Updated: June 22, 2026, 5:02 PM IST
| Mumbai
ہدایت کار امتیاز علی کی دورانیہ رومانوی فلم ’’مَیں واپس آؤں گا‘‘ نے سست آغاز کے باوجود باکس آفس پر حیران کن واپسی کرتے ہوئے دوسرے ویک اینڈ میں زبردست چھلانگ لگائی ہے۔ دلجیت دوسانجھ، نصیرالدین شاہ، ویدانگ رائنا اور شروری کی اداکاری سے مزین اس فلم نے دسویں روز ۷۵ء۵؍ کروڑ روپے کمائے، جو اب تک کی سب سے زیادہ یومیہ کمائی ہے۔
فلم ’’مَیں واپس آؤں گا‘‘ کا پوسٹر۔ تصویر: آئی این این
ہدایت کار امتیاز علی کی فلم ’’مَیں واپس آؤں گا‘‘ باکس آفس پر ایک غیر متوقع کامیابی کی کہانی بنتی جا رہی ہے۔ ۱۲؍ جون کو ریلیز ہونے والی اس فلم نے ابتدا میں انتہائی سست آغاز کیا تھا، تاہم ناظرین کے مثبت ردعمل اور مضبوط زبانی تشہیر (Word of Mouth) کے باعث فلم نے دوسرے ہفتے میں شاندار رفتار حاصل کر لی ہے۔ تجارتی ویب سائٹ Sacnilk کے مطابق فلم نے اپنے دسویں دن یعنی اتوار کو ۷۵ء۵؍ کروڑ روپے نیٹ کمائے، جو ریلیز کے بعد سے اس کی سب سے زیادہ ایک روزہ کمائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی فلم کا مجموعی ہندوستانی نیٹ کلیکشن ۲۹؍ کروڑ روپے تک پہنچ گیا، جبکہ ہندوستانی گراس کلیکشن ۳۴؍ کروڑ روپے کے قریب ہے۔ فلم کے لیے دوسرا ویک اینڈ انتہائی اہم ثابت ہوا۔ جمعہ کو فلم نے ۹۰ء۱؍ کروڑ روپے کمائے، ہفتہ کو کمائی بڑھ کر ۳۵ء۴؍ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ اتوار کو مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔ صرف تین دنوں میں فلم نے تقریباً ۱۲؍ کروڑ روپے سے زائد کا کاروبار کیا، جو اس کے پہلے ویک اینڈ کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط کارکردگی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’کاک ٹیل ۲‘‘ کا پہلے ہفتے ۷۶؍ کروڑ کا کاروبار
قابل ذکر بات یہ ہے کہ فلم کے شوز کی تعداد ابتدائی دنوں میں کم کر دی گئی تھی۔ ریلیز کے پہلے دن فلم ۲۳۰۲؍ شوز میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی، لیکن کمزور اوپننگ کے بعد کئی سنیما گھروں نے اس کی جگہ دیگر فلموں کو دینا شروع کر دی۔ بعد ازاں مثبت ردعمل سامنے آنے کے بعد سنیما مالکان نے دوبارہ فلم کے شوز میں اضافہ کیا اور اتوار تک اس کی اسکرین گنتی بڑھ کر ۱۹۷۱؍ شوز تک پہنچ گئی۔ پہلے ہفتے کے دوران فلم نے ۱۸؍ کروڑ روپے سے کم کا کاروبار کیا تھا، لیکن دوسرے ہفتے میں اس کی رفتار مسلسل بہتر ہوتی گئی۔ پیر سے جمعرات تک فلم کی کمائی میں روزانہ اضافہ دیکھا گیا، جس نے اس بات کا اشارہ دیا کہ فلم ناظرین کے درمیان مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دپیکا کی وجہ سے رنبیرنے ’’کاک ٹیل ‘‘ میں کام سے انکار کردیا تھا: سیف علی خان
فلم نے اس دوران کئی دیگر ہندی ریلیز کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ان میں انوراگ کشیپ اور بوبی دیول کی ’’بندر‘‘ اوررام چرن اور جھانوی کپور کی ہندی ڈب فلم ’’پیدی‘‘اور دیگر متعدد فلمیں شامل ہیں۔ عالمی سطح پر بھی فلم کی کارکردگی حوصلہ افزا رہی ہے۔ بیرون ملک مارکیٹس سے ۷۵ء۱۱؍ کروڑ روپے کی کمائی کے بعد ’’مَیں واپس آؤں گا‘‘ کا دنیا بھر میں مجموعی کاروبار ۷۵ء۴۰؍ کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ فلم کی کہانی ایک معمر پاکستانی تارک وطن کے گرد گھومتی ہے، جس کا کردار نصیرالدین شاہ نے ادا کیا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں اپنے آبائی شہر سرگودھا واپس جانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان کے پوتے نراویر، جس کا کردار دلجیت دوسانجھ نے نبھایا ہے، اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کا سفر کرتا ہے اور تقسیم ہند کے بعد ادھوری رہ جانے والی یادوں اور رشتوں سے روبرو ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یش چوپڑا نےفلم’نوری‘ فلاپ سمجھ کر بنائی تھی لیکن وہ سپرہٹ ثابت ہوئی
فلم میں دلجیت دوسانجھ اور نصیرالدین شاہ کے علاوہ شروری، ویدانگ رائنا، ڈولی اہلووالیہ، سنجے سوری، انجنا سکھانی، منیش چودھری، رجت کپور اور بنیتا سندھو بھی اہم کرداروں میں نظر آ رہے ہیں۔ فلمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’’مَیں واپس آؤں گا‘‘ اس سال کی ان نادر فلموں میں شامل ہو سکتی ہے جنہوں نے کمزور اوپننگ کے باوجود مضبوط مواد کی بنیاد پر طویل دوڑ لگائی۔ اب فلم کے اگلے ہدف سری رام راگھون کی ’’اکیس‘‘ اور وویک سونی کی ’’چاند میرا دل‘‘ کے کلیکشن کو پیچھے چھوڑنا ہیں، جو باکس آفس پر ۲۷؍ سے ۲۸؍ کروڑ روپے کے درمیان کاروبار کر چکی ہیں۔