ہی پیٹرول میں ۲۰؍ فیصد اتھنال کی آمیزش کا ہدف حاصل کر لیا ہے حالانکہ اس ہدف کی آخری تاریخ پہلے ہی ایک مرتبہ پانچ سال آگے بڑھائی جا چکی تھی۔ اپریل ۲۰۲۶ء تک ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر ای ۲۰؍ یعنی ۲۰؍ فیصد اتھنال ملا پیٹرول عام ایندھن بن چکا تھا۔ حکومت کے مقرر کردہ ہدف کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اتھنال بلینڈیڈ پیٹرول پروگرام گزشتہ ایک دہائی کی کامیاب ترین صنعتی پالیسیوں میں شمار کیا جاسکتا ہے لیکن شاید اسی کامیابی کی وجہ سے اب اس پالیسی کا زیادہ سخت اور غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اصل سوال صرف یہ نہیں ہے کہ ای ۲۰؍ استعمال کرنے سے گاڑیوں کے انجن کو نقصان پہنچتا ہے یا پیٹرول کی کھپت بڑھتی ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ اس آمیزش کی قیمت آخر کون ادا کر رہا ہے؟ اس سے حاصل ہونے والا فائدہ کس کی جیب میں جا رہا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جس کسان کو اس پورے پروگرام کا اخلاقی اور معاشی جواز قرار دیا گیا تھا، وہ فائدہ اٹھانے والوں کی قطار میں آخر کہاں کھڑا ہے؟ حکومت کے اعداد و شمار بظاہر متاثر کن ہیں۔ وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس کے مطابق ۲۰۱۴ء سے اب تک اتھنال آمیزش کے باعث ۱ء۹۷؍ لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے زرمبادلہ کی بچت ہوئی ہے۔ تقریباً ۳۱۶؍ لاکھ میٹرک ٹن خام تیل کی جگہ اتھنال نے لی، ۹۵۲؍ لاکھ میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے بچاؤ ہوا اور کسانوں کی معیشت میں ۱ء۶۶؍ لاکھ کروڑ روپے پہنچے۔ فروری ۲۰۲۶ء کے بعد جب مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں ۷۰؍ سے ۸۰؍ فیصد تک اضافہ ہوا اور بھارتی باسکٹ خام تیل کی قیمت تقریباً ۱۳۵؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، اس وقت بھی اتھنال تقریباً ۷۰؍ روپے فی لیٹر کی مقررہ انتظامی قیمت پر دستیاب تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ایک غیر ملکی صحافی کے سوالات اور میرے جوابات
جولائی میں لوک سبھا میں دئیے گئے ایک تحریری جواب میں حکومت نے بتایا کہ موجودہ سپلائی سال میں اتھنال کی اوسط ’’ایکس‘‘ مِل قیمت ۶۶؍ روپے فی لیٹر ہے جبکہ جی ایس ٹی اور مال برداری سمیت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لئے اس کی ترسیلی لاگت تقریباً ۷۱؍ روپے فی لیٹر رہی۔ مکئی سے تیار ہونے والے اتھنال کی ایکس مل قیمت ۷۱ء۸۶؍ روپے فی لیٹر ہے۔ عام حالات میں جب خام تیل کی قیمت بہت زیادہ نہ ہو، یہ قیمت اس پیٹرول کو ریفائن کرنے کی لاگت سے خاصی زیادہ ہے جس کی جگہ اتھنال استعمال کیا جا رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اتھنال کی آمیزش اب لاگت کم کرنے والی سرگرمی نہیں رہی بلکہ ایسی سرگرمی بن گئی ہے جس میں اضافی لاگت شامل ہے اور جو جنگ یا عالمی بحران کے دوران ہی نسبتاً سستی دکھائی دیتی ہے لیکن اس کا دوہرا بوجھ صارف پر پڑتا ہے۔
اتھنال میں پیٹرول کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی کم توانائی ہوتی ہے۔ وزارت پیٹرولیم خود تسلیم کرتی ہے کہ اس ایندھن کی وجہ سے انجن کی کارکردگی میں ۳؍ سے ۵؍ فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔ اس کے باوجود ای ۲۰؍ اسی قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے جس قیمت پر پہلے پیٹرول فروخت ہوتا تھا۔ کم توانائی رکھنے والا ایندھن اگر اسی قیمت پر فروخت کیا جائے تو یہ دراصل صارف سے دھوکہ ہے۔ آج تک حکومت نے یا متعلقہ وزارت نے ای ۲۰؍ کے ایک لیٹر کی مکمل لاگت کا کوئی تفصیلی حساب عوام کے سامنے پیش نہیں کیا۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ پیٹرول کی ڈپو کوسٹ کیا ہے، بلینڈنگ کی لاگت کتنی ہے اور دونوں اجزا پر کتنا ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ جب تک یہ تفصیلات سامنے نہیں آتیں، یہ جانچنا ممکن نہیں کہ ای ۲۰ ؍ واقعی روایتی پیٹرول سے مہنگا پڑتا ہے یا نہیں، اور اگر پڑتا ہے تو اضافی رقم آخر کس کی جیب میں جا رہی ہے؟
یہ بھی پڑھئے:تنازعات میں بہترین رویے کی جستجو
کسانوں کو فائدہ پہنچانے کا دعویٰ بھی اتنا مضبوط نہیں جتنا سرکاری اعداد و شمار سے دکھائی دیتا ہے۔ حکومت کی جانب سے بتائی جانے والی ۱ء۶۶؍ لاکھ کروڑ روپے کی رقم براہ راست کسانوں کو ادا نہیں کی جاتی۔ یہ رقم ڈِسٹلریوں اور شوگر ملوں کو ملتی ہے اور وہاں سے اسے کسان تک پہنچنا ہوتا ہے۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہو رہا ہے؟ دستیاب زرعی اعداد و شمار اس سوال کا جواب خاصا پریشان کن انداز میں دیتے ہیں۔ وزارت زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ ۲۰۲۵ء سے اگست ۲۰۲۶ء تک ہر ماہ مکئی کی اوسط منڈی قیمت کم از کم امدادی قیمت یعنی ایم ایس پی سے نیچے رہی۔ یہ وہی فصل ہے جس کی پیداوار بڑھانے کے لئے کسانوں کو اتھنال کی بڑھتی ہوئی طلب کا حوالہ دیا گیا تھا۔ خریف مکئی کا رقبہ بڑھ کر تقریباً ۹۵؍ لاکھ ہیکٹر تک پہنچ گیا لیکن طلب اس رفتار سے نہیں بڑھی۔ اس کی ایک وجہ حکومت کی اپنی پالیسی بھی ہے۔ اتھنال سپلائی سال میں اناج سے حاصل ہونے والا اتھنال مجموعی مختص مقدار کا تقریباً ۷۲؍ فیصد ہے، جبکہ گنے سے حاصل ہونے والا اتھنال تقریباً ۲۸؍ فیصد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہندوستان کو واپس ای زیرو یعنی مکمل طور پر اتھنال سے پاک پیٹرول کی طرف چلے جانا چاہئے۔ اتھنال کے توانائی کے تحفظ، درآمدی خام تیل پر انحصار کم کرنے اور کاربن اخراج گھٹانے کے فوائد حقیقی ہیں۔ مسئلہ پالیسی کے بنیادی تصور میں نہیں بلکہ اس کے ڈیزائن اور تقسیم کے طریقہ کار میں ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس پروگرام میں چند بنیادی اصلاحات کی جائیں۔
سب سے پہلے حکومت کو ایک لیٹر ای ۲۰؍ کی مکمل لاگت عوام کے سامنے رکھنی چاہئے اور ہر سال اس پروگرام کے مجموعی فائدے اور نقصان کا آزادانہ آڈٹ ہونا چاہئے۔ نیتی آیوگ کی سفارش کے مطابق موٹر سوار کے لئے ایندھن کی توانائی کے حساب سے لاگت کو غیر جانبدار بنایا جائے، یعنی کم مائلیج کا بوجھ صارف پر نہ ڈالا جائے۔ دوسرا، مختلف خام مال کیلئے مقرر کردہ انتظامی قیمتوں کی جگہ ایسا فارمولہ اختیار کیا جائے جو پیٹرول کی عالمی تجارتی قیمت سے منسلک ہو اور اگر سبسیڈی دینی ہو تو اسے واضح طور پر بجٹ میں دکھایا جائے۔ تیسرا، ایف سی آئی کے اضافی چاول کو ڈسٹلریوں کیلئے سستا کرکے کسانوں کو مکئی کی پیداوار بڑھانے کی ترغیب دینا ایک دوسرے سے متصادم پالیسی ہے۔ چوتھا، گنے کے کسانوں کیلئے آمدنی میں باقاعدہ حصہ داری کا قانونی نظام بنایا جائے تاکہ اتھنال سے ہونے والی اضافی آمدنی کا ایک متعین حصہ براہ راست گنے کے کاشتکار تک پہنچے۔ جس پروگرام کا سب سے بڑا اخلاقی جواز کسان کی خوشحالی کو قرار دیا گیا تھا، اس کی کامیابی کا اصل پیمانہ بھی یہی ہونا چاہئے کہ کھیت اور منڈی کے درمیان کسان کو کیا ملا۔ اگر پیٹرول میں پانچواں حصہ اتھنال کا شامل ہوگیا ہے تو اب اس پالیسی کے حساب کتاب میں بھی کسان کا حصہ پانچواں نہیں تو کم از کم نمایاں ضرور ہونا چاہئے۔